وقارالحسن، باغِ ارم، مظفّرگڑھ
شام کی سُرمئی چھاؤں دیواروں سے اُتر کر صحن میں پھیل چُکی تھی۔ رحیم صاحب اپنی پرانی آرام دہ کرسی پر بیٹھے خالی نظروں سے سامنے کی دیوار کو گھور رہے تھے، جہاں سے پلستر اکھڑ کر کسی ’’ادھورے نقشے‘‘ کی صُورت اختیار کر گیا تھا۔ یہ گھر، جو کبھی قہقہوں کی آماج گاہ ہوا کرتا تھا، آج خاموشی کی ایسی دبیز چادر میں لپٹا ہوا تھا، جسے توڑنا اب کسی کے بس میں نہ تھا۔
صحن کے کونے میں بنے چھوٹے سے کچن میں پیاز بُھوننے کی خُوشبو اور چمچ کی کھنکھناہٹ سُنائی دے رہی تھی۔ زبیدہ ہمیشہ کی طرح خاموشی سے کام میں مگن تھی۔ وہ دونوں ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھے، مگر اُن کے درمیان مکالمہ برسوں پہلے مر چُکا تھا۔ اب صرف ضرورت کے چند جملے تھے جو ہوا کے دوش پر تیرتے ہوئے ایک دوسرے تک پہنچتے۔
’’زبیدہ! کیا عاصم کا فون آیا تھا؟‘‘ رحیم صاحب نے بوجھل آواز میں پوچھا۔ چمچ کی آواز رُکی، ایک لمحے کا توقف ہوا اور پھر وہی سپاٹ جواب آیا۔ ’’نہیں۔ اُسے فرصت کہاں؟ نئے شہر کی رنگینیاں اور بڑی نوکری انسان کو اپنے سائے سے بھی دور کر دیتی ہے۔‘‘
رحیم صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ عاصم اُن کا اکلوتا بیٹا تھا، جس کی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے انہوں نے اپنی کمر دہری کر لی تھی۔ جب وہ نوکری کے لیے بڑے شہر گیا تھا تو وعدہ کیا تھا کہ ہر ہفتےملنے آئے گا، لیکن رفتہ رفتہ ہفتے، مہینوں میں بدل گئے اور مہینے، برسوں میں۔ اب تو عید، بقرعید پر بھی صرف ایک رسمی سی فون کال آ جایا کرتی تھی۔ معاشرے کا یہ المیہ کتنا تلخ ہے کہ ہم جن پیڑوں کو خونِ جگر سے سینچتے ہیں، وہ جوان ہوتے ہی اپنی چھاؤں کسی اور آنگن کی نذر کر دیتے ہیں۔
اچانک باہر کے آہنی دروازے پر ایک زوردار دستک ہوئی۔ ایسی دستک، جس نے سناٹے کے سینے میں شگاف ڈال دیا۔ رحیم صاحب کے مُرجھائے ہوئے دل کی دھڑکن یک دم تیز ہوگئی، جیسے کوئی بجھتا ہوا چراغ آخری بار بھڑک اٹھا ہو۔ ’’کیا عاصم آ گیا؟ کیا آخرِکار اُسے اپنے بوڑھے ماں باپ کی یاد آ گئی؟ کیا شہر کی سنگ دل دیواروں نے اُسے رہا کر دیا؟‘‘
اُن کے ذہن میں سوالات کا ایک طوفان تھا اور قدموں میں ایک انوکھی لپک، وہ لڑکھڑاتے ہوئے مگر تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھے۔ زبیدہ بھی کچن کی دہلیز پر پتھر کی مورت بنی کھڑی تھی، اُس کی ساکت آنکھوں میں برسوں بعد اُمید کی ایک مدھم جوت جاگی تھی۔
رحیم صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے کواڑ کے پٹ کھولے، تو باہر کا مہیب سناٹا ایک دم اندر کو لپکا۔ سامنے عاصم نہیں، صرف گلی کی وحشت ناک تاریکی تھی، جو اُن کے منتظر چہرے کا تمسخر اُڑا رہی تھی۔ یہ گلی کے آوارہ بچّوں کی شرارت تھی، جو دستک دے کر بھاگ چُکے تھے۔ ہوا کا ایک سرد جھونکا اندر داخل ہوا اور رحیم صاحب کے چہرے پرجمی ’’امید کی گرد‘‘ کو اپنے ساتھ اڑا لے گیا۔ وہ بوجھل قدموں سے واپس مڑے اور کرسی پر ڈھیر ہوگئے۔
’’یہ دستک بھی کتنی ظالم ہوتی ہے ناں زبیدہ؟‘‘ رحیم صاحب بڑبڑائے۔’’کبھی کبھی یہ دروازے پر نہیں، سیدھے دل پر ہوتی ہے... اور جب باہر کوئی نہ ملے تو اندر کا سناٹا اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔‘‘ زبیدہ نے جواباً کچھ نہ کہا، بس خاموشی سے سالن کا چولھا بند کر دیا۔ اُسے معلوم تھا کہ آج بھی دسترخوان پر صرف دو ہی پلیٹیں لگیں گی اور کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے گی۔
باہر اندھیرا اب پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہو چُکا تھا۔ شہر کی مصنوعی روشنیاں اپنے پورے جوبن پر تھیں، مگر اس پرانے گھر کے مکین ایک ایسی تاریکی میں قید ہو چُکے تھے، جس کا سورج شاید اب کبھی طلوع ہونے والا نہیں تھا۔ دیوار پر بنا وہ ’’ادھورا نقشہ‘‘ اب اُن کی قسمت کی وہ لکیر بن چُکا تھا، جو کبھی مکمل نہیں ہونی تھی۔