کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 164 کے مطابق صوبوں نے وفاق کو گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا، حکومت سندھ نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دفاع کےلئے پیسے دیئے۔ کیٹی بندر پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پورٹ بنائیں گے، کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کے قیام پر کام شروع کردیا ،متوسط طبقے کو سولر سسٹم لگانے کیلئے آسان شرائط پر قرضے دیں گے، پانی کی قلت پر تشویش ہے، وفاق میں مسئلہ اٹھایا ہے، یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک آئندہ ماہ تک بحال ہوجائیگی۔ ریڈ لائن منصوبے اور کراچی سرکلر ریلوے کے لئے وفاقی تعاون کی ضرورت ہے۔وہ سندھ اسمبلی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دفاع کےلئے پیسے دیئے، آئین کا یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا، آئین میں یہ شق ڈالنے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا سلام پیش کرتا ہوں، گرانٹ دینے کی صوبوں نے یقیناً ایک قیمت ادا کی ہے، این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے کو ریوائز کرنے کا کہا گیا، پیپلز پارٹی نے اس فارمولے کو مسترد کر دیا، کیونکہ یہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔وفاق کو ایسے اقدامات کرنے پڑے جو پہلے زیرِ غور نہیں تھے۔ جب وفاق نے صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو صورتِ حال سے آگاہ کیا، ایسا ممکن نہیں تھا کہ صوبے و سیاسی جماعتیں ملک کی خاطر تعاون نہ کریں، اس لئے طے ہوا کہ جو بھی کام کرنا ہے۔