امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد تقریباً1,954 میل(3,145کلومیٹر) طویل ہے۔ یہ سرحد امریکی ریاستوں کیلی فورنیا، ایریزونا، نیو میکسیکو اور ٹیکساس سے گزرتی ہے، جب کہ دوسری جانب میکسیکو کی چھے ریاستیں اِس سے متصل ہیں۔ اِس طویل سرحد میں صحرا، پہاڑ، دریا، وادیاں اور شہری علاقے شامل ہیں۔
یہی جغرافیائی تنوّع اِسے دنیا کی سب سے پیچیدہ اور چیلنجنگ سرحدات میں شامل کرتا ہے۔ اِس راستے سے اربوں ڈالرز کی قانونی تجارت ہوتی ہے، تو اِس کے سائے میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس بھی سرگرم رہتے ہیں۔ کارٹیل صرف منشیات فروش گروہ نہیں رہے، آج وہ اربوں ڈالرز کے کاروباری نیٹ ورکس ہیں، جن کے پاس اسلحہ، افرادی قوّت، خفیہ معلومات اور جدید ٹیکنالوجی موجود ہے۔
سرنگوں کی دنیا: گو کہ سرحدی علاقے میں فولاد کی دیوار کھڑی ہے، لیکن اُس کے نیچے ایک اور ہی دنیا آباد ہے، جو سُرنگوں کی دنیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دَوران امریکی اور میکسیکن حکّام درجنوں ایسی سرنگیں تلاش کر چُکے ہیں، جو حیران کُن حد تک جدید تھیں۔
بعض سرنگوں میں بجلی، وینٹی لیشن سسٹم، ریل نُما ٹریک، لفٹ اور نگرانی کے آلات تک نصب تھے۔ کچھ سرنگیں صرف چند میٹر لمبی تھیں، جب کہ بعض سیکڑوں میٹر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ جب کوئی سرنگ دریافت ہوتی ہے، تو سرحدی حکّام اُسے اپنی کام یابی قرار دیتے ہیں، مگر جلد ہی کہیں اور ایک نئی سرنگ کھود لی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے، جو برسوں سے جاری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دور: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدّتِ صدارت کے آغاز پر جنوبی سرحد سے متعلق قومی ایمرجینسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی داخلے کی روک تھام، فوجی وسائل کا استعمال، دیوار کی تعمیر کی بحالی اور امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے احکامات جاری کیے گئے۔ سرحد پر فوج اور نیشنل گارڈ اہل کار تعیّنات کیے گئے۔ پناہ گزینوں کے داخلے کا طریقۂ کار مزید سخت کیا گیا اور بارڈر وال کی تعمیر دوبارہ شروع کی گئی۔
اسمگلنگ اور کارٹیل سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائیاں شروع ہوئیں۔ امریکی حکّام کے مطابق، سرحد کے مختلف حصّوں پر تقریباً644 میل(1,036کلومیٹر) پرائمری بارڈر بیریئر اور تقریباً75 میل سیکنڈری رکاوٹیں موجود ہیں۔ ان میں فولادی دیواریں، باڑیں، خاردار تاریں، گاڑیاں روکنے والی رکاوٹیں اور دیگر حفاظتی ڈھانچے شامل ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق،2025ء میں نئی پالیسیز کے نفاذ کے بعد غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔ گزشتہ دنوں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دنیا بَھر کے صحافیوں کے لیے منعقد کیے گئے ایک رپورٹنگ ٹور کے دوران ہمیں امریکا/میکسیکو سرحد قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ خصوصاً اریزونا اور کیلیفورنیا میں میکسیکو کے ساتھ موجود بارڈر کا دورہ کیا، جہاں موجود بارڈر پیٹرول کے اہل کاروں سے بات چیت بھی ہوئی۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن(CBP) مُلک کی سب سے بڑی قانون نافذ کرنے والی ایجینسی ہے۔ سی بی پی کے اعداد و شمار کے مطابق، سرحدی گرفتاریاں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوئیں اور بعض علاقوں میں80فی صد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکّام کے مطابق نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد غیر قانونی داخلے میں کمی آئی ہے۔ بارڈر پیٹرول کو بہتر کنٹرول حاصل ہوا، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے کچھ روایتی راستے متاثر ہوئے، جب کہ سرحدی شہروں پر دبائو کم ہوا۔
گزشتہ ماہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیوریٹی (DHS) اور امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن(CBP) نے اعلان کیا کہ امریکی بارڈر پیٹرول نے مسلسل بارہویں مہینے بھی سرحد پر گرفتار کیے گئے کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو امریکا کے اندر رہا نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ہی سرحد پار کرنے کی غیر قانونی کوششوں کی تعداد تاریخی حد تک کم سطح پر برقرار ہے۔ سرحدی خلاف ورزیوں میں تاریخی کمی، غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے اور گرفتاریوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ تعداد گزشتہ تین دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں کی تعداد سابق انتظامیہ کے مقابلے میں95فی صد کم ہو چُکی ہے۔ مسلسل 15ماہ سے جنوب مغربی سرحد پر ماہانہ گرفتاریاں9ہزار سے کم رہی ہیں۔ اپریل2026ء میں جنوب مغربی سرحد پر8,943 افراد گرفتار ہوئے، جو سابق صدر جوبائیڈن دَور کی ماہانہ اوسط سے 94فی صد اور دسمبر2023ء کی بلند ترین سطح سے96 فی صد کم ہے۔اپریل 2026ء میں جتنے افراد پورے مہینے میں گرفتار ہوئے، اپریل2024ء میں اِتنے افراد صرف تین دن میں گرفتار ہوئے تھے۔
موجودہ مالی سال میں اپریل تک جنوب مغربی سرحد پر کُل گرفتاریاں گزشتہ30 برسوں(1992 ء تا 2024ء) کی ماہانہ اوسط سے بھی37فی صد کم رہیں۔ اپریل2026ء میں روزانہ اوسط گرفتاریاں298 رہیں، جو، جوبائیڈن دَور کی اوسط سے94 فی صد کم ہیں۔ دسمبر2023 ء میں بائیڈن دور کے عروج پر ایک گھنٹے میں اوسطاً336 افراد گرفتار ہوتے تھے، جب کہ اپریل2026 ء میں پورے دن کی اوسط298 رہی۔ سی بی پی نے موجودہ مالی سال میں اپریل تک کُل 215,876 انکاؤنٹرز ریکارڈ کیے۔
یہ تعداد صرف اپریل2024ء کے ایک ماہ کے انکاؤنٹرز سے بھی13 فی صد کم ہے۔ سی بی پی نے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اپنی کارروائیاں مزید مؤثر بنائیں۔ اپریل2026 ء میں کوکین، میتھ ایمفیٹامین، ہیروئن، فینٹانائل اور چرس کی مجموعی ضبطی اپریل2024 ء کے مقابلے میں60 فی صد زیادہ رہی۔ مارچ2026 ء کے مقابلے میں ہیروئن کی ضبطی73 فی صد بڑھی۔ میتھ ایمفیٹامین کی ضبطی میں63فی صد اضافہ ہوا۔ فینٹانائل کی463پاؤنڈ مقدار ضبط کی گئی۔ منشیات کی مجموعی ضبطی مالی سال2024 ء کے اِسی عرصے کے مقابلے میں 61 فی صد زیادہ رہی۔
