محمد رضا آرائیں
تاریخ کے بعض ابواب، گزرتے وقت و حالات کے ساتھ دُھندلا جاتے ہیں، مگر کچھ واقعات صدیاں گزرنے کے بعد روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ ’’کربلا بھی‘‘ اسی نوع کا تاریخ ساز واقعہ ہے۔10محرم61ہجری کی وہ دوپہر، جب فرات کے کنارے پیاس، وفا، خوف، اقتدار، اور ضمیر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔ وہ صرف ایک جنگ نہ تھی، بلکہ حق و باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے کُھل جانے والا ایک دروازہ تھا، جس سے ہر دَور کا انسان گزرتا رہے گا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی اور فلسفۂ شہادت، دراصل استقامت، جرأت اور حق پرستی کا وہ مینارئہ نور ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کے لیے کٹ مرنا ہی اصل کام یابی ہے۔آپ ؓنے یہ ثابت کیا کہ حق کی فتح کے لیے مادی وسائل یا لشکر کی کثرت شرط نہیں، بلکہ جذبہءِ ایمانی اور سچّی نیّت لازم ہے۔
یزید کی بیعت سے انکار کر کے آپؓ نے یہ پیغام دیا کہ ظلم اور ناانصافی کے نظام کے سامنے خاموش رہنا بھی ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ آپؓ کا یہ تاریخی جملہ ’’مجھ جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا‘‘ رہتی دنیا تک مظلوموں کے لیے جرأت و شجاعت کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔ میدانِ کربلا میں آپؓ کا مقصدِ حیات اقتدار کا حصول نہیں، بلکہ دینِ محمدیﷺ کی بقاء اور اُمّتِ مسلمہ کی اصلاح تھا۔
گہوارۂ نبوّت میں ولادت اور اہلِ بیتؓ میں مقام: اہلِ بیتؓ کا تصور، اسلامی تہذیب میں محض نسبی قرابت کا عنوان نہیں، بلکہ ایک روحانی، اخلاقی، اور تہذیبی مقام ہے۔ قرآن نے ان کی تطہیر کا ذکر فرمایا، اورﷺ نے انہیں امت کے لیے ہدایت، محبت، اور اتباع کا مرکز قرار دیا۔ اسی عظیم خانوادے میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت 4شعبان 4ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
والد، سیدنا حضرت علی المرتضیٰ، والدہ سیدۃ النساء فاطمہ الزہرا، اور نانا، رحمۃ للعالمین ﷺ یہ نسبتیں کسی ایک فرد کے لیے محض خاندانی تعارف نہیں، بلکہ تاریخِ انسانیت میں ایک بے مثال روحانی ترکیب ہیں۔ ایک طرف نبوّت کی عظمت، دوسری طرف ولایت کی گہرائی، اور تیسری طرف طہارتِ نسوانی کی وہ بلند ترین ہستی، جن کا نام حضرت فاطمہؓ ہے۔
حضرت امام حسینؓ کی ذات میں یہ تینوں جہتیں اس طرح جمع ہوئیں کہ وہ محض ایک عظیم شخصیت نہیں، بلکہ ایک تہذیبی علامت بن گئے۔ سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 33میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ مفہوم و ترجمہ:’’اے (نبی ؐ کے) اہلِ بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی گندگی (گناہ اور ناپاکی) کو دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک و صاف کر دے۔‘‘
اس حوالے سےمسند احمد اور صحیح مسلم سمیت دیگر کتبِ احادیث میں حضرت عائشہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کے نزول کے بعد حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو ایک چادر میں ڈھانپا اور دعا فرمائی۔’’اے اللہ! یہ میرے اہل ِبیتؓ ہیں، پس ان سے ناپاکی کو دُور فرما اور اُنہیں خُوب پاک کردے۔‘‘یہ آیت اہل بیتِ اطہار کی عظمت، طہارت اور اُن کے بلند روحانی مقام کو واضح کرتی ہے۔(صحیح مسلم، مسند احمد)۔
