ملتان (سٹاف رپورٹر) تھیلیسیمیا روک تھام پروگرام پنجاب کے ملازمین کو 6 ماہ سے تنخواہ نہیں، جس پر ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے ، پنجاب تھیلیسیمیا اینڈ ادر جینیٹک ڈس آرڈرز پریوینشن اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ جو صوبے بھر میں 36 اضلاع میں مفت سکریننگ اور جینیٹک مشاورت کی خدمات فراہم کر رہا ہے، اس وقت اپنے ہی عملے کی بقا کے بحران سے دوچار ہے۔حکومت نے 2021میں اس پروگرام کو باقاعدہ ادارے کا درجہ دے کر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک کر دیا تھا۔ حال ہی میں پنجاب اسمبلی سے "تھیلیسیمیا پریوینشن ایکٹ 2025" بھی پاس کیا جا چکا ہے، جس کے تحت تمام تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے تھیلیسیمیا سکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے۔ گورنر پنجاب نے اس بل کو بھی منظور کر لیا ہے۔لیکن اس کے ملازمین بدترین صورتحال سے گزر رہے ہیں ملازمین کے مطابق، گزشتہ دسمبر 2025میں کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد سے اب تک 6ماہ گزر چکے ہیں اور کوئی تنخواہ ادا نہیں کی گئی، حکومت نے نہ تو کنٹریکٹ کی تجدید کی ہے اور نہ ہی فارغ کرنے کا کوئی نوٹس دیا ہے۔ صبح حاضری لگوائی جاتی ہے، فیلڈ اور لیبارٹریز میں سکریننگ کا مکمل کام لیا جاتا ہے، لیکن تنخواہ کا وقت آئے تو فائل دبا دی جاتی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ "جبری مشقت سے کم نہیں، سٹاف کی اکثریت اب اوور ایج ہو چکی ہے،یہ وہ پروفیشنلز ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس محکمے کو دئیے ، اور اب وہ کسی دوسرے سرکاری محکمے یا نجی شعبے میں اپلائی کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