• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں دواؤں کے غیر محفوظ تلف کا رجحان، JSMU تحقیق

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز (IPS-JSMU) کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کے رہائشی بڑی تعداد میں زائد المیعاد اور غیر استعمال شدہ ادویات کو غیر محفوظ طریقے سے تلف کر رہے ہیں، جو ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کے لیے تشویشناک ہے۔وائس چانسلر امجدسراج میمن کاکہنا ہے کہ تحقیق کے ذریعے صحت کے مسائل اجاگر کرنا جامعات کی ذمے داری ہے۔ یہ تحقیق الائیڈ میڈیکل ریسرچ جرنل میں شائع ہوئی۔ اس سروے میں کراچی کے مختلف علاقوں سے 2000 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تاکہ ادویاتی فضلے کے بارے میں عوامی آگاہی اور رویّوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ نتائج کے مطابق 86 فیصد افراد زائد المیعاد یا غیر استعمال شدہ ادویات کو گھریلو کچرے میں پھینک دیتے ہیں، جبکہ 8 فیصد انہیں نالیوں یا بیت الخلا میں بہا دیتے ہیں۔ صرف 4 فیصد افراد کو ادویات واپس جمع کرنے (ٹیک بیک) پروگرامز کا علم تھا، جبکہ 96 فیصد اس نظام سے نا واقف پائے گئے۔ پرنسپل IPS-JSMU پروفیسر ہما علی نے کہا کہ نتائج آگاہی اور محفوظ تلفی کے طریقوں کے درمیان ایک واضح خلا کو ظاہر کرتے ہیں۔تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر ارم ظہیر نے کہا کہ ادویات کا غلط طریقے سے تلف کیا جانا ماحولیاتی آلودگی، پانی کے ذرائع کی آلودگی، حادثاتی زہریلے اثرات اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سبب بنتا ہے۔یہ تحقیق ڈاکٹر ارم ظہیر، ڈاکٹر کرن رفیق، ڈاکٹر شگفتہ نسار اور ڈاکٹر بشرٰی حنا نے کی۔

ملک بھر سے سے مزید