یہ واقعہ محض ایک دُعا یا شفقت کا منظر نہیں، بلکہ ایک اعلان ہے کہ اہلِ بیتؓ کی یہ منتخب جماعت امت کے لیے طہارت، ہدایت، اور اخلاقی مرکزیت کی علامت ہے۔ مفسرینِ کرام، خصوصاً امام طبری، امام قرطبی، اور امام فخرالدین رازی، اس آیت کے مفہوم میں اہلِ بیت کی باطنی طہارت اور اعلیٰ روحانی مقام کی نشان دہی کرتے ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں اس آیت کو ان پاک ہستیوں کی عظمت کی دلیل کے طور پر بیان کیا، اور یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ ان کے اندر اخلاقی آلودگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن اور اہلِ بیتؓ کی امانت: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات ہے، جو علم، شرف، اور اخلاق کے امین تھے۔ سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، اور مسند احمد میں یعلیٰ بن مُرّہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ ترجمہ: ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور مَیں حسینؓ سے ہوں۔‘‘ یہ حدیث بظاہر ایک نسبتِ خانوادہ بیان کرتی ہے، لیکن اس کا باطن کہیں زیادہ گہرا ہے۔ اس میں صرف نسبی تعلق نہیں، بلکہ رسالت کے ظہور، بقا، اور اخلاقی استحکام کی طرف اشارہ بھی موجود ہے اور کربلا کے تناظر میں یہ زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
اگر حضرت امام حسینؓ مصلحت کے تحت یزید کی بیعت کر لیتے تو اخلاقی حق، دینی وقار، اور نبوی وراثت کا وہ روشن چہرہ دھندلا جاتا، جس کی حفاظت کے لیے حضرت امام حسین ؓ نے انکار کیا۔ ان کا انکار ضد نہیں تھا، یہ رسالت کی اخلاقی امانت کا دفاع تھا۔نبی کریم ﷺ نے اپنے نواسوں، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شان میں فرمایا۔
ترجمہ:’’حسنؓ اور حسینؓ جنّت کے جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘سنن ترمذی کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت امام حسینؓ سے محبت کرنا دراصل نبوی محبت کے دائرے میں داخل ہونا ہے۔ یہ صرف فضیلت کا اعلان نہیں، بلکہ روحانی سیادت کا بیان ہے۔ اہلِ جنّت میں جوانوں کی سرداری ان ہی کے لیے مخصوص قرار پائی، اور اس میں ایک ایسی معنوی قیادت مضمر ہے، جو دنیاوی منصب سے بلند تر ہے۔
حق کی سب سے روشن دلیل: 10 ہجری میں نجران کے عیسائی علما کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت کے بارے میں بحث ہوئی، اور قرآن نے مباہلہ کا حکم دیا۔ رسول اللہ ﷺ اس موقعے پر حضرت فاطمہؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ اورحضرت حسینؓ کو ساتھ لے کر نکلے۔ جب نجران کے علما نے ان پاکیزہ چہروں کو دیکھا، تو مباہلہ سے پیچھے ہٹ گئے۔امام فخرالدین رازی اس واقعے سے متعلق فرماتے ہیں۔
’’ رسول اللہ ﷺ نے پوری امّت میں سے صرف ان ہی نفوسِ قدسیہ کو منتخب فرمایا اور اس انتخاب میں امام حسین ؓ کی شمولیت، ان کی بچپن ہی سے عظمت، طہارت اور دینی مقام کی روشن دلیل ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں صبر، محض خاموشی نہیں، بلکہ ایک بے دار اخلاقی شعور تھا۔ یعنی ایسا صبر، جو ظلم کے مقابلے میں خاموش تماشائی نہ بنے، بلکہ اپنے اصول پر قائم رہے۔
