• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرمز کی آزاد حیثیت کے حامی، آبی گزرگاہ پر GCC کے ساتھ ہیں، ٹیکنیکل مذاکرات منگل سے پھر شروع ہوں گے، پاکستان

اسلام آباد(اے پی پی/آن لائن )پاکستان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون میں پیشرفت کا انحصار تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے منسلک ہے‘پاکستان علاقائی تنازعات کے پرامن حل‘ ہرمز کی آزادانہ حیثیت کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کا حامی ہے اور آبی گزرگاہ کے کنٹرول سے متعلق خلیجی تعاون کونسل کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے‘ ایران امریکا تکینی مذاکرات اگلے ہفتے شاید منگل کو دوبارہ شروع ہو جائیں گے‘افغان سرزمین سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بعد سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔

بدھ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ ایران کے لئے پابندیوں میں نرمی کا راستہ برگن اسٹاخ میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے پہلے ہی شروع ہو چکا ہے‘ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں عارضی وقفہ آیا ہے تاہم یہ بات چیت آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوگی۔سفارتی کوششوں میں پیشرفت کے ساتھ کشیدگی میں کمی آنے کا امکان ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں معمول کی سرگرمیوں کی مکمل بحالی میں آپریشنل تقاضوں کے باعث کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان خلیجی تعاون کونسل کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور علاقائی مسائل کے علاقائی حل پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دوطرفہ اقتصادی منصوبوں اور تجارتی توسیع میں پیشرفت ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔

ایران کے لئے 300 ارب ڈالر کے مجوزہ مالیاتی پیکج سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس معاملے پر سوئٹزرلینڈ میں جاری تکنیکی سطح کے مذاکرات کے دوران غور کئے جانے کی توقع ہے۔

انہوں نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیے‘اگر سفارتکاری کو آگے بڑھنا ہے تو اس کا نقطہ آغاز افغانستان کی جانب سے یہ واضح یقین دہانی ہونی چاہیے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔اس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ افغان فریق بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔

ایران کے مرحوم سپریم لیڈر شہید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستان کی نمائندگی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے اس تقریب میں کون شرکت کرے گا۔

اہم خبریں سے مزید