• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلی ملاقات کی تاریخ یاد نہیں پڑتی۔ پہلی یاد البتہ یُو ای ٹی کے ایک مشاعرے کی ہے۔ بڑے والا آڈیٹوریم ایسا کھچاکھچ بھرا تھا کہ تھالی پھینکو تو سَروں ہی سَروں پر جائے۔ سامعین نے ابھی اچھے سخن کی تحسین میں سیٹی بجانا نہیں سیکھا تھا۔ یہ فنکارانہ بِدعت بعد کی ہے۔ باجے گاجے مشاعرہ گاہ کے باہر ہی تھمانے پڑتے تھے۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ اندر مشاعرہ زوروں پر ہو اور لوگ باہر کھڑے فراٹے کی ہوا کھا رہے ہوں۔ اِسے بدتہذیبی سمجھا جاتا تھا۔ خُدا جھوٹ نہ بُلوائے تو یو ای ٹی کے مشاعروں میں کچھ لڑکے بالے باقاعدہ دِلّی کے بانکوں کی سی صُورت مُورت بنا کر آیا کرتے تھے۔

چکن کا جگرجگر کرتا سُفید کُرتا وہ بھی بیلوں بھرا۔ آڑا پاجاما، جس میں پنڈلی تک چُوڑیاں ہوں، پاؤں میں سلیم شاہی کُھسا، سر پر سلمہ ستارے والی گول مول ٹوپی۔ تیل پھلیل لگائے، منہ میں گلوری دبائے، واہ واہ کرتے۔ ایسے ہی ایک مشاعرے میں، مَیں نے ڈاکٹر خورشید رضوی کو پہلی بار دیکھا، سُنا۔ پھول جھڑ رہے تھے۔ غزل یاد ہے۔ ؎

یہ جو ننگ تھے، یہ جو نام تھے، مجھے کھا گئے

یہ خیالِ پُختہ جو خام تھے، مجھے کھا گئے

وہ نگیں جو خاتمِ زندگی سے پھسل گیا

تو وہی جو میرے غُلام تھے مُجھے کھا گئے

غزل کیا تھی مصرعہ مصرعہ نشتر تھا۔ سامعین لوٹ پوٹ۔ اسٹیج پر تمام شاعرنہال۔ مجھے لگتا تھا،عربی وفارسی کا ایک بڑا صاحبِ علم اورمحقّق جب غزل کہے گا تو تھوڑی بھاری بھرکم تو ہوگی ہی ہوگی، ہم جیسوں سے تو شاید ہی اُٹھ پائے۔ مگر ڈاکٹر خورشید کی غزل بِنا کسی روک ٹوک سیدھی دل میں اُترگئی۔ مشاعرے کے بعد یو ای ٹی والوں نے چائے پلوائی۔ آج تک یاد ہے، دودھ ایسا گاڑھا کہ اُس میں پینسل کھڑی کرلو۔ یہ موٹی ملائی کی تہہ اوپر۔ ہم مشاعرہ گاہ کےعقب میں واقع اسٹاف روم میں یہی چائے، خستہ لوازمات کے ساتھ اللہ عزیز کر رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نمودار ہوئے۔

تب مَیں نے غور سے دیکھا۔ لانبا قد، آنکھیں گہری اورگردو پیش کا مشاہدہ کرتی ہوئی۔ چہرہ ایسا،جوفیشن نے نہیں، برسوں کی سوچ بچارنےتراشا ہو، آنکھوں کے بیرونی کناروں پر مہین خطوط جو خاموشی نے کسی ماہرمصورکی طرح کھینچ رکھے تھے۔ سفید بالوں میں سے جھانکتی کشادہ پیشانی۔ پیچھے کی طرف کنگھی کیے، تجربےکی برف سےچاندی بنے بال۔ چوکور شیشوں کے عقب سے چمکتی ذہین آنکھیں، جوپہلی نگاہ میں کاغذات، مخطوطات اور شخصیات کا اصل متن پڑھنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ پہلی ملاقات میں لگا، یہ صاحب جلدی کے نہیں، صبر کے قائل ہیں۔