کربلا کا پورا سفر اسی صبر کی عملی تفسیر ہے کہ حق معلوم تھا، خطرہ سامنے تھا، مگر قدم نہیں رکے۔سخاوت کے باب میں بھی حضرت امام حسینؓ کا کردار بے مثال ہے۔مشہور مؤرخ و محدث امام ابن اثیر الجزری نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب اسد الغابہ میں سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور جُود و کرم کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ اس روایت کے مطابق، آپ نے اپنی زندگی میں تین مرتبہ اپنا کُل مال (تمام تر پونجی اور اثاثے) اللہ کی راہ میں تقسیم فرمایا اور آدھا مال خود رکھ کر آدھا راہِ خدا میں دینے کا عمل بھی بارہا کیا۔
یہ واقعہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی بے مثال فیاضی، دنیا سے بے رغبتی اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کے جذبے کا عکّاس ہے۔ اور پھر مروان بن حکم جیسے شخص کا یہ کہنا کہ’’ حضرت حسین ؓ کی سخاوت کا مقابلہ ممکن نہیں۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فیاضی، دوستوں کی مدح نہیں، دشمنوں کی شہادت سے بھی ثابت ہے۔
قائدانہ اخلاق کے لحاظ سے ان کی شخصیت اس سے بھی زیادہ عظیم ہے کہ انہوں نے کسی کو جبراً اپنے ساتھ نہیں رکھا۔ کربلا کی رات انہوں نے ساتھیوں کو باقاعدہ اجازت دی کہ چاہیں تو چلے جائیں، کیوں کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ نہیں، ایک اصولی موقف تھا۔ جدید سیاسی فلسفے میں اسے Consensual leadership کہا جا سکتا ہے، یعنی ایسی قیادت، جو وابستگی کو جبر نہیں، شعور سے پیدا ہونے والا اختیار سمجھتی ہے۔
انکارِ بیعت۔ ایک اصولی فیصلہ: 60ہجری میں جب یزید نے اقتدار سنبھالا تو اس نے ملک کی ممتاز شخصیات سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ حضرت امام حسینؓ کے سامنے چند راستے تھے، یعنی بیعت، خاموشی، یا مزاحمت۔ انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، لیکن یہ فیصلہ جذباتی نہ تھا۔ یہ ایک اصولی، شعوری، اور اخلاقی انتخاب تھا۔ ابنِ کثیر نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں روایت کیا کہ جب یزید کے نمائندے نے بیعت کا تقاضا کیا تو حضرت امام حسینؓ نے فرمایا۔
ترجمہ: ’’میرے جیسا شخص ایسے شخص کی بیعت نہیں کرسکتا۔‘‘یہ جملہ محض انکار نہیں، سیاسی اخلاقیات کا مختصر ترین منشور ہے۔ اس میں یہ اصول پوشیدہ ہے کہ اقتدار اگر اخلاق سے خالی ہو جائے، تو اس کی اطاعت لازم نہیں رہتی۔ امام غزالی ؒ نے ظلم کے مقابلے میں کلمۂ حق کو افضل جہاد کہا ہے، اور حضرت امام حسینؓ کا موقف اسی علمی و اخلاقی اصول کی عملی تصویر ہے۔
کربلا، تہذیبِ انسانی کا اخلاقی موڑ: کربلا کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے اسلامی تہذیب کے اخلاقی ضمیر کو ایک نئی زندگی دی۔ اگرچہ میدانِ کربلا ایک سانحہ تھا، مگر اس کے بعد ظلم کے خلاف اُٹھنے والی کئی تحریکوں نے اسی خونِ حسینؓ کو اپنی اخلاقی سَند بنایا۔ مختار ثقفی، اور بعد میں عباسی انقلاب، سب نے کربلا کو صرف یاد نہیں کیا، اسے دلیل بنایا۔
کربلا کا بنیادی تضاد سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی تھا۔ ایک طرف طاقت تھی، اقتدار تھا، لشکر تھا۔ دوسری طرف وہ حق تھا، جو انسان کے ضمیر کو جھکنے پر مجبور کرنے والی کسی بھی قوت کے خلاف تھا۔ اور پھر کربلا نے یہ ثابت کیا کہ سچ اگر اکیلا بھی ہو تو باطل کے لشکر سے کم زور نہیں ہوتا۔
فلسفۂ شہادت،فنا سے بقا تک: شہادت، روحانی اور اخلاقی بقا کی بلند ترین صُورت ہے۔ امام غزالی ؒ شہادت کو رُوح کے ارتقاء کی آخری منزلوں میں شمار کرتے ہیں۔ جلال الدین رومی ؒ فرماتے ہیں۔ ’’مرگِ ما حیاتِ ماست: ہماری موت ہی ہماری زندگی ہے۔‘‘ اس جملے کا مفہوم وہی سمجھ سکتا ہے، جو حیات کو صرف سانسوں کی آمدورفت نہیں، بلکہ اثر، کردار، اور معنویت کے تسلسل کے طور پر دیکھتا ہو۔
