• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزراء نے کشمیر معاملہ خراب کیا، بلاول، مذاکرات میں پی پی شامل تھی، رانا ثناء

اسلام آباد (راحت منیر، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چند وفاقی وزراء نے آزاد کشمیر میں معاملہ خراب کیا، وزیراعظم اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوگا، کشمیریوں کیخلاف بیان دینے والا ابتک وزیر کیوں ہے؟ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئینی معاملات کا حل جلاؤ گھیراؤ، جتھہ بندی کے کلچر سے نکالنا درست عمل نہیں،مہاجرین کو حق رائے دہی سے محروم کرنا تحریک آزادی سے انحراف ہے، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات میں پیپلزپارٹی شامل تھی، حکومت مولانا فضل الرحمن کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ثالثی کا خیر مقدم کریگی،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے حل کیا جائے،لیکن حکومتی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو ثالثی مشکل ہے،کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے اور آج ہم کیا کر رہے ہیں، خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردعمل بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہیے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے،وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے کہا ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیئے جائینگے،طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کا راستہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے خود بند کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے میں شامل عوامی فلاح اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے تمام نکات پر پیش رفت ہو رہی ہے تاہم وہ جتھے برداری اور جلاؤ گھیراؤ کے ذریعے لشکر کشی سے وہاں کے عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس، تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی کانفرنس اور قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے حوالے سے فیصلہ آئندہ معرض وجود میں آنے والی اسمبلی کا دائرہ اختیار ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے بعض وزراء وزیراعظم کی معاونت کے بجائے ان کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔وزیراعظم مثبت سیاست سے ملک کو مسائل سے نکالنا چاہتے ہیں تاہم وزیراعظم کے چند وزیروں کی سیاست کا مقصد میری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ وزیر، وزیراعظم کی مدد کے بجائے ان کے لئے مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے وزیروں کو کنٹرول کریں، وزیراعظم کا اتنا مینڈیٹ اور اتھارٹی تو ہونا چاہئیے کہ وہ اپنی کابینہ کو کنٹرول کرسکیں، اگر وزیراعظم اور وزراء کی پالیسیاں یکساں نہیں ہوں گی اور وزرا اپنی اپنی باتیں کرتے رہیں گے تو میرے خیال میں وزیراعظم کے لئے مشکلات میں کمی نہیں ہوگی۔
اہم خبریں سے مزید