کراچی ( اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی سینیٹ کا 11؍ واں اور بطور وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین کے ٹینور کاآخری سینیٹ اجلاس گزشتہ روز جامعہ کے سینیٹ ہال میں منعقد ہوا جس کی صدارت پرو چانسلر اوروزیر جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے کی۔ پرو چانسلر اسماعیل راہو نے وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین کی قیادت میں جامعہ کے مالی انتظامات کو سراہا ۔ سینیٹ اجلاس میں مالی سال 2026-27ء کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی جبکہ بیرونی آڈیٹر کی تقرری، پنشن فنڈ سے متعلق ایکروئل رپورٹ اور جامعہ کی سالانہ رپورٹ برائے 2025-26ء بھی اجلاس میں پیش کی گئی، جس پر غور کرنے کے بعد ایوان نے منظوری دے دی۔ بجٹ تخمینے موجودہ سال کی سرکاری گرانٹس کی تقسیم کو برقرار رکھتے ہوئے تجویز کیے گئے جبکہ تنخواہوں اور پنشن میں بالترتیب 15فیصد اور 10فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ۔ یونیورسٹی کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ 903ملین روپے لگایا گیا ہے۔ تنخواہ کے علاوہ بڑے اخراجات کو بھی داؤد یونیورسٹی نے اپنے وسائل کے تحت رکھا ۔ جبکہ انڈاومنٹ فنڈ کی وصولیوں سے اسکالرشپ پروگرام کیلئے 88ملین روپے، پنشن فنڈ کی شراکت، کمیوٹیشن ادائیگیوں، تحقیق اور لیبارٹریز کو مضبوط بنانے کیلئے 210ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انڈاؤمنٹ فنڈ میں 90ملین روپے کی شراکت کے بعد متوقع اضافی رقم 200ملین روپے ہے۔