اسلام آباد (عاصم جاوید) قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) اور یونیسف کے اشتراک سے جاری کی گئی ایک اہم قومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں،پنجاب 60 لاکھ کے ساتھ سرفہرست، سندھ میں 16 لاکھ، کے پی میں 7لاکھ سے زائد بچے مشقت کا شکار،بلوچستان میں 2 لاکھ 1 ہزار 352 جبکہ اسلام آباد میں 15ہزار 180 بچے مشقت کرتے پائے گئے ۔ 66لاکھ سے زائد بچے خطرناک مشقت میں مصروف ہیں، جو ان کی صحت، تحفظ اور مستقبل کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے،”پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل“ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ تقریباً تین دہائیوں بعد بچوں سے مشقت کے حوالے سے پہلا قومی سطح کا نمائندہ ڈیٹا سیٹ ہے۔رپورٹ کے اجرا کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے زور دیا کہ اگرچہ مختلف صوبوں میں چائلڈ لیبر کی شرح مختلف ہے، تاہم بچوں کی خطرناک مزدوری ایک وسیع اور تشویشناک مسئلہ ہے جو ملک کے ہر خطے میں بچوں کو متاثر کر رہا ہےرپورٹ میں غربت کو چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا۔