کراچی (اسٹاف رپورٹر) اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے ایم سی کا مجوزہ بجٹ2026-27 غیر حقیقی تخمینوں پر مبنی، آمدنی اور ترقیاتی اخراجات کی صورتحال تشویشناک ہے، بجٹ کو حقیقی آمدنی کے مطابق مرتب کیا جائے، اس سال ہر یونین کمیٹی کو 10 کروڑ کا خصوصی پیکیج دیا جائے، منتخب نمائندوں اور یونین کمیٹیوں کو بااختیار بنا کر وصولیوں اور ترقیاتی کاموں میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے،بجٹ تجاویز تمام منصوبوں کے لیے کونسل کی تمام پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل نگراں کمیٹیاں قائم کی جائیں۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے گزشتہ سال کے ترقیاتی بجٹ کے کم استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کلک منصوبوں کے لیے 7.4ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن صرف 3.57 ارب روپے خرچ کیے جاسکے، جبکہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لیے مختص 9 ارب روپے میں سے بھی تقریباً نصف ہی خرچ ہوسکے۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے اپنی بجٹ تجاویز کی کاپی، میئر کراچی، میونسپل کمشنر اور کے ایم سی کے مشیر مالیات کو بھیجی ہیں، اپنے تفصیلی تجزیے اور تجاویز میں اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ بجٹ میں آمدنی کے تخمینے غیر حقیقی دکھائی دیتے ہیں اور بجٹ کے حجم کو بلاجواز بڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کا بجٹ تقریباً 55.5 ارب روپے تھا جبکہ رواں سال تقریباً 60 ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے، حالانکہ کلکCLICK منصوبے کی مد میں تقریباً 7 ارب روپے کم ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ کو مصنوعی طور پر بڑا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے مطالبہ کیا کہ کے ایم سی کے تمام ترقیاتی کاموں کی نگرانی متعلقہ یونین کمیٹیوں کے سپرد کی جائے۔