کراچی (رفیق مانگٹ) آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے باضابطہ طور پر دوبارہ کھول دی گئی۔ امریکہ و ایران نے علیحدہ بیانات میں تصدیق کر دی، ایک دن میں 36 جہازوں کی آمدورفت، مگر یہ معمول سے ایک تہائی کم، دو بڑے آئل ٹینکرز 40 لاکھ بیرل تیل کے ساتھ بحفاظت گزر گئے۔
منگل کو 14 اور پیر کو 27 آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت ریکارڈ، خلیج میں اب بھی 600 تک جہاز پھنسے، بارودی سرنگوں اور AIS سسٹم میں خلل کے باعث سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔
اگرچہ جہاز رانی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے، مگر یہ بحالی ابھی مکمل نہیں بلکہ محتاط اور جزوی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز کم از کم 36 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایک دن کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم یہ تعداد اب بھی معمول کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بحالی کا عمل ابھی مکمل نہیں۔
منگل کے روز 14 آئل ٹینکرز جبکہ پیر کو 27 ٹینکرز گزرے، جو بتدریج بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس سے قبل ویک اینڈ پر مجموعی طور پر 37 ٹینکرز کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ ایک ہفتہ قبل یومیہ اوسط صرف 11 ٹینکرز تھی۔
خلیج میں پھنسے دو بڑے آئل ٹینکرز، جن میں سے ہر ایک تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہا تھا، منگل کو بحفاظت گزر گئے۔
مزید برآں، تین آئل ٹینکرز تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل کے ساتھ روانہ ہو رہے ہیں، جن میں سے دو ایشیائی منڈیوں کا رخ کریں گے،یہ پیش رفت عالمی توانائی سپلائی میں بہتری کی واضح علامت ہے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے تحت جاری بڑے پیمانے کے آپریشن میں خلیج میں پھنسے تقریباً 11 ہزار سمندری عملے کے انخلا اور سیکڑوں جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اب بھی 500 سے 600 جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جن میں قریباً 100 آئل ٹینکرز شامل ہیں۔ حالیہ 12 گھنٹوں میں 3 جہاز دو ڈرائی بلک اور ایک کارگو گزر چکے ہیں، جبکہ 35 مزید جہاز اور 5 آئل ٹینکرز روانگی کے لیے تیار ہیں۔
اگرچہ آمدورفت بڑھ کر روزانہ 25 جہازوں تک پہنچ گئی ہے، مگر یہ جنگ سے پہلے کی اوسط 125 جہاز یومیہ سے کہیں کم ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دو عارضی بحری راستے فعال کیے گئے ہیں—ایک ایران کے پانیوں سے اور دوسرا عمان و امریکی نگرانی والے علاقے سے گزرتا ہے۔