• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روضۂ حضرت عباس علمدارؓ کی اندرونی عکس بندی
روضۂ حضرت عباس علمدارؓ کی اندرونی عکس بندی

حُسین آپ کا نام، ابو عبداللہ کُنیت، سیّدِ شباب اہل الجنّۃ اور ریحانۃ النّبی ﷺ لقب، دامادِ مصطفیٰ ؐ، فاتحِ خیبر، شیرِ خدا سیّدنا علی مرتضیٰؓ آپؓ کے والد اور سیّدۃ النساء اہل الجنۃ، سیّدہ بتول حضرت فاطمۃ الزہراؓ آپؓ کی والدہ ماجدہ تھیں۔ اس لحاظ سے نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ بتول، پیکر ِصبر و رضا، حق وصداقت، جرأت و شجاعت کے عَلم بردار، شہدائے کربلاؓ کے قافلہ سالار، فضائل و مناقب کا روشن باب حضرت امام حسینؓ کی ذاتِ گرامی، قریش کا خلاصہ، بنی ہاشم کا عطر، اُمّت کا سرمایۂ افتخار اور آپؓ کی ذاتِ گرامی بلاشبہ محاسن و محامد کا مجموعہ، سیرت و کردار اور فضائل و مناقب کا تاریخ سازباب تھی۔

آپؓ کی ولادتِ با سعادت سے ریاضِ نبویؐ میں وہ خوش رنگ پھول کِھلا،جس کی مہک حق و صداقت، جرأت و بسالت، ایمان وعمل اور ایثاروقربانی کی وادیوں کو ابد الآباد تک بساتی اور جس کی رنگینی عقیق کی سُرخی، شفق کی گلگونی اور لالہ کے داغ کو ہمیشہ شرماتی رہے گی۔ شعبان 4ھ میں امیرالمومنین سیّدنا علی مرتضیٰؓ کا کاشانہ جوانانِ جنّت کے سردار، نواسۂ رسولؐ سیّدنا حسینؓ کی ولادتِ با سعادت سے رشکِ گل زار بنا۔

آپؓ کی ولادت کی خبرسُن کرامام الانبیاء،خاتم النبیّین، رحمۃ لّلعالمین حضرت محمّد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لائے اور فرمایا۔ ’’بچّے کو دکھائو، کیا نام رکھا۔‘‘ اور پھر نومولود حسین ابنِ علیؓ کے کانوں میں اذان دی، توحیدِ الٰہی کا صُور پُھونکا، درحقیقت اِسی کا اثر تھا کہ؎ سرداد، نہ داد دست در دستِ یزید.....حقّا کہ بنائے لاالہٰ است حسینؓ۔

کربلائے معلّٰی میں روضۂ امام حسینؓ کا اندرونی حصّہ
کربلائے معلّٰی میں روضۂ امام حسینؓ کا اندرونی حصّہ

باب العلم، شیرِخدا، سیّدنا علی مرتضیٰؓ کے فرزند، سیّدنا حسین ابنِ علیؓ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کے قابلِ صد افتخار ونمائندہ فرد تھے، جوسیرت و کردار، فضائل ومناقب کے اعتبار سے اسلامی تاریخ کی جلیل القدر اورعظیم المرتبت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپؓ قرآنِ مجید کے مطالب، احادیثِ نبویؐ بیان فرماتے تھے۔ عبادت و ریاضت، بکثرت نوافل پڑھنا اور قیام اللّیل عام معمول تھا۔ اکثر روزہ رکھتے، پچیس حج کیے اور میدانِ کربلا میں آپؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، جس سے پوری اسلامی تاریخ میں آپؓ، آپؓ کے جاں نثار رفقاء اور خانوادۂ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی تسلیم و رضا، صبر ووفا اور عزیمت و استقامت کے اَن مِٹ نقوش ثبت ہوئے۔

نواسۂ رسولؐ، شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ نے اپنے نانا حضرت محمّد مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کے دین اور اسلام کا ارتقاء اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اسلامی تاریخ کے بیش ترحوادث و واقعات آپؓ کے سامنے پیش آئے۔ آپؓ نے تمام مراحل کا مشاہدہ فرمایا اور اُن کا جائزہ لیتے رہے۔ یزید کی ولی عہدی کے بعد جب صُورت حال یک سر تبدیل ہوگئی، دین کے منافی امور انجام پانے لگے، تو آپؓ نےاس کی سخت مخالفت کی، عزیمت و استقامت کا مظاہرہ، حق و صداقت کا پرچم بلند کیا اور یزید کی ولی عہدی کے ناجائز ہونے کا برملا اعلان کیا۔