گزشتہ چار برسوں کی اوسط کے مقابلے میں 53 فی صد زیادہ منشیات ضبط کی گئی۔ اپریل2026 ء میں312 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پراسیس کی گئیں۔21.6ارب ڈالرز کے محصولات(Duties) وصولی کے لیے شناخت کیے گئے۔ سی بی پی جبری مشقّت اور جعلی مصنوعات کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپریل2026 ء میں جبری مشقّت کے شبے میں263 کھیپوں کو روکا گیا، جن کی مالیت810 ملین ڈالرز سے زیادہ تھی۔29 لاکھ 83ہزار850جعلی مصنوعات ضبط کی گئیں، جن کی تخمینی مالیت1.5 ارب ڈالر سے زائد تھی۔ امریکی زراعت اور قدرتی وسائل کے تحفّظ کے لیے سی بی پی کے زرعی ماہرین نے اپریل2026 ء میں پودوں اور جانوروں سے متعلق ممنوعہ یا محدود اشیاء کے لیے 7,181 ہنگامی نوٹس جاری کیے۔105,437 مسافروں کے مثبت زرعی معائنے کیے گئے۔ ممنوعہ زرعی اشیاء ظاہر نہ کرنے پر690 جرمانے یا خلاف ورزی کے نوٹس جاری کیے۔
ناقدین کی رائے: دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سرحدی دیوار نے مسئلہ پوری طرح حل نہیں کیا، بلکہ اس کا رُخ تبدیل کر دیا ہے۔ پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے لیے قانونی راستے محدود ہوئے ہیں اور انسانی بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ دیوار نے بعض علاقوں میں غیر قانونی آمدورفت کم کی، لیکن اس کے ساتھ کئی نئے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ جب آسان راستے بند ہوئے، تو بہت سے مہاجر زیادہ خطرناک صحرائی علاقوں کا رُخ کرنے لگے۔ نتیجتاً پیاس، گرمی، حادثات اور گم شُدگی کے واقعات بڑھے۔
ماہرین کے مطابق دیوار نے بعض جنگلی حیات کے قدرتی راستے متاثر اور جانوروں کی نقل و حرکت محدود کی۔ انسانی حقوق کی متعدّد تنظیمیں اور امیگریشن کے حامی گروپس کا مؤقف ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قانونی راستے محدود ہو گئے ہیں۔ خاندانوں کی علیٰحدگی کے خدشات بڑھے ہیں۔سرحدی سختی نے انسانی بحران مزید پیچیدہ بنایا اور تارکینِ وطن کو زیادہ خطرناک ریگستانی راستوں کی طرف دھکیل دیا ہے، جس سے اموات میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ ہزاروں افراد میکسیکو میں غیر یقینی صُورتِ حال کا شکار ہیں۔ اِن تنظیموں کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ، انسانی وقار اور بین الاقوامی پناہ گزین قوانین کا احترام بھی ہونا چاہیے۔
سرحدی مشکلات: امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن( سی بی پی )کے لیے یہ سرحد دنیا کے سب سے مشکل محاذوں میں سے ایک ہے۔ ایک طرف ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد، دوسری طرف کہیں50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والی گرمی، کہیں پہاڑ، سیلابی دریا اور میلوں تک پھیلا ویران صحرا۔ بارڈر وال صرف ایک دیوار نہیں، بلکہ ایک مکمل’’بارڈر وال سسٹم‘‘ ہے، جس میں18 سے30 فِٹ بلند اسٹیل بولارڈ دیوار، نگرانی کے کیمرے، تھرمل سینسرز، ڈرونز، فلڈ لائٹس، ریڈار اور دیگر الیکٹرانک نگرانی کا نظام شامل ہے۔
ماضی میں کارٹیلز زیادہ تر خود لوگوں کو سرحد پار کرواتے تھے، لیکن اب اُن کا ماڈل تبدیل ہو چُکا ہے اور آج وہ سرنگیں تعمیر کرنے کے ساتھ، جعلی دستاویزات کی فراہمی، ڈرونز اور انکرپٹڈ کمیونی کیشن استعمال کرتے ہیں۔ وہ منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ کو ایک مربوط کاروبار کی شکل دے چُکے ہیں۔ امریکا/ میکسیکو سرحد پر انسانی اسمگلنگ کا موجودہ نیٹ ورک انتہائی منظّم ہے۔