کربلا اسی معنی میں شہادت کا سب سے درخشاں استعارہ ہے۔ اس نے جسمانی شکست کو اخلاقی فتح میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانی میں بعض شخصیات جسموں کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، مگر بعض اپنے پیغام کے ساتھ امر ہو جاتی ہیں اور حضرت امام حسینؓ انہی زندہ ہستیوں میں سے ہیں۔
عاشورہ کی شب: طبری اور ابن اثیر کی روایات کے مطابق، کربلا کی رات، حضرت امام حسینؓ نے ایک رات کی مہلت مانگی، تاکہ عبادت کرسکیں۔ دشمن نے مہلت دی، اور اس رات اہلِ بیت و اصحاب نماز، تلاوت، اور دعا میں مشغول رہے۔ یہ کسی عام جنگی داستان کا نہیں، بلکہ روحانی استقامت کا منظر ہے۔ موت کے یقینی علم کے باوجود عبادت، اور آخری لمحے تک ربّ سے تعلق، یہی کربلا کی اصل رُوح ہے۔
دربارِ یزید میں حضرت زینبؓ کا ولولہ انگیز، استدلال سے بھرپورخطاب: واقعۂ کربلا کے بعد دمشق میں یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کا خطبہ تاریخِ اسلام کا ایک عظیم اور انقلابی موڑ ہے۔ آپ نے فصاحت و بلاغت سے بھرپور الفاظ میں یزید کے غرور کو خاک میں ملاکر اس کے مظالم بے نقاب کیے۔ اس خطبے کا خلاصہ اور پس منظریہ ہے کہ جب شہدائے کربلا کے کٹے ہوئے سر یزید کے دربار میں پیش کیے گئے، تو یزید نے تکبّر میں آکر قرآنی آیات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی فتح کے شادیانے بجائے۔
اسی دوران دربار میں حضرت زینب بنتِ علیؓ نے خطبہ شروع کیا۔آغاز میں اللہ کی حمدکے بعد قرآنِ مجید کی سورۃ الروم ،آیت 10کی تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: ’’سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اللہ کی رحمت ہو اس کے رسول ؐ اور تمام آلِ رسول ؐ پر۔ اللہ نے سچ فرمایا ہے، اور اس کا فرمان یہی ہے، پھر برائی کرنے والوں کا انجام برا ہوا، کیوں کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جُھٹلایا اور اُن کا مذاق اُڑایا۔‘‘
پھر آپ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے اس کے گھمنڈ اور ظاہری فتح کو للکارا۔ ’’اے یزید! کیا تُو سمجھتا ہے کہ ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور رسول ؐ کی آل کو زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تُو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا، اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہوکر ذلیل ہوگئے اور تُو ظالم بن کر سربلند ہوا؟
تُو اپنی ظاہری جیت پر خوشی و سرور کا جشن منا رہا ہے، کیوں کہ تجھے دنیا کی حکومت مل گئی ہے؟ لیکن ہوش کی سانس لے، کیا تُونے اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے اُنھیں جو ڈھیل اور مہلت دے رکھی ہے، وہ اُن کے حق میں بہتر ہے؟آج تو ہم پر ظلم کر کے خوش ہو رہا ہے، لیکن جان لے کہ تُونے اپنے ہی ہاتھوں اپنے لیے رسوائی اور عذاب کا سامان اکٹھا کرلیا ہے۔ تُو رسول اللہ ؐ کی پاکیزہ نسل کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے، اللہ اس کا بدلہ ضرور لے گا۔
اے یزید! تُو جو چاہے، مکر و فریب کرلے، لیکن تُو ہمارے ذکر کو کبھی نہیں مٹاسکتا اور ہماری یاد کو دلوں سے نہیں نکال سکتا۔‘‘حضرت زینبؓ کے اس خطبے نے دربار میں موجود تمام افراد کے دل دہلا دیے، یزید کی جیت کی خوشی ماتم اور خوف میں بدل گئی۔ اس کے بعد یزید خوف زدہ ہو گیا اور اس نے سیّدہ زینبؓ اور دیگر قیدیوں کے ساتھ رویہ نرم کرنے پر مجبور ہو کر انہیں باعزت وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
