• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز کھلنے سے 35 کھرب ڈالر کی عالمی معاشی تباہی ٹل گئی

اسلام آباد(خالد مصطفیٰ ) آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے دوبارہ کھلنے سے عالمی کموڈٹی مارکیٹوں میں تیزی سے حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں، جس نے 100 سے زائد دنوں کی جنگ اور معاشی تعطل کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں، کاروباروں اور صارفین کو بڑی راحت پہنچائی ہے۔ 

خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، بحری راستے دوبارہ کھل رہے ہیں اور مہنگائی کا دباؤ کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

تاہم، اس تنازعے کے معاشی زخم اب بھی گہرے ہیں، اور ماہرینِ معاشیات کے مطابق تقریباً 100 دن کے اس بحران کے دوران عالمی معیشت کو پہلے ہی 500 ارب سے 900 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ MoU کے بعد تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کمی؛ اگر خلیجی ریفائنریوں کی مرمت کا کام آسانی سے جاری رہا، بحری ٹریفک معمول پر آئی اور جیو پولیٹیکل تناؤ کنٹرول میں رہا، تو 2026 کے آخر تک برینٹ خام تیل 65 تا 70 ڈالر فی بیرل کی حد میں واپس آ سکتا ہے؛ اگر یہ تنازع جاری رہتا اور آبنائے ہرمز مزید ایک سال کے لیے بند رہتی تو اس کے نتائج انتہائی ہولناک ہو سکتے تھے۔

مختلف معاشی ماڈلز کے مطابق سالانہ نقصان تقریباً 20 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتا تھا، جبکہ بعض بدترین منظرناموں میں یہ نقصان 30 سے 35 کھرب (3 سے 3.5 ٹریلین) ڈالر تک جا سکتا تھا—جو کسی بھی بڑے صنعتی ملک کی کل سالانہ معاشی پیداوار (GDP) کو ختم کرنے کے برابر ہے۔ اس طرح کا طویل تعطل دنیا کی کئی معیشتوں کو کساد بازاری (Recession) میں دھکیل دیتا، مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کرتا اور عالمی تجارت کو شدید مفلوج کر دیتا۔

اہم خبریں سے مزید