حق اور باطل، اسلام اور کفر کی معرکہ آرائی روزِاول سے جاری ہے اور روزِ آخر تک رہےگی۔ حق کی بقا، اسلام کی سربلندی، اعلیٰ انسانی اقدار کا تحفّظ، قدرت کا اٹل، ابدی فیصلہ ہے، جب کہ طاغوتی، ابلیسی قوتوں کی سرکوبی اوران کا زوال بھی آئینِ فطرت ہے۔اس حوالے سے کیا خُوب کہا گیا ہے؎ آئینِ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی…اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی۔

دخترِ حسینؓ بی بی سکینہؓ کے روضے کے اندر کا منظر
دخترِ حسینؓ بی بی سکینہؓ کے روضے کے اندر کا منظر

محسنِ انسانیت، ختمی مرتبت،حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺکا ارشادِ گرامی ہے۔ ’’سلطانِ جائر(ظالم و جابر بادشاہ اور ان اوصاف کے حامل حاکمِ وقت) کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔‘‘ (نسائی، ترمذی) مستند تاریخی روایات کےمطابق رجب 60ھ /680ء میں یزید نےاسلامی اقدار، دینِ مبین کی رُوح کے منافی ظلم و جبرپر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا، بالجبرعام مسلمانوں کوبیعت و اطاعت پر مجبورکیا گیا، مدینۂ منورہ میں ایک مختصر حُکم نامہ ارسال کیا گیا کہ’’حسینؓ، عبداللہ بن عمرؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے، اس معاملے میں پوری سختی سے کام لیا جائے، یہاں تک کہ یہ بیعت کر لیں۔‘‘(ابنِ اثیر/ الکامل فی التاریخ3/263)

بعدازاں، جگرگوشۂ بتولؓ، سرکارِ دوجہاںؐ کے نورِ نظر، جوانانِ جنّت کے رہبر، شہیدِ کربلا، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ نے، جن کی ذاتِ گرامی اسلامی تاریخ میں حق و صداقت، جرأت و شجاعت، ایثار و قربانی، اور صبرورضا کا بنیادی حوالہ ہے، اپنے جدِّا علیٰ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور اپنے نانا امام الانبیاء حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی اتباع میں سلطانِ جائر، حاکمِ وقت یزید کے خلاف جرأتِ اظہار اور عَلمِ جہاد بلند کرتے ہوئے اسوۂ پیمبری پر عمل کیا، اُمّتِ مسلمہ کو حق وصداقت اور دین پر مرمٹنے کا درس دیا، خلقِ خدا پر اپنے ظالمانہ قوانین کی پیروی کا حُکم دینے اور محرماتِ الٰہی کو توڑنے والی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ببانگِ دہل فرمایا۔

’’لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم، محرماتِ الٰہی کو حلال کرنے والے، اللہ کےعہد کو توڑنے والے، اللہ کے بندوں پر گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قولاًو عملاً اُسے بدلنے کی کوشش نہ کی، تو اللہ کو یہ حق ہے کہ اس شخص کو اس ظالم بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کردے، آگاہ ہوجاؤ، ان لوگوں نے شیطان کی حکومت قبول کرکے رحمٰن کی اطاعت چھوڑدی ہے۔ مُلک میں فساد پھیلایا اورحدود اللہ کو معطل کردیا۔ یہ مالِ غنیمت سے اپنا حصّہ زیادہ لیتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال کردیا ہے اورحلال چیزوں کو حرام کردیا ہے، اس لیے مجھے اس کے بدلنے کا حق ہے۔‘‘ (ابنِ اثیر/ الکامل فی التاریخ 4/40)

دمشق میں واقع روضۂ حضرت بی بی زینبؓ
دمشق میں واقع روضۂ حضرت بی بی زینبؓ

یہی وہ سب سے بڑا جہاد اور دینی فریضہ تھا، جس کی ادائی کے لیے سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ فرمانِ نبویؐ اور اسوۂ پیمبریؐ کی پیروی میں وقت کے سلطانِ جائر یزید کےخلاف ریگ زارِ کرب و بلا میں 72 نفوسِ قدسیہ کے ساتھ وارد ہوئے اور میدانِ کربلا میں حق و صداقت اور جرأت وشجاعت کی وہ بےمثال تاریخ رقم کی، جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ شہدائے کربلاؓ کے قافلہ سالاراور ان کےرفقاء شریعتِ مصطفیٰؐ کےتحفّظ کے لیے ریگ زارِ کرب وبلا میں بےمثال تاریخ رقم کرکے یہ پیغام دے گئے کہ ’’ہم خاک ہوگئے، لیکن ہماری تربت کی خُوش بُو سے ہمیں پہچانا جاسکتا ہے کہ اس خاک سے بھی مردانگی پُھوٹ رہی ہے۔ ‘‘