کربلا..... مشاہیرِ عالم کی نظر میں: سانحۂ کربلا، مسلمانوں کے لیے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم فلسفیوں، مؤرخین اور سیاسی رہنماؤں کے نزدیک بھی یہ ’’حق و باطل کی جنگ‘‘، ظلم کے خلاف استقامت اور انسانی حقوق کی سب سے بڑی اور لافانی قربانی ہے۔
تحریکِ آزادیِ ہند کے رہنما، مہاتما گاندھی کربلا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق کہتے ہیں۔ ’’مَیں نے امام حسینؓ سے سیکھا ہے کہ مظلوم ہونے کے باوجود فتح کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ اسلام کا پھیلاؤ تلوار سے نہیں، بلکہ امام حسینؓ جیسی پاکیزہ ہستیوں کی لازوال قربانی کا نتیجہ ہے۔‘‘
فلسفی اور مؤرخ، تھامس کارلائل لکھتے ہیں۔ ’’واقعۂ کربلا کا سب سے بہترین درس یہ ہے کہ امام حسینؓ اور اُن کے ساتھی خدا پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ اُنھوں نے ثابت کر دیا کہ حق و باطل کے معرکے میں عددی اکثریت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ امام حسینؓ کی فتح مجھے حیرت زدہ کر دیتی ہے۔‘‘برطانوی مؤرخ ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں۔ ’’دُوردراز کی تاریخ اور آب و ہوا میں بھی، امام حسین ؓکی شہادت کا یہ الَم ناک منظر ہر قاری کی ہم دردی کو جگا دیتا ہے۔‘‘
مشہور برطانوی ناول نگار،چارلس ڈکنز لکھتے ہیں۔ ’’اگر امام حسینؓ کی جنگ دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے تھی، تو مَیں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بچّوں سمیت اُن کے اہلِ خانہ بھی اُن کے ساتھ اس سفر میں کیوں شریک تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی قربانی خالصتاً اسلام کی بقا کے لیے تھی۔‘‘ بھارت کے پہلے وزیرِاعظم، جواہر لال نہرو، کہتے ہیں، ’’امام حسینؓ کی قربانی کسی ایک قوم یا مذہب تک محدود نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے سچّائی اور انصاف کی راہ پر چلنے کی ایک عظیم تحریک ہے۔‘‘
لبنانی، عیسائی مصنف و محقق، انطوان بارا (Antoine Bara)کا کہنا ہے کہ ’’انسانیت کی گزشتہ اور موجودہ تاریخ کی کسی بھی جنگ نے میدانِ کربلا کی طرح اتنی ہم دردی اور جذبہ پیدا نہیں کیا، اور نہ ہی اتنے گہرے اسباق دیے۔‘‘ بانیٔ پاکستان، قائدِ اعظم محمد علی جناح، واقعہ کربلا کے حوالے سے فرماتے ہیں۔ ’’دنیا،حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت سے زیادہ بہتر اور روشن مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
آپؓ محبت، شجاعت اور قربانی و ایثار کے پیکر تھے۔ جنہوں نے اپنی جان اور اپنے خاندان کی پیاس کی پروا نہ کی، لیکن ظالم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ہر مسلمان کو خاص طور پر آپؓ کی زندگی سے سبق سیکھنا چاہیے اور آپؓ کی ذاتِ مبارکہ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔‘‘
جب کہ علامہ اقبال کا یہ فکر انگیز قول، حقیقتِ حیات اور جذبہِ عمل کا ایک ایسا شاہ کار ہے، جو باطل کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ابدی قوت کو بیان کرنے کے ساتھ اس فلسفے کو بھی بہترین انداز میں سمیٹتا ہے۔’’شبیریت محض تاریخی کردار نہیں، ایک مستقل مزاج اخلاقی طاقت کا نام ہے جو ہر دور کے باطل کے سامنے تازہ رہتی ہے۔‘‘