جنوبی امریکا، وسطی امریکا یا دیگر ممالک سے آنے والے افراد میکسیکو پہنچتے ہیں۔ پھر وہاں کے اسمگلنگ نیٹ ورکس سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ کارٹیلز فیس وصول کرتے ہیں اور مخصوص راستے فراہم کیے جاتے ہیں۔ سرنگوں، صحرائی پگڈنڈیوں، دریائی راستوں یا جعلی دستاویزات کے ذریعے امریکا میں داخلے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سمندری راستے: کارٹیلز سمندری راستوں سے بھی منشیات اور انسانی اسمگلنگ کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکی کوسٹ گارڈز، سیکٹر سان ڈیاگو کے حکّام نے بتایا کہ اِس سیکٹر کا دائرۂ کار تقریباً165,912 مربع میل پر محیط ہے، جس میں میکسیکو کے ساتھ60 میل طویل بین الاقوامی سرحد اور بحرالکاہل(Pacific Ocean) کے ساتھ 114میل طویل ساحلی سرحدی علاقہ شامل ہے۔
سیکٹر سان ڈیاگو اپنے کیپٹن آف دی پورٹ (Captain of the Port - COTP) زون اور مجموعی دائرۂ کار میں امریکی کوسٹ گارڈ کے تمام فرائض اور مشنز کا ذمّے دار ہے، جن میں تلاش اور امداد(Search and Rescue) کی کارروائیاں، بندرگاہوں، آبی گزرگاہوں اور ساحلی علاقوں کا تحفّظ، آبی گزرگاہوں کا انتظام و انصرام، سمندری قومی سلامتی، بحری سائنسی سرگرمیوں کی معاونت اور نگرانی، نیوی گیشن کے معاون نظام کی تنصیب، دیکھ بھال اور آپریشن کمانڈ، کنٹرول اور لاجسٹک معاونت کی فراہمی شامل ہے۔
سیکٹر سان ڈیاگو امریکی کوسٹ گارڈ کے لیے ایک مرکزی کمانڈ ادارے کے طور پر کام کرتا ہے، جو سمندری سلامتی، سرحدی تحفّظ، ہنگامی امداد، بندرگاہی آپریشنز اور قومی مفادات کے تحفّظ کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ کوسٹ گارڈز حکّام کے مطابق، کیلی فورنیا کوسٹل ریجن( سی سی آر) میں سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور سان ڈیاگو شامل ہیں۔
امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے احکامات کے بعد کوسٹ گارڈز نے سمندری حدود میں کئی آپریشنز کیے،جن کے نتیجے میں اب سمندری راستے سے بارڈر پار کرنے کی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ حکّام نے بتایا کہ کوسٹ گارڈ کمانڈ سینٹر ایک منفرد کمانڈ سینٹر ہے، جہاں600کیمروں اور ریڈارز کی مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ اُن کے پاس سینسرز ڈیسک، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن پروگرام ہے۔ ہیلی کاپٹرز اور کشتیاں ہیں۔ اہل کاروں کو سخت موسموں سے واسطہ پڑتا ہے۔
ستمبر اور اکتوبر میں یہاں گہری دھند ہوتی ہے، جس کا ملزمان فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں صرف میکسیکو ہی سے نہیں، پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے ہیں۔ اب ملزمان کو بہت طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالنی پڑتی ہیں۔
بارڈر پیٹرول : امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن حکّام کے مطابق، ٹکسن سیکٹر اریزونا90ہزار530 اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے۔ ٹکسن سیکٹر امریکی بارڈر پیٹرول کا سب سے بڑا سیکٹر ہے۔ جنوب مغربی سرحد 9 سیکٹرز پر مشتمل ہے۔ ٹکسن سیکٹر میں3200 بارڈر پیٹرول ایجنٹ ہیں۔
یہاں کی مشکل جغرافیائی صُورتِ حال کے باعث سرحد پار سے ہونے والی سب سے زیادہ اموات بھی اِسی سیکٹر میں ہوتی ہیں۔ اِسی لیے بارڈر پیٹرول ایجنٹس کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ بارڈر کے بعد چیک پوائنٹ آپریشنز اِس سیکٹر کی دوسری لائن ہے، جہاں بارڈر سے آنے والی گاڑیاں چیک کی جاتی ہیں۔ اہل کار، میکسیکن پولیس کے ساتھ جوائنٹ پٹرولنگ بھی کرتے ہیں۔