ان کی زمان ومکان کےساتھ دوڑنہیں، دوستی ہے۔ بات کرتے ہوئے کبھی کبھار ہاتھ ہلاتے تو لگتا، بات کی زیادہ سمجھ آرہی ہے۔ متانت بھری خاموشی اور وقار سے پُر گفتگو۔اُس ملاقات کی یاد میں اہم ترین یہ ہے کہ ڈاکٹر خورشید رضوی کلام کرتے تو علم حِلم میں اور حِلم علم میں گُھل مِل کر سب سامعین کو ملنے لگتا۔ سچی شیرینی کی کوکھ ہری ہو تو وہ اپنے یاغیر نہیں دیکھتی۔

لڈو ٹُوٹتا ہے تو سبھورا سبھورا سبھی کو ملتا ہے۔ جنہیں ان کا عمیق پن دکھائی نہیں دیتا یا بوجوہ نہیں دیکھنا چاہتے وہ اپنےحواس کاصدقہ دیں۔ میاں! ہوش کے ناخن لو، تمہارا سُخن کی محافل میں کیا کام؟ تم کسی اسٹاک مارکیٹ جاکر تیزی، مندی کا رُجحان ماپو۔

تیزی، مندی سے یاد آیا کہ آج کے زمانے میں بھی کچھ لوگوں کو سود و زیاں کی فکر نہیں ہوتی۔ بس اپنے جنونِ عشق کی لگن ہوتی ہے، جیسےحسنین مظہری جو ہمارے چھوٹے عزیز بھائی ہیں۔ یہ حضرت اُن خوش قسمتوں میں شامل ہیں، جو ڈاکٹر صاحب کے صاحبانِ خلوت کہلاتے ہیں۔ سفر حضر میں خدمت کو حاضر۔ اِدھر آواز لگی، اُدھر حسنین بھائی نمودار ہوئے۔ ’’جی مُرشد! حُکم فرمائیے۔‘‘ ’’ست سنگ‘‘ ہندی میں سچ کے ساتھ ہونے کو کہتے ہیں۔

یہ ایک ایسی محفل ہوتی ہے، جس میں آپ کسی سچے گیانی کے قدموں میں بیٹھتے ہیں اورحواسِ خمسہ کے ساتھ ساتھ چھٹی حِس بلکہ ساتویں آٹھویں کو بھی ہمہ دَم تیار رکھتے ہیں۔ کون جانے کب عنایت کی پھوار پڑنےلگے، نروان کے بتاشے عطا ہونے لگیں۔ رُوح کا وائی فائی رُوئے محبوب کی جانب کُھلا رکھیے، ست سنگ کسی بھی لمحے آپ کی کایا پلٹ سکتا ہے۔ حسنین وائی فائی کُھلا رکھتے ہیں، اسی لیےاُن کے ہاں باغ وبہار کیفیت ہے۔ بتاتے ہیں کہ’’ایک بارمَیں نے کامل ممتاز صاحب کےہاں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا۔ کامل پاکستان کےنام وَر ترین آرکیٹیکٹس میں سے ایک ہیں۔

اُن کے صاحب زادے تیمور ممتاز نے ایک ادارہ بنا رکھا ہے’’ہست و نیست‘‘ کےنام سے۔ نام ہی ایسا شاعرانہ ہے کہ باقی باتیں چھوڑئیے۔ میری ہی نظامت تھی۔ مشاعرے کے آغازسےقبل جونہی ڈاکٹر صاحب مشاعرے کی صدارت کے لیے مشاعرہ گاہ تشریف لائے، مَیں نے اُن کے کچھ محبّتی چاہنے والوں کو اُن کے سامنے لا کھڑا کیا اور تعارف کروایا کہ یہ وہ صاحبان ہیں،جو آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔

