اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کےمغربی دریاؤں پر بھارت نے 3120میگا واٹ کا ہائیڈرو پاور نیٹ ورک بنا لیا، مزید 7250میگاواٹ کے منصوبوں کی تیاریاں جاری ہیں۔ یہ منصوبے پاکستان کے پانی اور غذائی تحفظ کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مختص کیے گئے مغربی دریاؤں پر پہلے ہی 3120 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور (پن بجلی) نیٹ ورک تعمیر کر لیا ہے، اور وہ صرف چناب بیسن پر مزید 7250 میگاواٹ کے منصوبوں کو تیز رفتار سے آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستانی ماہرینِ آب کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے پاکستان میں پانی کے بہاؤ کے وقت کو کنٹرول کرنے کی نئی دہلی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا، جس سے ملک کے پانی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہو جائیں گے۔ سرکاری منصوبہ بندی کی دستاویزات اور شعبہ جاتی ماہرین اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت نے مغربی دریاؤں پر مجموعی طور پر تقریباً 20000 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کے مقامات کی نشاندہی کر رکھی ہے، اور وہ 23 اپریل 2025کو 1960کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اب ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔ معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کے اہم ترین تزویراتی نتائج میں سے ایک بالائی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تیزی لانا ہے۔ اس معاہدے نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک دونوں ایٹمی قوت سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سندھ طاس کے پانیوں کی تقسیم کے نظام کو سنبھالا ہوا تھا۔ بھارت کے فعال ہائیڈرو پاور (پن بجلی) منصوبوں میں چناب پر ’’سلال‘‘، ’’دلہستی‘‘ اور ’’بگلیہار‘‘ منصوبوں کے ذریعے تقریباً 1980میگاواٹ،جہلم بیسن پر اڑی-I‘‘ ،’’اڑی-IIʼ ‘‘اور’’ ʼکشن گنگا‘‘ کے ذریعے لگ بھگ 1050 میگاواٹ، اور لداخ میں مرکزی دریائے سندھ پر ’’نیمو بازگو‘‘ اور ’’چٹک‘‘ منصوبوں کے ذریعے مزید 89 میگاواٹ بجلی شامل ہے، جس سے مغربی دریاؤں پر نصب شدہ مجموعی صلاحیت تقریباً 3120 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