افشاں نوید
دیہی سندھ کے کچے گھر کے صحن میں بچپن گزارنے والا سلیم، جس کی دُنیا بھینسوں کے باڑے تک محدود تھی، جب دُبئی جانے کے لیے ٹیکسی میں بیٹھا، تو اُس کی بیوی نے صرف اتنا کہا کہ ’’جلدی واپس آجانا؟‘‘ تب سلیم نے نظریں چُرا کر جواب دیا۔ ’’بس! دوچار سال… بچّوں کا مستقبل سنورجائے، تو واپس آ جاؤں گا۔‘‘ باڑا بھی سانجھے کا تھا۔ چچا کے بیٹوں کی روزکی چِخ چِخ نے سلیم کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔
دو وقت کی روٹی کے لالےالگ پڑے تھے۔ پھر اُسے بچّوں کوپڑھانےکا شوق بھی جنون کی حد تک تھا کہ خُود اُس نےجہالت کی بہت دردناک سزا کاٹی تھی۔ ایک بیٹی کی اسکول کی فیس، بیٹے کا بستہ اور کتابیں، دوسری بچّی کا یونی فارم، چوتھے بچّے کی ولادت، مکان کی چھت، بہن کی شادی، بیمارماں کا علاج… ضرورتوں کی ایک طویل فہرست تھی، سووہ کولھو کے بیل کی طرح جُت گیا۔ خاموشی سے اپنی خواہشات کا گلا دبانا اب اُس کی عادت بن چکی تھی۔
وہ دُبئی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں بارہ گھنٹے کھڑا رہتا۔ وِیک اینڈ پر پارٹ ٹائم جاب کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا۔ اس دوران شدید کمردرد ہوتا، پاؤں سُوج جاتے، اہلِ خانہ کی یاد سخت تڑپاتی، لیکن وہ چُپ چاپ سر جُھکائے کام کرتا رہتا اور پھر مہینے کے آخر میں جب تن خواہ ملتی، تو اُس میں سے کچھ جیب خرچ رکھ کر باقی ساری رقم گھر بھیج دیتا۔ اُسے یاد نہیں کہ اُس نے آخری مرتبہ اپنے لیے نئے کپڑے کب خریدے تھے۔ کھانا بھی بس دن میں ایک بار کھاتا کہ مرتبان میں بھوک مٹانے کو گُڑ، چنےدھرے تھے۔
اُسے بس صرف اِس بات کی خوشی تھی کہ گاؤں میں اُس کے بچّے پروان چڑھ رہے تھے،ماں کا علاج اچّھی طرح ہورہا ہے۔ عید آتی، تو ماں بچّوں کو خوشی سے بتاتی کہ ’’ابّا نے زیادہ پیسے بھیجے ہیں، اس بار نئے کپڑے پہن کر گاؤں کے میلے میں بھی جائیں گے۔‘‘ وہ رشتےداروں کو بڑے فخر سے بتاتی۔ ’’وہ پردیس میں بہت محنت کرتے ہیں۔‘‘ مگر اُس پردیسی سلیم کے حصّے میں کیا آیا تھا؟ ایک12×12کا کمرا، جس میں تین اور لڑکے بھی اُس کے ساتھ رہتے تھے۔ اُس نے اپنے آہنی پلنگ کے سرہانے دیوار پر اپنے بچّوں کی تصویریں آویزاں کر رکھی تھیں۔
وہ اُنہیں دیکھ کر کبھی رات کے آخری پہر بہتے آنسو روکنے میں ناکام ہوجاتا۔ بیمار ہوتا، تو خُود ہی کوئی دوا دارو کرلیتا۔ اکثر بخار میں بھی کام پر چلاجاتا۔ وہ گھر والوں سے اپنی بیماری کا ذکر کر کےانہیں پریشانی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا اور اُسے یہ بھی معلوم تھا کہ اگر وہ ایک دن بھی کام پر نہ گیا، تو اُس کی تن خواہ کٹ جائے گی اور پھر اس مہینے بچّوں کی فیس ادا نہ ہو سکے گی۔
