• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرٹیلائزر قیمتوں میں ہوشربا اضافہ،کاشتکار شدید مالی دباؤ کا شکار

ملتان (سٹاف رپورٹر) ایران میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر فرٹیلائزر مارکیٹ میں استحکام کے باوجود پاکستان میں ڈی اے پی، یوریا اور این پی کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کسانوں کیلئے ناقابل برداشت بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ کسان رہنماؤں اور کاشتکاروں نے کہا ہے کہ پاکستان ایشیا کے بڑے فرٹیلائزر پیداواری ممالک میں شامل ہے اور ملک میں بڑے فرٹیلائزر پلانٹس موجود ہیں، اس کے باوجود گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈی اے پی کھاد کی فی بوری قیمت 12 ہزار 600 روپے سے بڑھ کر 17 ہزار روپے، یوریا 4 ہزار سے بڑھ کر 4 ہزار 700 روپے جبکہ این پی کھاد 8 ہزار سے بڑھ کر 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27میں کسانوں کیلئے قرضہ اسکیموں، ٹریکٹر اسکیموں اور دیگر مراعات کے اعلانات اپنی جگہ، لیکن جب تک کھادوں کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی اس وقت تک کسان حقیقی معنوں میں خوشحال نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی لاگت میں گزشتہ عرصے کے دوران تقریباً 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ گندم، کپاس، مکئی اور دیگر اجناس کی قیمتیں کسان کی لاگت کے مطابق نہیں بڑھ رہیں، جس کے باعث کاشتکار شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔کسان نمائندوں نے کہا کہ عالمی رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران فرٹیلائزر کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا تھا، تاہم جنگ بندی کے بعد کئی عالمی منڈیوں میں یوریا کی قیمتوں میں کمی اور استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
ملتان سے مزید