• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخی باب رقم، پاکستانی ثالثی، امریکا ایران مذاکرات، ہرمز، لبنان سیز فائر، تیل پابندیوں، اثاثوں پر پیشرفت

اسلام آباد/جنیوا (نیوز رپورٹر/اے ایف پی / نیوز ڈیسک)تاریخ کا نیاباب رقم ‘پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میزپر آمنے سامنے بٹھا دیا ‘ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈکے سیاحتی مقام برگن اسٹاخ میں شروع‘لبنان میں سیزفائر‘ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی ‘منجمد اثاثوں کے اجراء اور ہرمز کو کھلارکھنے کے معاملات پر پیشرفت ‘80 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعدپہلا راؤنڈمکمل ہوگیا‘مذاکرات کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ ہوگیا ،جلد مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کاامکان ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کیا‘ پہلے دور کے بعدبات چیت کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا۔ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں لیکن ختم نہیں ہوئے‘ ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ نے کہا ہے کہ لبنان مسئلے کے حل تک دوسرے معاملات پر مزید بات چیت نہیں ہوگی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ ختم ہونے تک امریکا کے ساتھ کسی حتمی مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔بات چیت کا محور جنگ کا خاتمہ‘ پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد فنڈز کااجراءتھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی اور ایرانی وفودسے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جبکہ شہباز شریف نےکہا ہے کہ صدرٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث مذاکرات ممکن ہوئے‘ ایرانی قیادت نے بحران کو بردباری سے سنبھالا‘ ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیںجبکہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے فیلڈمارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ان کے سفارتی کردار اور حکمت علی کے بغیر شایدہم یہاں موجود نہ ہوتے‘ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے‘بات چیت میں میں زبردست پیش رفت ہوئی ہےاور توقع ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا‘وینس نے ملاقات کو تاریخی قراردیتے ہوئے کہاکہ فریقین ایک نئے باب کا آغازکرسکتے ہیں ‘ امریکا اور ایران امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے‘قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے اس موقع پر کہا کہ یہ نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی تاریخی موقع ہے۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن حسین قربان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ منجمداثاثوں کی بحالی اورتیل پابندیاں ختم کرنے پر بات چیت ہوئی ہے اور اس حوالے سے ایک مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ایران کے پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں چار فریقی مذاکرات ختم ہونے کے بعد ایرانی وفد روانہ ہو گیا‘ایک امریکی سفارتکار نے نیوز ویب سائٹ Axiosکو بتایاکہ بات چیت کا محور لبنان میں تنازع کے خاتمے کے طریقہ کار اور جنگ بندی کے نفاذ پر تھا‘آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے حوالے سے اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے امریکا ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی امن کے لیے اہم موقع ہے،ہم مل کر دنیا میں اتحاد قائم کر سکتے ہیں،مذاکرات کی کامیابی سے دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی‘فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مذاکرات کے لیے انتہائی اہم کردار ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘‘ کے تسلسل میں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سمٹ ہال آمد پر امریکی اور ایرانی وفود کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہا،وفود کے ارکان کے ساتھ مصافحہ کیا، ان کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ‘وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مذاکرات کے لیے انتہائی اہم کردار ہے۔

اہم خبریں سے مزید