کربلا کے مقام پر پیش آنے والے تاریخ ساز معرکے کے دوران ایک شب،قافلہ سالارنے اپنے رفقاء اورجاں نثاروں کو جمع کیا اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ ’’مَیں اپنے ربِّ ذوالجلال، خدائے واحد کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں، رنج و راحت ہرحال میں اُس کا شکر گزار ہوں۔ الٰہی! تیراشکر کہ تُونے ہمارے گھرانے کو نبوّت سے مشرّف و سرفراز کیا۔ قرآن کا فہم عطا کیا، دین میں سمجھ بخشی اور ہمیں دیکھنے، سُننے اور عبرت پکڑنے کی قوتوں سے سرفراز فرمایا۔ امابعد… لوگو! مَیں نہیں جانتا، آج روئے زمین پر میرے ساتھیوں سے افضل اور بہتر لوگ موجود ہیں یا میرے اہلِ بیتؓ سے زیادہ ہم درد وغم گسارکسی کے ساتھی ہیں۔اے لوگو! تم سب کو اللہ میری جانب سے جزائے خیردے، مَیں سمجھتا ہوں کہ کل میرا اور اُن کا فیصلہ ہوجائے گا۔

غوروفکر کے بعد میری رائے یہ ہے کہ تم سب خاموشی کے ساتھ نکل جاؤ، رات کا وقت ہے، تاریکی میں اِدھر اُدھرنکل جاؤ۔ مَیں خوشی سے تمہیں رخصت کرتا ہوں۔ میری جانب سےکوئی شکایت نہ ہوگی۔ یہ لوگ صرف میرے طلب گار ہیں۔ میری جان پاکرتم سےغافل ہوجائیں گے۔‘‘ یہ سُن کر آپ کے اہلِ بیتؓ بہت رنجیدہ اور بےچین ہوئے۔ حضرت عباس بن علیؓ گویا ہوئے۔

کربلائے معلّٰی میں حضرت عبّاس علم دارؓ کے روضے کا بیرونی منظر
کربلائے معلّٰی میں حضرت عبّاس علم دارؓ کے روضے کا بیرونی منظر

’’یہ کیوں ؟ کیا اس لیے کہ ہم آپ کے بعد زندہ رہیں، اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے۔‘‘ حضرت امام حسینؓ نے مسلم بن عقیلؓ کے رشتے داروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’اے اولادِ عقیل، مسلم کا قتل کافی ہے، تم چلے جاؤ،میں نے تمہیں اجازت دی۔‘‘ آپ کا یہ فرمان سن کر وہ کہنے لگے۔’’لوگ کیا کہیں گے؟ یہی کہ تم اپنے شیخ، سردار اور عم زادوں کو چھوڑ کر بھاگ آئے۔ ہم نے ان کے ساتھ نہ کوئی تیر پھینکا، نہ نیزہ چلایا، نہ تلوار گھمائی۔ نہیں ،واللہ !یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ ہم تو آپ پر اپنی جان و مال،آل اولاد سب کچھ قربان کردیں گے۔آپ کے شانہ بہ شانہ لڑیں گے،جو آپ پر گزرے گی، وہی ہم پر گزرے گی۔ آپ کے بعد اللہ ہمیں زندہ نہ رکھے۔‘‘

بعدازاں، آپ کے دیگر رفقاءوجاں نثار کھڑے ہوئے ۔مسلم بن عوسجہ اسدی نے کہا۔’’کیا ہم آپ کو چھوڑدیں گے؟حالاں کہ اب تک آپ کا حق ادا نہیں کرسکے ہیں، واللہ! نہیں ہرگز نہیں، مَیں اپنا نیزہ ان دشمنوں کے سینے میں توڑدوں گا۔ جب تک قبضے میں ہاتھ رہے گا،تلوار چلاتا رہوں گا، نہتّا ہوجاؤں گا، تو پتھر پھینکوں گا، یہاں تک کہ موت میرا خاتمہ کردے۔‘‘ سعد بن عبداللہ الجعفی نے کہا۔ ’’واللہ! ہم آپ کا ساتھ (مدد و نصرت) اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے، جب تک خدا جان نہ لے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کا حق محفوظ رکھا۔

واللہ!اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل ہوجاؤں گا، جلایا جاؤں گا،آگ میں بھونا جاؤں گا، پھر میری خاک ہوا میں اڑادی جائے گی اور ایک مرتبہ نہیں،ستّرمرتبہ مجھ سے یہی سلوک کیا جائے۔ پھر بھی مَیں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ آپ کی حمایت میں فنا ہوجاؤں۔‘‘زہیر بن قین نے کہا۔’’بخدا !اگر میں ایک ہزار مرتبہ بھی آرے سے چیرا جاؤں، تو بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔خوشا نصیب، اگر میرے قتل سے آپ کی اور آپ کے اہلِ بیتؓ کے ان نو نہالوں کی جانیں بچ جائیں۔‘‘(تاریخِ طبری315/3) ۔

