ملتان(سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب نے پنجاب بجٹ 2026-27کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو صوبائی ترقیاتی بجٹ میں اس کی آبادی، رقبے اور پسماندگی کے تناسب سے واضح اور منصفانہ حصہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بجٹ ڈھانچے میں خطے کی دیرینہ محرومیوں کے ازالے کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات نظر نہیں آتے، جس کے باعث عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا ذکر تو کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر فنڈز کی تقسیم اور منصوبوں کی تکمیل میں واضح عدم توازن پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا حل یہی ہے کہ جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ اور بااختیار ترقیاتی و مالیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ وسائل کی شفاف تقسیم اور بروقت استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ تعلیم کے شعبے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں تعلیمی اداروں کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور اساتذہ کی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے۔