روبینہ یوسف
ننّھا شہاب صُبح سویرے نیند بھری آنکھوں سے اپنے والد سبحان سُنار کےکارخانے میں موجود ہے۔ کیسی قابلِ رشک زندگی ہوتی ہےسُنار کی بھی۔ ایک عجب سنہری بھید بَھرا لمس اُس کی انگلیوں اور تخلیق کے ہر سانچے میں محسوس ہوتا ہے۔ دُکان کے بیچوں بیچ ایک لکڑی کی میزہے۔
میز پر بکھرے ہوئے تار جیسے دھاتی ٹکڑے، ننّھے پیچ دار اوزار اور ایک چھوٹی سی بھٹّی دھیرے دھیرے سانس لیتی نظر آرہی ہے۔ سبحان کے ہاتھوں میں طلائی تارہے، جسے وہ ہلکے ہلکے کھینچ رہا ہے، جیسے کوئی سازندہ ستار کا تار چھیڑ رہا ہو۔ چولھے میں آگ کا رنگ کبھی نارنجی، کبھی نیلی اور کبھی نقرئی روشنی چھوڑتا ہوا پگھلے ہوئے سونے کو چُھوتا ہے۔ وہ اس پگھلے ہوئے سونے کو چِمٹی سے اُٹھا کر ایک چھوٹے سے سانچے میں انڈیلتا ہے۔
سنہری دھارا جب سانچے میں گرتا ہے، تو یوں لگتا ہے، جیسے سورج اپنی روشنی زمین کی مٹّی پر انڈیل رہا ہو۔ تھوڑی دیر بعد سانچا کُھلتا ہے۔ ایک کُھردرا سا ٹکڑا اُس کے ہاتھوں میں چمک رہا ہے۔ وہ اُسے میز پررکھتا ہے اور فائل اُٹھا کر بڑے پیار و توجّہ سے سنوارنا شروع کردیتا ہے۔ ہر رگڑ کے ساتھ دھات کی سطح نرم ہوتی جارہی ہے اور اُس میں ایک کنگن کا جوبن اُترنے لگا ہے۔
پھر وہ باریک اوزارکی مدد سے ننّھے ننّھےخانوں کوتراشتا ہے، جہاں لال یاقوت اپنی دل رُبائی بکھیرے گا۔ وہ اتنی عقیدت، والہانہ پن اورممتا جیسےجذبے سے لب ریز ہر پتھر کو ایسے رکھتا ہے، جیسے ماں اپنے بچّے کو پالنے میں لِٹاتی ہے۔ یہ کنگن اب دھات نہیں رہا بلکہ سینچے ہوئے جذبوں کی کہانی بن گیاہے۔جوں جوں شام اُترتی جارہی ہے، دکان کے اندر چمک بڑھ رہی ہے۔ کسی کی کلائی کے نام ایک دل گداز سا پیغام وجود میں آچکا ہے۔
منظربدل گیا۔ ایک بڑے ہال نُما کمرے میں بہت سےایسے افراد بیٹھے ہیں، جن کے چہرے کی ہر جھری سے امتدادِ زمانہ کی سنگینی و رنگینی جھلکتی ہےکہ چہرے عُمر کے اس دَورمیں کندن زیورمیں ڈھل چُکے ہیں۔ ’’ہم داستان تراشتے، جذبوں کو زبان، خیالات کو اُڑان دیتے ہیں۔‘‘ شہاب سُنارکی آواز جیسےماحول میں فسوں بکھیر رہی ہے۔ تخلیق خدائی وصف ہے۔
ذرا سوچو، کائنات کےخالق نےکہاں کہاں سےمٹی اُٹھا کے اُسے ایک سانچے میں ڈھالا ہوگا۔ یاد رکھو دوستو! تخلیق کوئی بھی ہو، صرف ہاتھ کا ہنرنہیں ہوتی، یہ دل کی آگ، رُوح کی روشنی سے جنم لیتی ہے۔ میرا باپ سُبحان سُنار تھا۔ وہ دھات، آگ اور مہارت کے تال میل سے سنہرے، روپہلے خوابوں کو تعبیر دیتا تھا۔ ہم صرف سونے کے نہیں، پلکوں پر سجے، آنکھوں کے آنگن میں تعبیر پاتے سپنوں کے بھی سوداگر ہیں۔ ‘‘ شہاب سنار کے الفاظ وقت نے اپنی گرفت میں لے لیے۔ یہ دراصل ایک اولڈ ہوم ہے اور شہاب اس کا مالک۔
