اسلام آباد (عاصم جاوید) تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ کی جانب سے متعارف کرائے گئے متنازع ٹیلی کمیونیکیشن بل کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمن قانون سازی قرار دیا ہے اور وزیرِ اعظم سے وزیرِ آئی ٹی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے،تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ جائزہ کمیٹی میں صرف حکومتی نمائندوں کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو بھی شامل کیا جائے تاکہ تحقیقات اور سفارشات غیر جانبدارانہ اور قابل اعتماد ہوں۔ٹی ٹی اے پی کے مطابق یہ بل کابینہ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد حتمی منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، تاہم سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کی چیئرپرسن کی بروقت مداخلت کے باعث اس کی منظوری روک دی گئی۔