واقعۂ کربلا صبرو استقامت، جرأت و بہادری، عزم و حوصلے اور ذات الٰہی پر کامل یقین کی وہ لازوال داستان ہے، جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ نواسۂ رسول، حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے میدانِ کربلا میں جس ہمّت و عزیمت کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک حق و صداقت کے متوالوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اس عظیم قربانی نے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے کلمۂ حق بلند کرنے کا وہ درس دیا، جو انسانی ضمیر کو ہمیشہ بے دار رکھے گا۔ نیز، واقعۂ کربلا کی لازوال قربانی نے اردو اور فارسی ادب کو جو شعری سرمایہ عطا کیا ہے، وہ بھی ایک بے مثال شاہ کار ہے۔ اس عظیم سانحے نے شعراء کو ایسے الفاظ اور استعارے بخشے، جو رہتی دنیا تک انسانیت کے جذبہِ حق و صداقت کو بے دار رکھیں گے۔
ادبِ کربلا کی یہ اصناف اردو شاعری کا انمول اثاثہ ہیں، مثلاً مرثیہ، وہ صنفِ سخن ہے، جس میں شہدائے کربلا کی بہادری، صبر، اور استقامت کو تفصیلاً اور جذبات سے پُرانداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ سلام میں بالخصوص حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا کی عظمت کو سلامِ عقیدت و محبّت کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ نوحہ، غم، درد اور تڑپ سے بھرپور صنفِ سخن ہے، جسے واقعۂ کربلا کے تناظر میں سوز و گداز کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
یہ شہدائے کربلا کی مظلومیت اور اہلِ بیت کے مصائب کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ واقعۂ کربلا کی یاد میں لکھے جانے والے سلام، مرثیوں، نوحوںاور منقبت کی شاعری نے بلاشبہ ادب کو ایک منفرد اور لازوال سرمایہ عطا کیا، خصوصاً میر انیس، مرزا دبیر، جوش ملیح آبادی، علامہ اقبال اور دیگر کئی شعرا نے حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلاؓ کی عظیم قربانیوں کو جس انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا، اپنی مثال آپ ہے۔
برعظیم پاک و ہند میں نوحہ خوانی محض ایک صنفِ سخن نہیں، بلکہ یہ تاریخِ کربلا کے درد، پیغامِ صبر اور ظلم کے خلاف استقامت کو زندہ رکھنے کا ایک بہت بڑا اور موثر ذریعہ ہے، یہاں کے نام وَر نوحہ خوانوں اور شاعروں نے اپنے سوزِ آواز اور فکر انگیز کلام سے اس روایت کو ہمیشہ زندہ رکھا۔
ہر دَور کے شعراء نے اپنے اپنے انداز سے کرب و بلا کے اس عظیم سانحے پر بھرپور روشنی ڈالی اور ان ہی شعراء میں ایک نام عزت لکھنوی کا بھی ہے، جن کا شمار 60تا 80ء کی دہائی کے عظیم ترین اور منفرد نوحہ خوانوں میں ہوتا تھا۔ ان کی پُرسوز شاعری اور آواز، سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑ کر لہجے کا درد، جذبات کی گہرائی اور الفاظ کی ادائی میں ایک روحانی کیفیت پیدا کردیتی۔ یہاں تک کہ نوحہ پڑھنے کے منفرد اندازسے عزاداروں کی آنکھیں اشک بارہوجاتیں۔
عزت لکھنوی کا اصل نام مرزا آغا محمد عزت الزّماں تھا۔ وہ 1932ء کو لکھنؤ کے شہر، محلّہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے اپنے والد، آغا محمد بدیع الزماں سے سوزوسلام اور مرثیہ سنتے آئے تھے۔ اس طرح ان کا یہ روحانی سفر گھر ہی سے شروع ہوا اور انتہائی کم سنی میں سوز خوانی کا شوق اور صلاحیت پیدا ہوگئی۔ کم عمری ہی میں لحن، ادائی اور صوتی اُتار چڑھاؤ کی سمجھ نے اُن کے فن کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے نانا، سیّد میر نواب علی، رکن العزاء کے گھر ہونے والی مجلس میں باقاعد سوز خوانی کرتے۔
زمانۂ طالبِ علمی میں جب لکھنؤ کے کالج میں زیرِ تعلیم تھے، تو وہاں منعقد ہونے والی تقاریب کی ابتدا عزت لکھنوی اپنی آواز میں سورئہ رحمٰن کی تلاوت سے کرتے،جو بے حد پسند کی جاتی۔ اِسی دوران اُس وقت کے مشہور شاعر، شدید لکھنوی کی شاگردی میں طرحی غزلیں اور شعر گوئی کا آغاز کیا۔ ہجرت کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی، جہاں معروف شاعر، وصی فیض آبادی نے اُن کی مشقِ سخن مزید سنوار دی۔
اسی دوران شاعرِاہلِ بیت، شاہد نقوی کا تحریر کردہ نوحہ ’’اب آئے ہو بابا‘‘ جب ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سے ان کی دل سوز آواز میں نشر ہوا، تو انھیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے نعت، غزل، قصیدے، سلام، نوحے اور مرثیے سميت تمام اصنافِ سخن میں خُوب طبع آزمائی کی، جس سے نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں اُن کی آواز کو پسند کیا جانے لگا۔ ایران میں منعقد ہونے والی اردو مجالس میں مسلسل تین سال تک مدعو ہوتے رہے۔ اس دوران بیرونِ ملک بھی سلام و نوحہ خوانی کرتے رہے۔
پی ٹی وی کے ابتٖدائی ایّام ہی سے ’’شامِ غریباں‘‘ کی نشریات میں اُن کا پڑھا ہوا نوحہ ’’کربلا ایک آفتاب اور اس کی تنویریں بہت۔‘‘ نشر کیا جاتا رہا، جسے اب بھی کئی ٹی وی چینلز 10محرم کو نشر کرتے ہیں۔ جب کہ اُن کا تحریر کردہ نوحہ ’’یہ صدایا حسینؓ ‘‘ بے حد مقبول ہے، جو آج بھی محافل و مجالس میں تواتر سے پڑھا جاتا ہے۔ اُن کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ عام عزادار و ماتم دار ہی نہیں، ملک کے نام وَر علمائے کرام بھی اُن سے نوحہ، سلام اور مرثیہ سننے کی فرمائش کرتے اور وہ مرثیہ، سلام یا نعت ہر ایک کو اپنے انداز میں پیش کرتے۔
عزت لکھنوی نے ابتدائی تعلیم مدرسۂ حسینیہ، امام بارگاہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ کچھ عرصہ مدرسہ سلطان المدارس لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے پھر شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وکالت کا آغاز کیا۔ 1955ء میں ان کی شادی ہوئی۔ اگست 1958ء کو بھارت سے ترکِ وطن کرکے کراچی آگئے، جہاں وصی فیض آبادی نے ان کے مشقِ سخن کو سنوارا اور شاہد نقوی نے جِلا بخشی۔
جس کے بعدانھوں نے غزل، قصیدہ، سلام، نوحہ، مرثیہ، نعت، مثنوی، رباعی اور قطعہ تمام اصنافِ سخن میں خُوب جوہر دکھائے۔ اگرچہ وہ ایک قابل وکیل تھے، مگر یہاں کے عدالتی نظام سے دل چسپی نہیں رکھتے تھے، لہٰذا وکالت چھوڑ کر بینکاری کا شعبہ اختیار کرلیا اور کراچی کے ایک معروف بینک سے منسلک ہوگئے۔ 16جنوری 1981کودل کے دورے کے باعث اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