شہیدِ کربلا، سیّدنا حسینؓ ابن علیؓ کی صدائے حق نے مظلوم انسانیت کو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ اور حق نوائی کا بے مثال درس دیا۔ آپؓ نے اپنے کردار وعمل سے ثابت کردیا کہ حق کی آوازِبلند، انسانی اقدار کا تحفّظ اور دین کی سربلندی اسوۂ پیمبری اور شیوۂ شبّیری ہے۔ نواسۂ رسولؐ، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ کی یہی وہ بے مثال قربانی اور کعبۃ اللہ کی عظمت وحرمت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے کا عظیم جذبہ اور داستانِ حرم ہے، جس کے متعلق شاعرِمشرق علامہ اقبال نے کہا تھا؎غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم.....نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ۔

دریائے فرات کی ایک تصویر، شہدائے کربلاؓ اسی کے کنارے خیمہ زن ہوئے تھے
دریائے فرات کی ایک تصویر، شہدائے کربلاؓ اسی کے کنارے خیمہ زن ہوئے تھے

کسی نے کیا خُوب کہا ہے کہ ’’شہیدانِ حق کی دنیا میں نواسۂ رسول سیّدناحسینؓ ابن علیؓ کا مقام بہت ہی بلند ہے۔ کسی نےحق کی خاطر خُودزہرکا پیالہ پی لیا، کوئی زندگی بھر قیدوبند کی سختیاں جھیلتا رہا، کوئی تنہا پھانسی پرلٹک گیا، مگرحسینؓ کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے، آپؓ نے اپنے گھرانے کا ایک ایک فرد اپنی آنکھوں کے سامنےکٹوادیا، اپنے جگر گوشوں کے لاشے خاک و خون میں تڑپتے دیکھے، پیاسی بلکتی بچیّوں کی صدائیں اُن کے سامعہ سے ٹکرا رہی تھیں، مگر وہ صبرو ضبط کا پیکر، ثبات واستقلال کا ہمالیہ، جرأت و استقامت کا کوہِ گراں،حق و صداقت کاعلَم بردار، عزت و ناموس کاسراپا، دشمن اور اس کے باطل عزائم کے سامنے گردن جھکانے پر آمادہ نہ ہوا۔ دشمنوں کےجمِ غفیر میں تنہا رہ گیا، مگر صبرووقار کا دامنِ پیکربےداغ رہا۔ وہ دشمنوں کی صفوں پر ٹوٹ پڑااوربےجگری سے لڑتا ہوا شہید ہوا۔ اس نےحق کے لیے جینے اور حق کے لیے مرنے کی عظیم تاریخ رقم کی۔ ’’فی مقعدِ صدقٍ عندَ ملیکٍ مُقتدر‘‘ بلاشبہ، بادشاہِ ذی اقتدار کے دربار میں آپ بلند مقام پر فائز ہوئے۔‘‘

امامِ عالی مقام، ترجمانِ صداقت

تلاشِ حق تھی بہ شدّت، سو دو جہاں دیکھا

نہیں حسینؓ سا سالارِ کارواں دیکھا

علیؓ و فاطمہؓ و مصطفیٰؐ کی گودی تھی

زمیں پہ ہمّتِ مرداں کا آسماں دیکھا

تھے پنجتن میں حسینؓ آپ آخری، لیکن

ہراِک سے بڑھ کے زمانے میں امتحاں دیکھا

تڑپ تھی جن کے دِلوں میں کہ جاں ہو نذرِ خدا

اُن ہی سَروں کو صداقت کا ترجماں دیکھا

جو حدِّ صبر تھی، کامل تھی، ابنِ حیدرؓ پر

کبھی تو طفل، کبھی لاشۂ جواں دیکھا

برس رہے تھے مصلّوں پہ تیر، کربل میں

مگر وہ سجدۂ آخر، بہ عزّو شاں دیکھا

وہ نینوا میں رُکا قافلۂ ظلم، مگر

خدا شناس جو تھا کارواں، رواں دیکھا

جہاں میں کوئی حکومت رہے، رہے نہ رہے

دِلوں پہ، آپ کو بس ہم نے حُکم راں دیکھا

قمرؔ، طہارتِ فکر و نظر جو تھی درکار

حسینؓ آپ کو تسکینِ قلب و جاں دیکھا

ڈاکٹر قمرؔ عبّاس

سنڈے میگزین سے مزید