یہ سُن کر ہولے سے مُسکرائے اور کہنے لگے۔ ’’بھئی، اب تو ہم یا صدارت کے قابل رہ گئے ہیں یا زیارت کے۔‘‘ایسا ہی ایک اور واقعہ بھی حسنین کے وسیلے ہم تک پہنچا۔ کہنے لگے۔’’آپ جانتے ہی ہیں کہ ڈاکٹر خورشید رضوی دانش ورانہ اور مفکّرانہ طبیعت کے حامل ہیں۔ مَیں جب اُن کے پاس حاضر ہوا، کوئی نئی بات ہی ملی۔ بات اگر روایتی بھی ہوتی تو اُس کی ادائی اور انداز میں کوئی نئی نکور، نرالی جہت محسوس ہوتی، جو اِس سے پہلےکہیں دیکھنے سُننےکو نہ ملی تھی۔ ایک شام مَیں حاضرِخدمت تھا۔ انیس وغالب پر بات چل رہی تھی۔

مَیں نے عرض کیا کہ مُرشد! علم ایک سمندر ہے۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے ایک جملہ عطا کیا کہ مظہری! مَیں یہ محسوس کرتاہوں کہ لاعلمی ایک سمندر ہے۔ ہر انسان کے مجہولات کی تعداد اُس کی معلومات کی تعداد سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اُن اشیاء و مظاہر کی تعداد جنہیں آپ نہیں جانتے، اُن سے بہت زیادہ ہوتی ہے، جنہیں آپ جانتے ہیں۔

اس جُملے نے میرے دل پر ایسی دھڑ دھڑ دستک دی کہ آج تک دل میں بستا ہے۔ اس جملے میں عاجزی بھی ہے اور سیکھنے کی ایسی تمنا و طلب بھی کہ جو کبھی بھرتی نہیں۔ یہ انسان کے اُس زعم کا علاج ہے کہ ہاں ہاں، یہ بھی مَیں نے پڑھ رکھا ہے، وہ بھی مَیں نے پڑھ رکھا ہے۔ اگر انسان یہ سوچے کہ لاعلمی ایک سمندر ہے۔ ابھی تک مَیں نے یہ بھی نہیں پڑھا، وہ بھی نہیں پڑھا، تو اس میں تحیّر و تجسّس کے امکانات کا دروازہ ہمیشہ وا رہتا ہے۔‘‘

ہربرٹ اے۔ آر۔ گب نے عربی ادب پر اپنے شہرۂ آفاق مقدمے میں ایک نہایت معنی خیز بات لکھی ہے کہ ’’عربی ادب کسی ایک قوم کا نہیں، ایک تہذیب کی جاوداں یادگار ہے اور اس کی تعمیر میں ایسے لوگوں نے حصّہ لیا جن کے رنگ، نسل، وطن اور نسب ایک دوسرے سے یک سر جدا تھے۔‘‘ ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف ’’عربی ادب قبل از اسلام‘‘ کے دیباچے میں جب گب کے ان الفاظ کو نقل کیا تو محض گواہی مقصود نہ تھی۔ وہ یقیناً اس بحرِبےکراں کی وسعت کا ممکنہ نقشہ کھینچنا چاہتے تھے، جس کے کنارے آج تک کسی نگاہ نے نہ پوری طرح دیکھے، نہ کوئی آئندہ دیکھ پائےگا۔

اُن کے نزدیک گب کے یہ الفاظ صرف عربی ادب کی عظمت ہی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ اس راز کو بھی کھلم کُھلا آشکار کرتے ہیں کہ آخر یہ ادب اتنا وسیع، اتنا رنگارنگ اور اتنا ہمہ گیر کیوں ہے۔ ایک بار ہم جہلم کے مشاعرے سے لَوٹ رہے تھے۔ مشاعرہ ہمارے برادرِ عزیز سید میثم عباس کے شان دار اہتمام کا شعری ثبوت تھا۔ میثم سخن شناس تو ہیں ہی، مگر افسری کی چمکتی دمکتی خلعت کے اندر درویشی کی کھدر سے بنا جُبہ چُھپائے پھرتے ہیں۔

