ملتان (سٹاف رپورٹر) چیئرمین پاکستان بزنس فورم پنجاب ملک طلعت سہیل نے نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے روایتی کمپیوٹر ڈیٹابجٹ پیش کیا،رواں مالی سال کے لیے جون 2025 میں پیش کردہ بجٹ کے تمام تخمینوں کے حصول میں ناکامی کے بعد پاکستان بزنس فورم تواتر سے حکومت کو آگاہ اور مشورہ دیتا رہا ہے کہ کاروباری طبقے کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملیت پسند بجٹ بنانے سے ریونیو میں اضافہ کر کے معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر حکومت نے روایتی طریقے سے اعدادو شمارکے ہیر پھیر سے کام لیا،انہوں نے کہا کہ حکومت نے زراعت میں ویلیو ایڈیشن کے لیے تمام مشینری پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی، لیکن مقامی کاشتکار تب اس سے استفادہ کر سکے گا کہ جب زرعی شعبہ کی کاروباری لاگت کم ہوگی، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں حکومتی اخراجات میں کمی نہیں کی گئی جو نہایت ضروری ہے،انہوں نے کہا پاکستان بزنس فورم کی تجاویز کے تحت سپر ٹیکس کا جزوی خاتمہ، سولر انرجی پر پالیسی کو برقرار رکھنا، پٹرول امپورٹبل میں کمی کرنے کے لیے ہائبرڈاور ای وی گاڑیوں کی رعایتی امپورٹ پالیسی میں تبدیلی نہ کرنا، تنخواہ دار طبقے کی آمدنی میں ٹیکس کی کمی، تاجروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم کا اجرا، رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسز میں کمی احسن اقدامات ہیں۔