سان یاسدرو لینڈ پورٹ آف اینٹری(San yasidro land port of entry) میں تعیّنات بارڈر پیٹرول حکّام نے بتایا کہ25 فی صد لوگ یہاں سے امریکا میں داخل ہوتے ہیں اور یہ دنیا کی سب سے مصروف سرحد ہے۔ یہاں روزانہ45 ہزار مسافر آتے ہیں، جب کہ مُلک میں ایک لاکھ لوگ روزانہ مختلف پورٹس آف انٹریز سے آتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’یہاں ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔
مسافروں کی دستاویزات کے علاوہ گاڑیوں کی لائسینس پلیٹس بھی چیک کی جاتی ہیں۔ نیز، آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ 89مختلف سینسرز، ایکس رے سسٹم، ریڈیو فریکوئینسی آئیڈنٹی فیکیشن ڈیوائسز (RFID) کا استعمال ہوتا ہے، جب کہK-9 کی ٹیمز بھی معاونت کے لیے موجود ہوتی ہیں۔
چوں کہ یہ ایک قانونی داخلے کا راستہ ہے، تو اِس لیے ہم میکسیکن حکّام سے بھی رابطہ رکھتے ہیں۔‘‘ حکّام کے مطابق، پکڑی جانے والی60 فی صد منشیات کیلیفورنیا میں سیز کی جاتی ہے۔ امریکی بارڈر پیٹرول، سان ڈیاگو سیکٹر کے مطابق یہاں 60میل زمینی بارڈر ہے، جس میں سے46 میل پر دیوار تعمیر کی جا چُکی ہے۔
یہ جنوب مغربی سرحد کا سب سے چھوٹا سیکٹر ہے، تاہم یہ سب سے زیادہ گنجان آبادی والا سیکٹر ہے۔ کارٹیل یہاں سے منشیات اور انسانی اسمگلنگ کی کوشش کرتے ہیں۔ حکّام کے مطابق،’’یہاں ہمارے700سے زائد ایجنٹس تعیّنات ہیں۔ یہاں بارڈر پر پرائمری اور سیکنڈری دیوار کے علاوہ سینسرز، لائٹنگ کیمرا، بائی سائیکل پیٹرول، کیمرا ٹاورز، ریڈار اور ہیلی کاپٹر کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
کارٹیل سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں اور وہ سالانہ اربوں ڈالرز انسانی اسمگلنگ کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔یہ بارڈر عبور کروانے کے اوسطاً 10ہزار ڈالر فی کس وصول کرتے ہیں۔ تاہم،2026 ء میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے واقعات میں 90فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔حکّام نے بتایا کہ سان ڈیاگو سیکٹر نے مالی سال2023 ء میں ایک لاکھ،76 ہزار 281 افراد گرفتار کیے، جب کہ2024 ء میں3 لاکھ24 ہزار 256 ، 2025 ء میں49 ہزار، 900 اور2026 ء میں6 ہزار977 افراد گرفتار کیے گئے۔
پاک، افغان سرحد: امریکا/میکسیکو اور پاکستان/افغانستان سرحدیں مختلف خطّوں میں واقع ہیں، لیکن ان کے سامنے کئی مشترکہ چیلنجز ہیں۔ دونوں سرحدیں ہزاروں کلومیٹر طویل ہیں، دونوں پر غیر قانونی آمدورفت، اسمگلنگ اور عسکریت پسندی کے مسائل موجود رہے ہیں اور دونوں ممالک نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باڑ یا دیوار جیسی رکاوٹوں کا سہارا لیا ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل سرحد پر(جسے پاکستان بین الاقوامی سرحد، جب کہ افغانستان’’ڈیورنڈ لائن‘‘ کہتا ہے) باڑ لگانے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ اِس منصوبے کا مقصد دہشت گردوں، اسمگلرز اور غیر قانونی آمدورفت روکنی تھی۔ بیش تر حسّاس علاقوں میں دُہری باڑ، خاردار تاریں، نگرانی کے کیمرے، سینسرز اور سرحدی حفاظت کے لیے بینکرز تعمیر کیے جا چُکے ہیں۔