یہ پُرلطف کہانی پھر سہی۔ واپسی کے سفر میں ہماری خوش قسمتی یہ تھی کہ ڈاکٹر خورشید کی سرکردگی حاصل ہوئی۔ حسنین مظہری بھی ساتھ تھے۔ عربی ادب پر بات شروع ہوئی اور ڈاکٹر خورشید رضوی کا کلامِ ارفع مقام۔ ہم سُن رہے تھے اور سردُھن رہے تھے۔ دریا بلکہ سمندر بلکہ سات سمندروں کوچند لمحوں کے کوزے میں سمیٹ کر رکھ دیا۔ کہانی سُنا دی کہ کیسے صدیوں کےسفرمیں عربی ادب کا دامن پھیلتا چلا گیا۔

قافلے آتے رہے، نسلیں بدلتی رہیں، سلطنتیں اٹھتی اورگرتی رہیں، مگر اس ادب کی نہر میں نئے نئے تازہ پانی کے میٹھے چشمے شامل ہوتے گئے۔ کبھی اندلس کے آفتاب نے اس پر اپنی کرنیں نچھاور کیں، کبھی بغداد کے مدرسوں نے اسے جِلا بخشی، کبھی مصر کے اہلِ قلم نے اس کے چراغ روشن کیے اور کبھی ایران، ترکمانستان اور برِعظیم کے علماء نے اس کےخزانے میں نئے گوہر ڈالے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس ادب کی وسعتِ داماں کا یہ عالم ہوا کہ آج تک دنیا کی کسی زبان میں حتیٰ کہ خُودعربی زبان میں بھی ایسی کوئی تاریخ مرتب نہیں ہوسکی،جسے بجا طور پر مکمل کہا جاسکے۔

بقول ڈاکٹر صاحب، یہ سمندر ایسا ہے، جس کی تہہ تک رسائی ابھی اہلِ دانش کے لیے بھی خواب ہی معلوم ہوتی ہے۔ سفر ایسا گزرا کہ ہمارے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ایسے سفر ہر روز ہوں۔ صاحبو! یقین کیجے پاکستان میں اگر کسی شخص کو عربی زبان و ادب کا معتبر ترین حوالہ مانا، گردانا اور جانا پہچانا جائے تو ان چند ناموں میں ڈاکٹر خورشید رضوی کا نام نہایت وقار کے ساتھ سرِفہرست ہوگا۔

وہ محقّق بھی ہیں، نقّاد بھی۔ شاعر بھی ہیں، نثر نگار بھی۔ مترجّم بھی ہیں اور ایسے معلم بھی جن کے تلامذہ مُلک بھر میں علم کی شمعیں روشن کیے ہوئے ہیں۔ اُن کی شخصیت میں قدیم مشرقی عالم کی متانت اور جدید محقّق کی ژرف نگاہی ایک دوسرے سے بغل گیر دکھائی دیتی ہے۔

زندگی کی کہانی کہوں، تو ڈاکٹرصاحب 19 مئی 1942ء کو اُتر پردیش کے تاریخی و علمی شہر، امروہہ میں پیدا ہوئے۔ وہی رئیس امروہوی اورجون ایلیا کا شہر۔ وہ خُود ایک مقام پر وضاحت کرتے ہیں کہ سرکاری کاغذات میں درج8 دسمبر 1940ء کی تاریخِ پیدائش درست نہیں۔ اُن کا اصل نام محمّد خورشید الحسن ہے، اگرچہ دنیا انہیں خورشید رضوی ہی کےنام سےجانتی ہے۔

تقسیمِ ہند کے طوفان کے بعد 1948ء میں اُن کا خاندان پاکستان آگیا اور منٹگمری میں، جو آج ساہی وال کہلاتا ہے، سکونت اختیار کی۔ یہیں اُن کے ماموں پاکستان ریلوے میں ملازم تھے اور یہی شہر بعد میں اُن کی ابتدائی علمی پرورش کا گہوارہ بنا۔

