• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

NSCT ٹیسٹ، چند طلبہ کی کامیابی اور ناکام ادارے، ملک بھر کی جامعات کا دہرا معیار بے نقاب کردیا

کراچی(سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے زیر اہتمام منعقدہ قومی ہنر کی اہلیت کے امتحان(NSCT)2026کے نتائج نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے ایک اہم اور اکثر نظر انداز کیے جانے والے پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قومی سطح پر نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ کی شاندار کامیابیوں اور ان کی متعلقہ جامعات کی مجموعی کارکردگی کے درمیان نمایاں فرق نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا چند ذہین اور محنتی طلبہ کی انفرادی کامیابیوں کو پورے ادارے کی تعلیمی برتری قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ نتائج کے مطابق قومی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم زین العابدین کا کا تعلق جامعہ سندھ جامشورو سے ہے جس نے 97 فیصد نمبرحاصل کیے، تاہم حیران کن طور پر اسی جامعہ کی مجموعی کامیابی کی شرح صرف 16 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم فیہم رشید نے96فیصد نمبر حاصل کیے ان سمیت ، محمد کامل،تنویر الحق ورچوئل یونیورسٹی کے تین طلبہ قومی ٹاپ اچیورز میں شامل رہے، لیکن ادارے کی مجموعی کامیابی کی شرح محض 28 فیصد رہی۔ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم محمد نارد کا تعلق اباسین یونیورسٹی پشاور سے تھا، جس نے 95 فیصد نمبر حاصل کیے، تاہم اس جامعہ کی مجموعی کامیابی کی شرح صرف 22 فیصد رہی۔ یونیورسٹی آف ملاکنڈ کے دو طلبہ قومی میرٹ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے جبکہ ادارے کے مجموعی نتائج صرف 30 فیصد کامیابی کی شرح تک محدود رہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف سوات کا ایک طالب علم قومی سطح کے نمایاں طلبہ میں شامل ہوا، لیکن جامعہ کی مجموعی کامیابی کی شرح صرف 8 فیصد ریکارڈ کی گئی جو ملک بھر کی کمزور ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں جس کے تحت جامعات اکثر چند نمایاں طلبہ کی کامیابیوں کو اپنی مجموعی تعلیمی برتری کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی جامعہ میں سینکڑوں یا ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہوں اور ان میں سے صرف ایک یا دو طلبہ قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھائیں جبکہ اکثریت مطلوبہ معیار تک نہ پہنچ سکے تو ایسی صورت حال ادارے کی مجموعی تدریسی اور تربیتی کارکردگی پر سوالات اٹھاتی ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق این ایس سی ٹی کے نتائج ایک مرتبہ پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جامعات کی درجہ بندی اور کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت صرف چند نمایاں پوزیشنوں کے بجائے مجموعی کامیابی کی شرح، اوسط اسکور، تدریسی معیار اور طلبہ کی اکثریت کی کارکردگی کو بنیادی پیمانہ بنایا جائے۔ تعلیمی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں حقیقی مقابلہ اس وقت ممکن ہوگا جب جامعات انفرادی ستاروں کے بجائے مجموعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ این ایس سی ٹی 2026 کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ ایک یا دو غیر معمولی طلبہ کی کامیابی پورے ادارے کی کامیابی نہیں ہوتی، بلکہ کسی جامعہ کی اصل طاقت اس کے طلبہ کی مجموعی کارکردگی اور ان میں پیدا ہونے والی اجتماعی صلاحیتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔
اہم خبریں سے مزید