• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقارالحسن، گوہر ٹاؤن، مظفرگڑھ

غزہ کی ایک نیم تاریک گلی میں، جہاں ہر دیوار پر گولیوں کے نشانات کسی قدیم رسم الخط کی طرح ثبت تھے، بوڑھا اسحٰق اپنی لکڑی کی پرانی صندوقچی کھولے بیٹھا تھا۔ اُس کے لرزتے ہاتھوں میں پیتل کی ایک بھاری اور زنگ آلود چابی تھی۔ یہ اس گھر کی چابی تھی، جو 1948ء میں اُس کے باپ سے چھین لیا گیا تھا، وہ گھر تو مٹ گیا، مگر اُس کا نقشہ آج بھی اُن کے حافظے کی دیواروں پر تازہ تھا۔ ’’دادا جان! کیا یہ چابی اب بھی کام کرتی ہے؟‘‘

اُس کے بارہ سالہ پوتے، زید نے پوچھا، جس کی آنکھوں میں ملبے کی دھول سے زیادہ سنہرے مستقبل کی چمک تھی۔ اسحٰق نے ایک لمبی سانس لی۔ ’’یہ چابی اب تالے نہیں کھولتی بیٹا! یہ مَرے ہوئے ضمیر زندہ کرتی ہے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہم یہاں اجنبی نہیں، بلکہ اس مٹی کے وارث ہیں۔‘‘

اُسی لمحے آسمان کا سینہ چاک ہوا اورایک لڑاکا طیارہ گرجتا ہوا گزرا۔ یہ طیارہ دُوردراز کی کسی مغربی فیکٹری میں شاید اِسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا کہ اِس سے ان لوگوں پر بم باری کی جاسکے، جو اپنی جڑوں سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں۔ طیارے کی گرج اتنی شدید تھی کہ اسحٰق کی پرانی صندوقچی لرز اُٹھی۔

زید نے آسمان کی طرف دیکھ کرایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’وہ اوپر سے آگ برسا رہے ہیں تاکہ ہم نیچے دیکھنا چھوڑ دیں، لیکن دادا جان، مَیں نے ملبے سے نکلنے والے لوہے سے ایک نیا کھلونا بنایا ہے۔‘‘ ساتھ ہی اس نے اپنے پیوند لگے تھیلے سے لکڑی اور تاروں سے بنا ایک چھوٹا سا ڈھانچا نکالا، جو کسی پرندے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ ’’یہ میرا ’’ابابیل‘‘ ہےدادا جان! جب ان کے لوہے کے باز ہمیں ڈراتے ہیں، تو مَیں یہ اُڑاتا ہوں۔‘‘

اُدھردنیا کےایک کونے میں، ایک عالی شان محل کے سرد خانے میں’’امت کے ہم درد‘‘ ایک بڑی سی میز پر بیٹھے نقشوں پر لکیریں کھینچ رہے تھے۔ وہ ’’نارملائزیشن‘‘ کے نام پر اس چابی کا سودا کررہے تھے، جو اسحٰق کے ہاتھ میں تھی۔ اُن کے نزدیک یہ زنگ آلود چابی ایک بوجھ تھی، ایک ایسی رکاوٹ، جو اُن کے مغربی آقاؤں کے ساتھ ’’عالمی تجارت‘‘ کے خوابوں میں حائل تھی۔ 

’’ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے‘‘، ایک ریشمی جبّا پہنے شخص نے منہگی کافی کا سِپ لیتے ہوئے کہا۔ ہمیں اس چابی کو بھول کر ایک نئے ’’مستقبل‘‘ کی طرف دیکھنا چاہیے۔‘‘ لیکن وہ ’’مستقبل‘‘ اسحٰق کے پوتے کے لیے ایک ایسا پنجرا تھا، جس کی سلاخیں سونے کی تھیں۔

اچانک فضا بارود کے دھماکے سے پھٹ پڑی۔ اسحٰق کا کچا مکان ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ دھول کی چادر نے سورج کو نگل لیا۔ جب گرد بیٹھی، تو اسحٰق کا وجود ملبے تلے دبا ہوا تھا، اور اس کا دایاں ہاتھ فضا میں ساکت تھا، جس کی انگلیاں بِھنچی ہوئی تھیں اور اُن میں وہ زنگ آلود چابی ایک مقدّس امانت کی طرح دبی تھی۔

زید ملبے سے اُبھرا۔ اُس کے ماتھے سے بہتا خون اس کی آنکھوں میں اُتر رہا تھا، لیکن اس کا رُخ اپنے دادا کے ساکن ہاتھ کی طرف تھا۔ اُس نے لرزتے قدموں سے آگے بڑھ کر وہ چابی اپنے دادا کی مُٹھی سے نکالی۔ اُسے ایسا لگا، جیسے دادا کی پوری زندگی کا عزم اُس کے خون میں دوڑنے لگا ہو۔

رات کی مہیب خاموشی میں، جب پورا غزہ سسک رہا تھا، زید اپنے گھر کے ملبے پر ایک مینار کی طرح کھڑا تھا۔ اُس نے وہ چابی اپنے گلے میں لٹکائی اور اپنا لکڑی کا ابابیل فضا میں بلند کیا۔ ’’دادا جان! آپ نے سچ کہا تھا…‘‘ زید کی سرگوشی میں اب ایک للکار تھی۔ ’’یہ چابی اب تالا نہیں کھولتی، اس نے میرا ضمیر کھول دیا ہے۔ اب مجھے کسی چیز کی پروا نہیں۔

میرا تخت یہ ملبہ ہے اور میری سلطنت میری مٹی۔‘‘ آسمان کے تارے گواہ تھے کہ مغرب کی تمام تر ٹیکنالوجی ایک بارہ سالہ بچّے کے استقامت کے سامنے گھٹنے ٹیک چُکی تھی۔ دُور روشنیوں میں نہائے ہوئے شہروں میں بیٹھے ’’زندہ مُردہ‘‘ حُکم ران اپنے ضمیر کے جنازے پر فاتحہ پڑھ رہے تھے، جب کہ غزہ کی تاریکی میں ایک بچّہ اپنی جڑوں کی حفاظت کے لیے تنہا کھڑا پورے عالمِ اسلام کو جھنجھوڑ رہا تھا۔ زید نے اپنا ابابیل فضا کے حوالے کیا۔ اور اُس لمحے بارود کی بُو کے بیچ ایک ایسی خوشبو پھیلی، جو صرف فاتحین کو نصیب ہوتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید