• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

باپ سے شدید محبت و عقیدت ہی تخلیقی قوت کا محور و مرکز، میری شاعری کا طرہ امتیاز ہے

عالمی یومِ والد، باپ کا رشتہ امر کردینے والے حمّاد نیازی سے بات چیت
عالمی یومِ والد، باپ کا رشتہ امر کردینے والے حمّاد نیازی سے بات چیت

بات چیت: رؤف ظفر

عکاسی و اہتمام: عرفان نجمی(لاہور)

؎ وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں، کٹی تھی عُمر گاؤں میں

مَیں چوم چوم تھک گیا، مگر یہ دل بھرا نہیں

؎ مَیں اپنے باپ کے سینے سے پھول چُنتا تھا

سو، جب بھی سانس تھمی، باغ میں نکل آیا

؎ باپ کا بوسہ لہو میں تیرتا ہے اور ہم

لمسِ دیرینہ کی حسرت کو مٹا سکتے نہیں

؎ کوئی دُعا مرے سینے پہ ہاتھ رکھتی ہوئی

مَیں لڑکھڑاتا ہوا اور پھر سنبھلتا ہوا

اُس ایک نام سے آب و ہوا سنورتی ہوئی

اُس ایک آنکھ سے رنگِ چمن بدلتا ہوا

؎ شفیق پوروں کا لمس پا کر

بدن صحیفے میں ڈھل رہا تھا

ضعیف انگلی کو تھام کر مَیں

بڑی سہولت سے چل رہا تھا

دُعائیں کھڑکی سے جھانکتی تھیں

مَیں اپنے گھر سے نکل رہا تھا

؎ ویران سڑک پہ چل رہا ہوں

اک یاد دھڑک رہی ہے مجھ میں

اِک لمس رواں دواں ہے اب تک

اِک شاخ ہری بھری ہے مجھ میں

؎ وہ چھاؤں تو خواب ہوئی ہے، کون ہمیں ملنے آئے

اس برگد کے سائے میں تو شہر کا نقشہ ملتا تھا

اُس آواز کی محرومی کو جھیل رہے ہیں، حیرت ہے

جس آواز کو سُنتے سُنتے ہم نے بولنا سیکھا تھا

نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

اپنے والد کے حوالے سے یہ چند خُوب صُورت اشعار، معروف شاعر حماد نیازی کے پہلے مجموعہ کلام ’’دُعاؤں بھرے دالان‘‘ سے لیے گئے ہیں۔ اس مجموعے کا انتساب بھی اُنہوں نے اِن الفاظ میں اپنے والد صاحب کے نام کیا ہے کہ ’’اپنے ابّو جی کے نام، جنہوں نے مجھے گِریے (آہ و زاری) کی تہذیب سے آشنا کیا اور دُعاؤں بَھرے دالان میرے وَرثے میں چھوڑے۔‘‘ دنیا کی تقریباً ہر زبان کےعلم و ادب میں ’’ماں‘‘ کے لیےشعر و نثر کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ تو موجود ہے، جس میں ماں سے محبّت وعقیدت کا بے پایاں اظہاربامِ عروج پہ بھی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس ضمن میں ’’باپ‘‘ کو عموماً وہ پذیرائی نہیں ملی، جس کا وہ حق دار ہے۔

یہ نہیں کہ والد کو کبھی سِرے سے شعرو نثر کا موضوع ہی نہیں بنایا گیا۔ تاہم، ماں کی اُلفت و مامتا کے پس منظر میں باپ کی پدرانہ شفقت کچھ گہنائی ہوئی سی لگتی ہے۔ بہرحال، جن شعراء نےباپ کو موضوعِ سخن بنایا ہے، اُن میں معروف شاعر حماد نیازی کا نام سرِفہرست ہے بلکہ اگریوں کہاجائےکہ اس حوالے سے وہ اپنی ایک مخصوص شناخت اور پہچان رکھتے ہیں، تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ اُن کی شاعری کا پہلا مجموعہ زیادہ تر اپنے والد کی محبّت و شفقت پر مبنی غزلوں، نظموں ہی پر مشتمل ہے۔

اس حوالے سے خُود اُن کا اپنا بھی یہی کہنا ہے کہ ’’مَیں جس مشاعرے میں بھی جاتا ہوں، دوسرے کلام کے ساتھ اپنے والدمرحوم کی یادیں بھی لازماً تازہ کرتا ہوں کہ درحقیقت باپ سے شدید محبّت و عقیدت ہی میری تخلیقی قوت کا محور و مرکز، میری شاعری کا طرۂ امتیاز ہے۔‘‘

یوں تو ماں کے ساتھ باپ سے بےلوث محبّت بھی ایک عالم گیرجذبہ ہے، مگر غالباً شعر و شاعری جیسی نرم و نازک، حسّاس صنفِ ادب میں اِسےمرد کے بظاہر قوی الجُثہ، مضبوط تر اورکسی حد تک کم جذباتی ہونے کے تاثر کے سبب بہت حد تک نظرانداز کیا گیا۔ لیکن حماد نیازی نے اِن خالص احساسات و جذبات کو اپنی شاعری میں جی کھول کر بیان کیا ہے۔

مثلاً یہی دیکھیے ؎ ’’دل کے سُونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی… دھوپ بَھرے سناٹے میں آواز سُنی ہے چھاؤں کی… اِک منظرمیں سارے منظر پس منظر ہو جانے ہیں… اِک دریا میں مل جانی ہیں لہریں سب دریاؤں کی… صُبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے…جیسے باپ کا پہلا بوسہ، قربت جیسے ماؤں کی۔‘‘ حماد نیازی باپ سے محبت کو کس خاص نظر سے دیکھتے ہیں اور اُنہوں نے اِسے ہی اپنی شاعری کا استعارہ کیوں بنایا۔ ایک ایسا استعارہ، جو اُن کی یادوں کی تختی پر نقش شہزادوں، شہزادیوں کی الف لیلوی، جادوئی کہانیوں سے لے کر ’’میرے ہاتھوں سے جیسے بوڑھی انگلی چُھوٹ رہی ہے‘‘ تک سب تصورات و خیالات، جذبات و احساسات پر غالب ہے۔ یہ جاننے کے لیےآپ کا حماد نیازی سے متعلق جاننابے حد ضروری ہے۔

حماد نیازی کا تعلق تلہ گنگ سے ہے۔ ویسے اُن کا آبائی گاؤں میانوالی کا نزدیکی شہر، موسیٰ خیل ہے۔ اُن کے والد پروفیسر محمد اکبرخان نیازی اپنےدَورکے ایک بہت پڑھے لکھےخاندان کے فرد تھے۔ ویسے تواُن کے والد (حماد نیازی کے دادا) پولیس آفیسر تھے، لیکن اُن کےعلم وادب سے شغف کا یہ عالم تھا کہ گھر میں ایک بہت بڑی نجی لائبریری بنا رکھی تھی، جب کہ حماد کے والد، اکبر خان نیازی اولڈ راوین تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی، لاہور سے بوٹنی میں ایم ایس سی کرنے کے بعد درس وتدریس کے شعبے سے ایسے منسلک ہوئے کہ پھر پوری زندگی اِسی پروفیشن میں گزاردی۔

اُن کی ملازمت کا زیادہ عرصہ تلہ گنگ، ڈگری کالج میں گزرا۔ جہاں وہ 34 سال تعینات رہے اور بعدازاں، اِسی کالج سے بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ اُن کے تین بیٹےاوردوجُڑواں بیٹیاں ہیں۔ حمّاد، بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اوربقول حماد، اِس وقت تمام بہن بھائی اپنے اپنے گھروں میں بہت خوش و خرّم زندگیاں گزار رہے ہیں، جو یقیناً ہمارےعظیم والد ہی کی محنتِ شاقہ کا خُوب صُورت ثمر ہے۔ حماد نیازی اپنے والد سے متعلق بات کرتےہوئے خاصے جذباتی ہوجاتے ہیں۔

وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں، کٹی تھی عُمر گاؤں میں…
وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں، کٹی تھی عُمر گاؤں میں…

اُن کا کہنا ہے کہ ’’مَیں اس بات پربے انتہا فخر محسوس کرتا ہوں کہ میرے والد اکبر خان نیازی کے شاگرد پورے پاکستان بلکہ دنیا بَھرمیں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں سے کئی توعلم کی روشنی بھی بکھیررہےہیں۔ میرے بڑے بھائی محمّد بن اکبر پیشے کےاعتبار سے ویٹرنری ڈاکٹر، لیکن پنجابی زبان کے بڑے شاعر بھی ہیں۔ اُن سے چھوٹے حافظ احمد عُمر نیازی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُنھوں نے یو ای ٹی، ٹیکسلا سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی۔ الحمدُللہ، ہم تینوں بھائی اوروالدہ حفّاظِ قرآن بھی ہیں۔ ہماری والدہ حیات ہیں اور ماشاءاللہ بہتّر سال کی عُمر میں صحت مند ہیں۔ وہ تلہ گنگ میں میرے بھائیوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔‘‘

حماد نے اپنی یادیں سمیٹتے ہوئے مزید بتایا کہ ’’ہمارا خاندان شروع ہی سے تلہ گنگ کا رہائشی ہے۔ مَیں نے ابتدائی تعلیم، میٹرک، ایف ایس سی وہیں سے کیا، پھر 2003ء میں پنجاب یونی ورسٹی لاہورمیں داخلہ لے لیا اور وہاں سے جیالوجی میں بی ایس سی اور پھر ایم ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں مختلف نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھاتا رہا، جن میں سرگودھا یونی ورسٹی بھی شامل ہے۔ مَیں نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز گریڈ 9سے کیا اور ظاہر ہے، میرا بنیادی مضمون سائنس ہی تھا، لیکن شعر وشاعری اور اُردو ادب سے بھی ہمیشہ سے بہت گہرا لگاؤ رکھتا تھا۔

اِسی سبب مَیں نے ایم۔ اے، اُردو کرنے کی ٹھانی اور بس، وہیں سے میری زندگی کا رستہ تبدیل ہوگیا۔ ایک سائنس کےطالبِ علم نے اُردو ادب کواپنی منزل مان لیا۔سچ کہوں تومیرے اِس فیصلے میں بھی بنیادی کردار والد صاحب ہی کا تھا۔ ایک بار اُنہوں نے مجھے بُلا کر پوچھا۔ ’’تمہیں سائنس پڑھانے میں زیادہ لُطف آتا ہے یا اُردو ادب میں؟‘‘ مَیں نےایک لمحہ سوچے بغیر جواب دیا۔ ’’اُردو ادب میرا جنون ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ ’’پھرتمہارے لیے اُردو ادب ہی بہتر ہے۔ کیوں کہ اگرآپ کا رزق آپ کے شوق سے منسلک ہو جائے تو زندگی آسان ہوجاتی ہے۔‘‘ یوں اُردو ادب میرا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ مَیں نے تین سال سرگودھا یونی ورسٹی میں شعبۂ اُردو میں پڑھایا اور پھر 2018ء میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے مستقلاً درس و تدریس سے وابستہ ہوگیا اور اِس وقت اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور میں ایم۔ اے اُردو کا استاد ہوں۔‘‘

حماد نیازی کہتے ہیں کہ’’بلاشبہ دنیا کے تمام ہی باپ اپنی اولاد سے بہت محبّت کرتے ہیں اور اُن کی بہترین پرورش، اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ضمن میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔ ہمارے والد نے بھی مار اور پیار کے ایک حسین امتزاج کے ساتھ ہمیں شان دارتعلیم و تربیت فراہم کی۔ ہم سب کی شخصیات کو ہر ممکن حد تک خُوب سنوارا نکھارا۔ جیسا کہ میرے بڑے بھائی بھی شاعرہیں، تو ہمارا لفظوں کے ساتھ جو تعلق استوار ہوا، اُس کی بنیاد بھی والد صاحب ہی نے رکھی۔ پھر ہماری زندگیوں میں بعض انتہائی کٹھن مراحل بھی آئے۔ آپ یقین کریں، مَیں نے اپنے باپ کی جائے نماز کو آنسوؤں سے تردیکھا ہے۔

اُنہوں نےہمیشہ ایک چھتری کی طرح ہمیں دھوپ، بارش سے بچایا۔ ہمیں صرف لکھنا پڑھنا نہیں، خُودداری اوراعتماد سے جینا، جیتناسِکھایا۔ اُنھوں نےانتہائی ابترحالات میں بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے، ہمیشہ مُسکراتے ہوئےتمام ترمشکلات کا سامنا کیا۔ وہ ہمارے لیے تو سراپا محبّت وایثار تھے ہی، لیکن اُن کے شاگردوں، محلےداروں میں سے بھی ہر ایک یہی محسوس کرتا کہ وہ صرف اُن کے ہیں۔ جب 2018ء میں72 سال کی عُمر میں اُن کا انتقال ہوا تو جنازے میں ہر شخص یوں سوگوار تھا، جیسے اُس کا اپنا کوئی بہت قریبی، پیارا رخصت ہوا ہو۔‘‘

’’کیا والد صاحب کے لیے شعر و شاعری اُن کی زندگی ہی میں شروع کردی تھی؟‘‘ہمارے اِس سوال کے جواب میں حماد نے بتایا۔ ’’جی ہاں، مَیں اُس وقت یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا، جب کسی بات پر وہ مجھ سے ناراض ہوگئے۔ اُس پر مَیں نے ایک نظم کہی اوراُنہیں لکھ کے بھیج دی۔ اُس نظم کے چند مصرعے کچھ یوں تھے ؎ آوازیں رات کی خاموشی میں اوجھل ہونے کا سندیسہ لائی ہیں… چاند کے آدھے ٹکڑے پہ کچھ خوابوں کی تدفین ہوئی ہے… رات کے کالے توے پر وحشت کی روٹی پکنے کو تیار پڑی ہے… گھڑی کی دیمک، سانس کا نادیدہ دروازہ چاٹ رہی ہے… چاروں جانب اشکوں کی اِک برف جمی ہے…سانس تھمی ہے اور… میرے ہاتھوں سے جیسے بوڑھی انگلی چُھوٹ رہی ہے۔‘‘

عموماً شعر و شاعری میں صنفِ نازک ہی کو معشوق، محبوب سےتعبیر کیا جاتا ہے، لیکن حماد نیازی کی بیش ترکلام میں اُن کے والد ہی اُن کے محبوب ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ ’’میری شاعری میں اگر آپ محبوب تلاش کریں گے، تو آپ کو ہرجگہ میرے والد ہی نظر آئیں گے۔ مَیں نےصحیح معنوں میں اپنےوالد سے عشق کیا ہے اور اس کا اظہار آپ کو میری شاعری میں جا بجا ملے گا۔ مَیں نے اُن کے انتقال پر ایک مرثیہ بھی لکھا۔

جب کہ اُن سے جدائی کے بعد میرے اظہار میں اور بھی شدت آگئی۔ اگریہ کہوں کہ اُن کےانتقال نے مجھے وقت سے پہلے بوڑھا کردیاہے،، توغلط نہ ہوگا۔ میرے والد صاحب کا انتقال راول پنڈی میں ہوا۔ مَیں تب لاہور میں تھا اور مجھے اِس بات کا افسوس زندگی بَھر، مرتے دم تک رہے گا کہ مَیں آخری وقت میں اُن کے پاس نہیں تھا۔ والد صاحب سے بےپناہ محبت میرا تخلیقی جوہر ہے۔ میری شعری تخلیقات میں جو اسلوب نظرآتا ہے، وہ بس میرے والد سے محبّت ہی کا ثمر ہے۔‘‘

حماد نیازی کی شادی اپنی ایم ایس سی کی کلاس فیلو سے ہوئی۔ تاہم، یہ ارینجڈ میرج تھی۔ اُن کا ایک 10 سالہ بیٹا دانیال ہے،جواِس وقت کلاس پنجم میں زیرِتعلیم ہے۔ بیٹے سے متعلق حماد کا کہنا ہے کہ ’’اپنے بیٹے کی پرورش، تعلیم و تربیت کے اِک اِک مرحلے میں میری پوری کوشش ہے کہ مَیں اُن ہی تمام اصول وضوابط کو پیشِ نگاہ رکھوں، جو مجھے میرے والد سے وَرثے میں ملے ہیں۔ بیٹے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت مَیں سب سے پہلے یہی سوچتا ہوں کہ اگر اِس جگہ میرے ابّاجی ہوتے، تو وہ کیا فیصلہ کرتے، اُن کا اس معاملے میں کیا طرزِ عمل ہوتا۔

آج میرے والد اس دنیا میں نہیں ہیں۔ حیات ہوتے تو یقیناً دانیال کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میرے باپ کی محبّت وہ خاموش دُعا ہے، جو ہر لمحہ ہمارے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ مَیں زندگی کے ہر کڑے وقت میں اُن کی دُعاؤں کی خوشبو باقاعدہ محسوس کرتا ہوں۔ دراصل اُنہوں نے زندگی کی تیز دھوپ، برستی بارش میں ہم سب پر ایک گھنیرے درخت کی طرح کچھ یوں سایا کیے رکھا کہ لگتا ہے، آج بھی اُن کی خاموش دُعاؤں کی چھتری ہم پر پوری طرح سایہ فگن ہے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ ہماری اپنے والدین سے محبت شعر و شاعری کی ہرگز محتاج نہیں۔

ہم اپنے عُمر رسیدہ والدین کے چہروں، ہاتھوں کی جُھریوں میں اُن کی داستانِ حیات پڑھ سکتے ہیں اور اس داستان کا اِک اِک صفحہ، ہزارہا کلیات کا محتاج ہے۔ ایسی کلیات، جو آج تک نہ کوئی لکھ سکا ہے اور نہ ہی کبھی لکھ سکے گا کہ ہم سے تو والدین کی ایک رات کا قرض چُکتا نہ ہو۔‘‘ ’’آپ کے والد کی کوئی ایسی خاص بات یا خوبی تھی، جو آپ اپنی اولاد یا نئی نسل میں ضرور دیکھنا، منتقل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ ہمارا اگلا سوال تھا، جس کا جواب حماد نے یوں دیاکہ ’’مَیں تو اپنے والد کی اِک اِک خوبی نسلِ نو میں دیکھنا چاہوں گا، خصوصاً اُن کی سچائی و سادگی کا تو کوئی مول ہی نہ تھا۔ اُنھوں نے ساری زندگی سائیکل پر کالج آمدورفت میں کوئی عار محسوس نہ کی۔

ریٹائرمنٹ پرایک ایف ایکس کار لی بھی، تو طبیعت اس عیاشی کو قبول نہ کر سکی۔ ہاں،لیکن اُنھوں نے ہمیں زندگی بھرکبھی کوئی کمی محسوس نہ ہونےدی۔ ہماری ہرجائز خواہش پوری کی گئی۔ ہم پر شیر کی نگاہ رکھی گئی، تو سونے کا نوالہ بھی دیا گیا۔ مَیں تو یہ حسرت ہی کرسکتا ہوں کہ اےکاش! ہم بھی اپنی اولاد کی ویسی تعلیم وتربیت کےقابل ہوسکیں کہ جیسی ہمیں میسر آئی۔ آج بفضلِ تعالیٰ والد صاحب کی دُعاؤں کے صدقے ہمیں زندگی کی تمام تر نعمتیں میسّر ہیں، لیکن یہ احساس پھر بھی دامن گیر رہتا ہے کہ زندگی میں بادشاہی پیسے سے نہیں، باپ کے سائے میں ہوتی ہے۔‘‘

ہم نے دانیال سے بھی جاننا چاہا کہ وہ اپنے ابّو کو کیسا باپ پاتا ہے۔ تو دانیال نے بہت مُسکراتے، شرماتے ہوئے دو تین جملوں میں ایک عظیم باپ کی بے مثال تربیت کے عکس، اپنے پیارے والد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ’’ابّو، ابّو سے زیادہ میرے دوست ہیں۔ مَیں اپنی ایک ایک بات انتہائی آرام و سُکون کے ساتھ اُن سے شیئرکرلیتا ہوں۔ پڑھائی اور ہوم ورک سے فارغ ہونے کے بعد ہم مختلف اِن ڈور گیمز کھیلتے ہیں۔

امّی تو سب کاہی بہت خیال رکھتی ہیں، لیکن ابّو خاص طور پر میری ہر ایک چیز کا دھیان رکھتے ہیں، خصوصاً میری پڑھائی کے معاملےمیں بہت سنجیدہ ہیں۔ ویسے تو میرے اسکول میں کئی دوست ہیں، لیکن میں یہ بات بڑے فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے دنیا میں سب سے اچھے دوست میرے ابّو ہی ہیں، جو قدم قدم پر صرف رہنمائی ہی نہیں، میری بہت حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے، مجھے اپنی امّی سے بہت پیار ہے، لیکن ابّو سے تواٹیچمینٹ کا لیول ہی الگ ہے۔‘‘

’’ان العین تدمع والقلب یحزن‘‘

(نوٹ: یہ الفاظ فرمانِ نبویؐ کا حصّہ ہیں، جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیارے بیٹےحضرت ابراہیم کی وفات پر کہے تھے)

آج تقریباً چار رمضان کے مہینے گزر چکے، مسجد کے درو دیوار اُن بوڑھے قدموں کی چاپ، اُس روشن پیشانی کا لمس، اُن مقدس آنکھوں سے لگاتار بہنے والے اشکوں کی کمی کواتنی ہی شدت سے محسوس کر رہے ہوں گے، جیسے یہ دل کر رہا ہے۔ بےقرار ہو رہی ہوں گی محلہ عثمان آباد کی گلیاں، جن پر وہ بوڑھے تھکن اور درد سے چُور بدن کو لڑکھڑاتے ہوئے گرتے ہوئے خراماں خراماں رمضان کی صُبحوں اور شاموں میں اس بارگاہِ ایزدی میں حاضری کی طلب میں بےقرار لیے پھرتا رہا… ہائے یہ خلا، جو سانس لینے سے بڑھتا جاتا ہے، کیسے پُر ہو۔ اے خدائے بزرگ و برتر! مجھے اُس سے ملا دے۔

شادی کے موقعے پر، اپنے سائبان جیسے والد کے ساتھ
شادی کے موقعے پر، اپنے سائبان جیسے والد کے ساتھ

اس سینے کی تڑپتی ہوئی دعا سُن، جو اُس شخص کی محبت، اُس کے ہجر کی ہر بڑھتی ہوئی گھڑی کے ساتھ قلب و جگر میں پھیلتی جاتی ہے۔ مَیں جسے محبت کا شعور ہی نہیں، اُس کے ہجر میں گُھلا جاتا ہوں۔ ؎ اے مِری ہر صُبح کی ٹھنڈی ہوا… اے مِری ہر دوپہر کی نرم دھوپ… اے مِری ہر شام کی پُرسکون خاموشی… اے مِری ہر رات کے شفیق طلسم… اے مِری ہر نیند کے رخشندہ خواب… اے مِری ڈھلتی عُمر کے ہر تاریک موڑ کی روشنی… کہاں ہے تُو! کہ مِرے لفظ مر رہے ہیں… کہاں ہے تُو! کہ مِرا جوبن یتیمی کی دھول میں کھو گیا ہے… کہاں ہے اے مِرے گلِ دُعا! تیرے بن مِرا باغ اجڑ گیا ہے… کہاں ہے اے رنگ دلآویز و نقشِ بہارینہ… اے لحیم و حلیم لہو کی گواہی… اے شفق رُو مسکان کے مالک صحیفے… تیرا یہ ناہنجار بیٹا، تیرے غم میں بہت بے قرار ہے۔

(حماد نیازی کی ایک فیس بک پوسٹ سے اقتباس)

غزل

کسی صُبح سویر سا چہرہ تھا، کوئی سورج سی پیشانی تھی

دو روشن روشن آنکھوں میں صدیوں جیسی حیرانی تھی

آثار بتاتے ہیں مجھ کو تجھ نام کی آہٹ ہونے تک

اِک صحن تھا دل کے قصبے میں، جس میں بےحد ویرانی تھی

مَیں اپنے باپ کا شہزادہ، اِس شہر کی دھول میں دھول ہوا

جس شہر میں جوبن بیت گیا، ہر شکل مگر اَن جانی تھی

اِک ہاتھ دھرا تھا سینے پر، اِک پھول پڑا تھا زینے پر

جب جی آیا تھا جینے پر، تب مرنے میں آسانی تھی

اِک خواب کی بتّی جلتی تھی، اِک یاد کا کمرا روشن تھا

اِک نام تلاوت ہوتا تھا اور سینوں میں تابانی تھی

اِن گرد اُڑاتے رستوں پر کیا کیا آوازیں دفن ہوئیں

اِن غیر آباد مکانوں میں ہر صُورت ایک کہانی تھی

( کلام سے ایک خُوب صُورت انتخاب)

کیپشن: وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں، کٹی تھی عُمر گاؤں میں…

شادی کے موقعے پر، اپنے سائبان جیسےوالد کےساتھ

نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

سنڈے میگزین سے مزید