• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاک ڈاؤن ختم نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج کی کال دینگے‘ مرکزی تنظیم تاجران

ملتان(سٹاف رپورٹر)صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے حکومت کی جانب سے 19 جون کو لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بجائے اس میں توسیع کے نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ تاجر برادری پہلے ہی معاشی مشکلات، بڑھتے ہوئے اخراجات اور کاروباری سست روی کا شکار ہے ایسے میں مزید پابندیاں تاجروں اور عوام کیلئے ناقابل برداشت ہیں۔ جاری بیان کے مطابق کاشف چوہدری نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے بعد لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا جواز بھی ختم ہو چکا ہے لہذا حکومت کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کے مکمل خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیےانہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبہ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تاجروں کو ہی بار بار تختہ مشق کیوں بنایا جا رہا ہےجبکہ دیگر شعبوں کو نسبتاً زیادہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش سے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے بلکہ حکومتی ریونیو بھی کم ہو رہا ہےان کا کہنا تھا کہ بازاروں کی بندش سے چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنیوالے افراد کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ کاشف چوہدری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور حکومتی محصولات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو حقیقی ریلیف دینے کیلئے کم از کم 250 روپے فی لیٹر تک کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام، صنعتکاروں اور تاجروں کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بلند قیمتوں نے ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور کاروباری لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جس کے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کے نمائندہ وفود سے فوری مذاکرات کرے لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کرے اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تاجروں کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور لاک ڈاؤن کے فیصلے واپس نہ لیے گئے تو ملک بھر کی تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک اور دھرنوں کی کال دی جائے گی۔
ملتان سے مزید