• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والد کی خدمت و اطاعت: دنیاوی و اُخروی کام یابیوں کا ذریعہ

اولاد کی بہترین پرورش، تعلیم و تربیت اور ترقّی و کام یابی کے لیے ہمہ وقت جدوجہد میں مصروف والد ہی دُنیا کا وہ مخلص ترین شخص ہوتا ہے کہ جو اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں بچّوں کو زمانے کے نشیب و فراز سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ دُنیا کا ہرباپ، چاہے وہ معاشی طور پر کم زورہی کیوں نہ ہو، اپنی اولاد کی خاطراپنی بساط سے بڑھ کرجان توڑ محنت کرتا ہے۔

وہ اپنے بچّوں کی ہر جائز (بعض اوقات ناجائز بھی) خواہشات پوری کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے اور اس مقصد کے لیے چاہے اُسے پہاڑوں کا سینہ چیرنا پڑے یا دریاؤں کا رُخ موڑنا پڑے، ہرگز نہیں ہچکچاتا۔ اُسے کسی صلے کی پروا ہوتی ہے اور نہ کسی انعام کا لالچ، ہاں لالچ ہوتا ہے، تو اپنے بچّےکی ایک مسکان، ایک قلقاری کا، جو پل بھر میں اُس کی دن بَھر کی تھکن اُتار کے رکھ دیتی ہے۔

مذہبِ اسلام میں باپ کو بڑا رتبہ و درجہ حاصل ہے، جب کہ احادیثِ مبارکہ میں باپ کی ناراضی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور باپ کی خوش نودی کو ربِّ تعالیٰ کی خوش نودی قراردیا گیا ہے۔ اگر قرآنِ پاک کے احکامات اور نبیٔ کریمﷺ کے فرمودات کی روشنی میں ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اُس کی اطاعت، فرماں برداری، خدمت اور تعظیم کر کے رضا حاصل کی جائے، تو اللہ پاک کی طرف سے دین و دُنیا دونوں کی کام یابیاں، سعادتیں اور جنّت کی بےشمار نعمتیں نصیب ہو سکتی ہیں۔ باپ کی عظمت کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار ایک نوجوان نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ’’میرے والد نے میرا سارا مال لے لیا ہے۔‘‘

آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اپنے والد کو بُلا کر لاؤ۔‘‘ اُسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کی کہ ’’اے اللہ کےرسول ﷺ ! جب اس لڑکےکا والد آجائے، تو آپﷺ اُس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں، جو اُس نےدل میں کہے اور اُس کے کانوں نے بھی اُن کو نہیں سنا۔‘‘ جب وہ نوجوان اپنے والد کو لے کر آیا، تو نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا۔ ’’آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اُس کا مال چھین لیں؟‘‘ والد نے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہ ﷺ! آپ اُسی سے پوچھ لیں کہ مَیں اس کی پھوپھی، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہیں خرچ کرتا ہوں۔‘‘

نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ ’’پس! حقیقت معلوم ہوگئی۔‘‘ اُس کے بعد آپﷺ نے اُس شخص سے دریافت فرمایا کہ ’’وہ کلمات کیا ہیں، جو تم نے دل میں کہے اور تمہارے کانوں نے بھی اُن کو نہیں سنا؟‘‘ اُس شخص نے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہﷺ جو بات کانوں نے بھی نہیں سُنی، اُس کی اطلاع آپ ﷺ کو ہوگئی؟‘‘ پھر بولا۔ ’’مَیں نے دل میں چند اشعار پڑھے تھے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا۔ ’’وہ اشعار ہمیں بھی سناؤ۔‘‘ اُس شخص نے عرض کیا۔ ’’مَیں نے دل میں یہ کہا تھا کہ مَیں نے تُجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد تیری ہر ذمّےداری اُٹھائی۔

تیرا سب کچھ میری کمائی سے تھا۔ جب کسی رات تجھے کوئی بیماری پیش آگئی، تو مَیں نے رات نہ گزاری مگر سخت بےداری اور بےقراری کےعالم میں، ایسے جیسے کہ بیماری تمہیں نہیں، مُجھے لگی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے تمام شب روتے ہوئے گزار دیتا۔ میرا دل تیری ہلاکت سے ڈرتا رہا، اس کے باوجود کہ مَیں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرّر ہے۔ جب تُواس عُمرکو پہنچ گیا، تو پھر تُو نے میرا بدلہ سخت رُوئی اور سخت گوئی بنالیا، گویا کہ تُو ہی مجھ پر احسان و انعام کررہا ہے۔

اگر تجھ سے میرا حق ادا نہیں ہوسکتا، تو کم از کم اتنا ہی کر لیتا، جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے، تُو نے مُجھے کم از کم پڑوسی کا حق ہی دیا ہوتا۔ میرے ہی مال میں مجھ سے بُخل سے کام نہ لیا ہوتا۔‘‘ نبیٔ کریم ﷺ نےجب یہ سُنا، تو اُس شخص کے بیٹے سے فرمایا کہ’’انت و مالک لا بیک‘‘ (تُو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔‘‘(معارف القرآن)۔ اس واقعے سے پتا چلتا ہے کہ اولاد کے ستائے باپ کے دل سے نکلے الفاظ عرشِ الٰہی تک جا پہنچے اور رحمتِ الٰہی جوش میں آئی۔

عام طور پر اولاد، باپ کے مقابلے میں ماں کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور وہ یہ نہیں جانتی کہ اُس کے والد کو گھر چلانے اوران کی تعلیم وتربیت کا مناسب اہتمام کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ وہ باپ ہی ہوتا ہے، جو اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے خُود بھوکا رہ کر یا روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے، لیکن پوری کوشش کرتا ہے کہ اُس کے بچّوں کو اچھا کھانا پینا، لباس، تعلیم وتربیت میسّر ہو۔

اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور پیارے رسولﷺ کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حُکم کی تعمیل کریں، اُن کی رائے کو ترجیح دیں اور خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو اُن کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئےان سے محبّت واحترام سے پیش آئیں۔ بہ قول شاعر؎ مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خُود بھی وہ جلتا رہا… مَیں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں۔

سنڈے میگزین سے مزید