یہ صرف ایک پاکستانی باپ کی کہانی نہیں، ہمارےمعاشرے میں لاکھوں باپ اِسی طرح جیتے ہیں۔ وہ بچّوں سے اپنی محبّت کا اظہار الفاظ میں کم کرتے ہیں، مگر اپنی پوری زندگی اولاد کی خاطروقف کردیتے ہیں۔ اپنی جوانی خاندان کے لیے قربان کر کے، اپنی خواہشات کے جنازے اُٹھا کر بچّوں کے خواب پورے کرتے رہتے ہیں۔ بیوی بچّوں سے دُور رہ کر بھی ہر دَم اُن کی آسائشوں سے متعلق سوچتے ہیں۔چاروں طرف بکھری رنگینیوں کے باوجود پاکیزہ زندگی گزارتے ہیں۔
حلال رِزق کماتے ہیں اور کبھی تھک ہارکر ہاتھوں میں سر تھامے نیلگوں فلک پر نظریں گاڑ دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے معاشرے میں کتنے ہی ایسے مَرد دیکھے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کی خاطر اپنی ساری زندگی بیرونِ مُلک گزاردی۔ اُن کے بچّوں نے بہترین اسکولز میں تعلیم حاصل کی، پُرآسائش گھروں میں رہے اور بہترین لباس پہنے، مگر ان بچّوں نے شاید کبھی یہ محسوس ہی نہیں کیا کہ اِن سہولتوں کے پیچھے باپ کی ادھوری نیندیں اور تنہا راتیں دفن ہیں۔
باپ اکثر اپنی محبّت کے اظہار کے طور پر بچّوں سے صرف یہ پوچھتا ہے کہ ’’کیا اور کچھ چاہیے؟‘‘ جب کہ اُسے خُود بہت کچھ چاہیے ہوتا ہے۔ کوئی ایسا شخص، جو اُس کے ساتھ بیٹھ کر چائے کا ایک کپ پیے، اُسے محبّت پاش نظروں سے دیکھے، بیماری اور پریشانی میں اُسے حوصلہ دے اور بڑھاپے میں اُس کے دل کا حال سُنے، مگر وہ کسی سے کوئی تقاضا نہیں کرتا۔ شاید باپ دُنیا کا وہ واحد شخص ہے، جو اولاد سے بھی اپنی محبّت کا صلہ نہیں مانگتا۔
ماں کے گرد جذبات کا ایک ہالہ ہوتا ہے۔ بچّے اس سے لپٹتے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور اس کے آنسو دیکھ لیتے ہیں، جب کہ باپ ان کی پُشت پر موجود ہوتا ہے، خاموش، مضبوط اور ایک سایہ دار درخت کی مانند۔ گھرمیں اے۔ سی چل رہا ہو، فریج، فریزر بَھرے ہوں، بچّوں کی فیسیں وقت پرجمع ہو رہی ہوں، تو اِن سب کے پیچھے باپ کی خاموش محنت اورقربانیاں ہی ہوتی ہیں، لیکن المیہ یہ بھی کہ باپ کی ذمّےداری صرف کفالت ہی تک محدود کیوں ہے؟
ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت عام ہے کہ ’’بچّہ خراب ہوگیا۔ باپ بےچارہ بیرونِ مُلک تھا، ماں اکیلی کیا کیا سنبھالتی؟ ‘‘یہ آدھا سچ ہے۔ یاد رہے، رزق کمانا یقیناً بہت بڑی ذمّےداری ہے، مگر اولاد کی تربیت بھی اُتنی ہی بڑی ذمّےداری ہے۔ اولاد پیسوں سے نہیں، تربیت سے سنورتی ہے۔ بچّے صرف معیاری اسکولز میں تعلیم حاصل کرنے سے اچّھے انسان نہیں بنتے، اُنہیں باپ کی موجودگی اور نگرانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
باپ ساری زندگی درہم اور ڈالرز بھیجتا رہے، مگر اولاد کے دل اور مشاغل تک نہ پہنچ سکے، تو ایک خلا رہ جاتا ہے۔ پھر بچّے باپ کو محض اے ٹی ایم سمجھنے لگتے ہیں، مینٹور نہیں، جب کہ ایک اچّھا باپ، بچّوں کو صرف کھانا اور کپڑے ہی نہیں بلکہ وقت، دینی تربیت، اخلاق اور اپنی قُربت بھی دیتا ہے۔