یہ عربی ادب کےعاشقین کی خوش قسمتی تھی کہ تعلیم کےابتدائی مراحل طے کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے عربی زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ خُود ان کے بیان کے مطابق اگر اُن کی علمی شخصیت کی تعمیر میں کسی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے، تو وہ ان کے استاد اور مرشد ڈاکٹر محمّد صوفی ضیاء الحق تھے۔ تاہم خورشید رضوی کی طبیعت میں جو انکسار اور خاکساری ہے، وہ اُنہیں کبھی اپنی کسی کام یابی کا اعتراف بھی پورے لفظوں میں نہیں کرنے دیتی۔

وہ ان معدودے چند لوگوں میں سے ہیں، جو چراغ جلانے کے بعد بھی دعویٰ نہیں کرتے کہ روشنی ہم نےکی ہے۔1961ء میں انہوں نے پنجاب یونی ورسٹی کے اورینٹل کالج میں داخلہ لیا اور ایم۔ اے عربی میں اول پوزیشن کے ساتھ کام یابی حاصل کی۔ لڑکے بالے سے تھے، عُمر بیس برس سے اوپر کیا ہی ہوگی۔ اتنی مُنی سی عُمر میں تعلیم مکمل ہوتے ہی بہاول پور کے ایک سرکاری کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ کمال دل چسپ اور حیران کُن منظر تھا۔

سوچیے اور تخیل کےگھوڑے دوڑائیے کہ نوخیز عُمر کا ایک دُبلا پتلا، مگر بلا کا ذہین فطین نوجوان جب درس گاہ میں داخل ہو کر باقاعدہ لیکچر دینے لگا تو کلاس میں موجود بعض طلبہ حیرت سےایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، کیوں کہ ان میں سے کئی عُمر میں اپنے استاد سےبڑے تھے۔ ثابت یہی ہوا کہ میدانِ علم وہُنر میں عُمر نہیں، علم وہنر دیکھا جاتاہے۔ 1963ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا منتقل ہوئے اور تقریباً بائیس برس تک وہاں علم کی شمع روشن کرتے رہے۔

اسی دوران پنجاب یونی ورسٹی سےعربی میں ڈاکٹریٹ کی سندحاصل کی۔ 1981ء میں اسلام آباد کے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے، لیکن تدریس اُن کی پہلی محبّت تھی اور یہی محبت آج تک دامن گیر ہے۔ سو، دل وہیں لگا، جہاں طلبہ کی آنکھوں میں علم کی چمک دکھائی دیتی تھی۔ چند برس بعد لاہور پلٹے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے، جو آج گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی کےنام سے معروف ہے، وابستہ ہوگئے۔

قبل ازوقت ریٹائرمنٹ اختیار کی مگرجامعہ نے اُن کے علمی فیضان سے محرومی گوارا نہ کی۔ یوں جُزوقتی طور پران کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اورعمر کی بیاسی بہاریں دیکھ لینےکے باوجود آج بھی درس وتدریس کے میدان میں اُسی انہماک سے سرگرم ہیں، جیسےکوئی نووارد طالبِ علم علم کے پہلے زینے پر قدم رکھتا ہے۔ شعروادب کے کارنامے جُدا، نثر کی نیرنگیاں الگ، ڈاکٹر خورشید رضوی کی علمی زندگی کا سب سے درخشاں باب اُن کی تصنیف ’’عربی ادب قبل ازاسلام‘‘ ہے۔ جب وہ عربی میں بی۔اے آنرز کےطالب علم تھے، توعربی ادب کی تاریخ پر کتابیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی تھیں۔