دونوں سرحدوں میں مختلف چیلنجز: امریکا/میکسیکو اور پاکستان/ افغانستان سرحدوں کے درمیان سب سے بڑی مماثلت’’سرحدی سلامتی‘‘ کا مسئلہ ہے، جب کہ سب سے بڑا فرق’’خطرے کی نوعیت‘‘ ہے۔ امریکا کی توجّہ زیادہ تر غیر قانونی نقل مکانی اور منشیات کی اسمگلنگ پر مرکوز ہے، جب کہ پاکستان کی اوّلین ترجیح دہشت گردی، عسکریت پسندوں کی دراندازی اور سرحدی نگرانی ہے۔
امریکا کو میکسیکو سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کا سامنا رہتا ہے، جب کہ پاکستان کو افغانستان سے غیر قانونی طور پر سرحد عبور، نان رجسٹرڈ نقل و حرکت اور عسکریت پسندوں کی دراندازی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ دونوں سرحدوں پر اسمگلنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دونوں سرحدوں میں کچھ حصّے صحرائی، پہاڑی یا ویران علاقوں پر مشتمل ہیں، جس سے نگرانی اور کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے۔ دونوں ممالک نے سرحدی رکاوٹوں، نگرانی کے نظام اور اضافی سیکیوریٹی انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ہے۔
امریکا/ میکسیکو سرحد بین الاقوامی طور پر متفّقہ اور تسلیم شدہ سرحد ہے، جب کہ پاک، افغان سرحد کی قانونی حیثیت پر افغانستان کے بعض حلقے اعتراضات کرتے رہے ہیں۔ امریکا، میکسیکو سرحد پر اقتصادی نقل مکانی اہم عُنصر ہے، جب کہ پاک، افغان سرحد پر سیکیوریٹی اور عسکریت پسندی زیادہ بڑا عُنصر ہے۔ امریکا، میکسیکو سرحد پر سرنگوں کے ذریعے اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، تو یہاں پہاڑی درّوں اور غیر رسمی راستوں کا استعمال زیادہ ہے۔
سرحدی رکاوٹ نہ ہونے سے نقصان: سرحدی رکاوٹ نہ ہونے کی صُورت میں نقل و حرکت آسان ہو جاتی ہے، عسکریت پسند یا اسمگلرز نسبتاً آسانی سے ایک سے دوسرے مُلک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ بغیر باڑ یا سرحدی چیک پوائنٹس کے یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کون قانونی مسافر ہے اور کون غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر رہا ہے۔
حملے کے بعد فرار آسان ہوتا ہے، سرحدی علاقوں میں کارروائی کے بعد حملہ آور دوسرے مُلک واپس جا سکتے ہیں، جس سے تعاقب پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اسمگلنگ کے راستے بڑھ جاتے ہیں، منشیات، اسلحے اور دیگر غیر قانونی اشیا کی نقل و حرکت آسان ہو جاتی ہے۔ اِسی وجہ سے پاکستانی حکّام بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ باڑ کا مقصد سرحدی انتظام، دہشت گردی کی روک تھام اور قانونی تجارت کو منظّم کرنا ہے۔
امریکا اور میکسیکو کی سرحد صرف ایک جغرافیائی لکیر نہیں، بلکہ اکیسویں صدی کی سب سے پیچیدہ سلامتی، انسانی اور سیاسی کش مکشوں میں سے ایک ہے۔ دیواریں، خاردار تاریں، ڈرونز اور ہزاروں اہل کار اِس جدوجہد کا حصّہ ہیں مگر اس کے باوجود سرحد پر جاری جنگ ختم نہیں ہوئی۔ ایک طرف امریکا اپنی قومی سلامتی اور سرحدی کنٹرول مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری جانب غربت، تشدّد، منشیات کی تجارت اور بہتر زندگی کی تلاش لاکھوں افراد کو مسلسل اِس سرحد کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