سلیم جب بیس سال بعد مستقلاً پاکستان واپس آیا، تو اس کے بالوں میں سفیدی اُترآئی تھی۔ بیٹے جوان تھے اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہوچُکی تھیں۔ گھر بھی خُوب صُورت بن گیا تھا۔ چھت پکی تھی، دیواروں میں ٹائلز لگی تھیں، فرنیچر اچّھا تھا، مطلب ضرورت کی ہر چیز موجود تھی، مگر اُس رات سلیم کو عجیب سا محسوس ہوا۔ کھانے کی میز پر سب موجود تھے، مگر گفتگو آپس میں کررہے تھے۔ بیٹوں کی اپنی دُنیا تھی، اپنے موبائل فونز، اپنے دوست، اپنی مصروفیات۔ وہ خاموشی سے سب کو دیکھتا رہا۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اُس نے گھرتوبنا لیا، مگر شاید اس گھر کی کہانی میں اس کا اپنا کردار کہیں رُوپوش ہوگیا ہے۔ اُسی رات اس نے آہستگی سے اپنے بیٹے سے کہا۔’’بیٹا! کل فجر میں میرے ساتھ مسجد چلنا۔‘‘ بیٹے نے چونک کر باپ کی طرف دیکھا۔ شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ باپ نےاُس سے کوئی فرمائش کی تھی۔ اگلی صبح دونوں ساتھ مسجد گئے۔
واپسی پر سلیم مسجد کے باہر چبوترے پر بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔ برسوں کی خاموشی پہلی بار لفظوں میں ڈھلنے لگی۔ پھر اُس نے اپنے بیٹےکو بتایا کہ اُس کے پچھلے بیس برس کیسے بِیتے۔ کیسے ہر عید پر وہ بچّوں کی خوشی کی خاطر خُود تنہائی میں رو لیتا تھا۔ اُسے خاندان سے دُوری کی کیسی کیسی قیمت چُکانی پڑی۔ بیٹا خاموشی سے سُنتا رہا۔
اُس رات جب سلیم ڈرائنگ روم میں داخل ہوا، تو ٹھٹھک کر رہ گیا۔ پورا کمرا پُھولوں اور فیری لائٹس سے سجا ہوا تھا اور دیوار پر بچّوں نےایک بڑا سا ’’وِش کارڈ‘‘ چسپاں کر رکھا تھا، جس پر لکھا تھا۔’’ویلکم ہوم بابا۔‘‘ اور نیچے چھوٹے چھوٹے الفاظ میں تحریر تھا۔’’بابا! اب آپ کہیں نہیں جائیں گے۔‘‘ سلیم نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ کارڈ چُھوا، تو اُس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ بیٹے آہستگی سےاُس کے پاس آئے اور اُس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگے۔ ’’بابا! اگر آپ یہ سب نہ بتاتے، تو شاید ہمیں کبھی پتا ہی نہ چلتا کہ باپ کیسے ہوتے ہیں۔
اچھا ہوا کہ آپ واپس آ گئے۔‘‘ اس لمحے سلیم کو پہلی بار محسوس ہوا کہ اب وہ اپنے بچّوں کے دِلوں میں واپس آگیا ہے اور یہی حقیقی واپسی تھی۔ بیٹیاں بھی آگے بڑھ کر باپ کےگلے لگ گئیں۔ تب بچّوں کی ماں کےچہرے پرایک عجیب سا اطمینان تھا۔ یاد رہے، ’’فادرز ڈے‘‘ صرف تحفے تحائف دینے یا باپ کے ساتھ سیلفیز بنانے کا دن نہیں۔
یہ دن ہمیں یہ یاد دِلاتا ہے کہ ہمارے گھروں میں ایک ایسا رشتہ بھی موجود ہے، جو اپنی محبّت کا اظہار تو کم کرتا ہے، مگر اپنی پوری زندگی کو وفا اور محبّت کی سب سے بڑی دلیل بنا دیتا ہے۔ وہ باپ جو ساری عُمر اولاد سے کچھ نہیں مانگتا، اپنے بڑھاپے میں مگر یہ ضرور چاہتا ہے کہ اُسے’’محسوس‘‘ کیا جائے۔