اس زمانے میں نکلسن کی A Literary History of the Arabs ہی ایک ایسی کتاب تھی، جسےعلم کےرسیا طلبہ اپنا سہارا بناسکتےتھے۔ اُن کے استاد صوفی ضیاء الحق اکثر افسوس سے کہا کرتےکہ نکلسن نے عربی ادب جیسی وسیع دنیا کو ایک ہی جِلد میں سمیٹ دیا، حالاں کہ اس موضوع پر کم ازکم چار جِلدیں تو ہونی چاہئیں تھیں، جیسے ایڈورڈ براؤن نےفارسی ادب کی تاریخ کئی جِلدوں میں مرتّب کی۔ یہ بات خورشید رضوی کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئی۔

اُنہوں نے تبھی مصمّم ارادہ کیاکہ عربی ادب کی تاریخ دس جِلدوں میں لکھیں گے۔ چناں چہ 1968ء میں اس عظیم منصوبے پر کام شروع کردیا۔ لیکن جوں جوں آگےبڑھتے گئے، توں توں معلوم ہوتا گیا کہ سمندر کو کوزے میں بند کرنا آسان نہیں۔ چھے برس تک شب بےداری، مطالعے اور تحقیق کا چراغ جلتا رہا۔ ’’راتوں کا تیل جلانا‘‘ جسے کہتے ہیں، اُس کی عملی تصویر ڈاکٹر خورشید رضوی کی زندگی بن گئی۔ نوٹس کے انبار لگ گئے، مسوّدوں کے ڈھیر جمع ہوگئے، مگران سب کے باوجود وہ صرف جاہلی عہد کے ادب ہی تک پہنچ سکے۔

پھر زمانے کےاوربھی تقاضے تھے۔ تدریس، تحقیق، تصنیف اور دیگر علمی مصروفیات نے اُنہیں گھیر لیا۔ قریب ایک دہائی بعد جب دوبارہ اپنے پرانے اوراق مجتمع کیے تو دیکھا کہ بہت سا پانی پُلوں کے نیچے سےگزرچکا ہے اور عربی ادب کی تاریخ پر اردو میں کئی نئی کتابیں بھی منظرِعام پر آچکی ہیں۔ وہ تذبذب میں تھے کہ اس نامکمل کام کوشائع کریں یا نہیں۔ اِسی دوران رسالہ ’’سویرا‘‘ کے مدیران یعنی سلیم الرحمٰن اور ریاض احمد اس مسوّدے سے آگاہ ہوئے اور اُن کے اصرار پر یہ تحریر قسط وار شائع ہونا شروع ہوئی۔ شُکر ہے کہ مسوّدہ کہیں دائیں بائیں نہیں ہوگیا کہ آں دفتر را گاؤ خُرد، گاؤ را قصاب بُرد۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ خود مصنّف کو اس کی افادیت سے متعلق چنداں یقین نہ تھا، مگر اہلِ ذوق کا حال کچھ اور نکلا۔ قارئین نے اسے ایسی پذیرائی بخشی کہ آخرکار اُسے کتابی صُورت میں شائع کرنا ہی پڑا۔ ادارۂ اسلامیات نے دو جِلدوں میں اِسے شائع کیا۔ پہلی اشاعت ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئی اور پھر نظرِثانی اوراضافوں کے ساتھ مزید کئی ایڈیشن شائع کرنا پڑے۔

آج’’عربی ادب قبل از اسلام‘‘ اُردو زبان میں قبل ازاسلام عربی ادب کا پہلا مفصّل، تنقیدی اور مستند جائزہ شمار ہوتی ہے۔ شعر و ادب، سخنِ عالی کی یافت، مزاج کے حلم اور ہُنر وعلم کی بات جہاں آئے گی، وہاں سب ’’اپنے تئیں نابغے‘‘ ٹھنڈے ٹھنڈے چلتے پھرتے نظر آئیں گے، مگر جو شخصیت سکوت میں پلنے کے باوصف عمیق ہے، وہ ہمیشہ جبینِ عظمت پر دمکتی رہے گی اور اُس شخصیت کا نام ہے، ڈاکٹر خورشید رضوی۔ (خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید