• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر اور سپیکر کے در میان شکوہ،جوا ب شکوہ

اسلام آباد ( رانا غلام قادر ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر ایازصادق اورا پو زیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان شکوہ اور جواب شکوہ کے انداز میں دلچسپ نوک جھونک ہوگئی ، محمود اچکزئی نے کہا ہمیں نہ چھیڑا جائے، تصادم نہیں چاہتے، کل کی آپکی گفتگو پر دکھ ہوا ہمیں نہ چھیڑیں ورنہ بہت تنگ ہونگے،سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ میں تو ہوں ہی ملنگ ، 1998میں PTI سے استعفیٰ دیا تھا ،2001میں ن لیگ جوائن کی جب وہ اپو زیشن میں تھی ، ہر رکن قابل احترام ہے ، ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو، تاہم وہ بھی ایک انسان ہیں اور غلطی سے مبرا نہیں۔ ا پوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے سپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ کل آپ نے میری باتوں کا جواب دیا ، آپ نے ہماری باتوں کا جواب نہیں دینا ہوتا ،میں اخلاقیات کے دائرے میں آپ کی باتوں کا جواب دیتا ہوں،آپ نے کسی تقریر کا حوالہ دیا اور پتہ نہیں کیا کیا باتیں کیں ،میں نے چمن میں تقریر اور پشتو زبان میں کی، میجر عامر کی ڈیوٹی لگائیں وہ پشتو سمجھتا ہے،میں نے کہا یہاں نہ کوئی قانون ہے نہ عدالت ہے، جو کرنا ہے خود کرنا ہے، میں نے کہا عدالتوں سے پیچھے ہٹو اور خود پنچایتوں کے ذریعے فیصلے کرو، حکومت غریبوں کا کام کرے گی تو آپ کو سپورٹ کریں گے، آپ گولیاں ماریں گے جیلوں میں ڈالیں گے تو مخالفت کریں گے۔ آپ کا تعلق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے مجھ سے پرانا نہیں۔ آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ، آپ آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، اگر آئین اور جمہوریت ہے تو آئیں ان ججوں کو قومی ہیروز قرار دیں جنہوں نے آمریت کے خلاف استعفے د ئیے۔
اہم خبریں سے مزید