اُس نے اِس اولڈ ہوم کا نام ’’گولڈ ہوم‘‘ رکھا ہے۔ یہاں ایسے سات نفوس رہتے ہیں، جو وقت سے ریٹائرمنٹ لے کر واپسی کے سفر میں ہیں۔ وہ وقت، جو بہت کٹھن تھا تو نہیں، مگر انہی کے جیسے انسانوں نے اسے دشوارتر بنا دیا۔زرینہ اپنے بستر پراستخوانی وجود کے ساتھ روزکی طرح گھڑیاں گن رہی ہے۔ قدرت نے اُسے اور جمشید کو اولاد سے محروم رکھا۔ اُن کا ایک چھوٹا سا گھر تھا، جسے اپنوں نے فروخت کر دیا، تو وہ شہاب کے’’گولڈ ہوم‘‘اُٹھ آئے کہ یہاں کم ازکم اُن کی تنہائی دُور کرنے کا سامان تو موجود تھا۔
دوبے سہارا بہنیں ہیں۔ ایک زینب آپا، جوبیوہ ہوگئی تھیں اور اولاد بھی نہیں تھی اور دوسری سعیدہ، جو گورنمنٹ اسکول ٹیچر تھیں اور اُن کی شادی نہ ہوسکی تھی۔ زینب آپا فارغ وقت میں کروشیا سےکچھ نہ کچھ بُنتی رہتی تھیں،خصوصاً گولڈ ہوم کے رہائشیوں اور یتیم خانے کے بچّوں کے لیے ٹوپیاں۔ جب کہ سعیدہ بچّوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔
جمال آصف ایک لکھاری ہیں۔ اُن کی دو شادیاں ہوئیں۔ ایک بیوی اُنہیں داغِ مفارقت دے گئی، دوسری سے اُن کی نہیں بنی اوراب80 برس کے ہونے کے بعد قلم اور گولڈ ہوم ہی اُن کی زندگی کا سہارا ہیں۔ زبیر پراچہ تقریباً 90 برس کے ہیں۔ اُن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی یورپ کے مختلف شہروں میں جا بسے، جب کہ اُن کے بےحد اصرار کے باوجود زبیر اپنا وطن اور آبائی گھر چھوڑنے پر کسی صُورت آمادہ نہ ہوئے۔
ملازمین کے آسرے یہیں رہنا پسند کیا، مگر ایک رات ملازمین نےاُنھیں خواب آورگولیاں دے کرگھرکا صفایا کردیا اور پھر یہی امراُن کے گولڈ ہوم آنے کا سبب بنا۔ رہ گئیں لقمانی بوا، تو ایک بیٹا ہونے کے باوجود وہ اپنی زبان کی تیزی کےسبب بہو کے دل سے کیا اُتریں، گھر بدرہی کردی گئیں۔ خُود شہاب کی دو کم سِن بیٹیاں اور بیوی ایک کارایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوئیں، وہ بھی شدید زخمی ہوئے، مگر پھر زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ اورتب سے اُنہوں نے یہ گولڈ ہوم بنا کر ٹوٹے بکھرے مگرسانس لیتے مجسموں کی پگھلائی، ڈھلائی، پالش، کندہ کاری اوراُن کی اپنے بچھڑوں سے جُڑت کاری کا کام شروع کردیا۔
دن کا آغاز ہوچُکا ہے۔ شہاب، مردوں اور عورتوں کے کمروں کے دروازے بجاکر سب کو جگا رہے ہیں۔ جمشید نے آنکھیں کھول کر لمبی انگڑائی لی اوراُٹھ کر جوتے پہننے لگے۔ شہاب کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر بولے۔ ’’آج صُبح مَیں نے زرینہ سے کہا کہ مجھے چائے بنا دو، مگر اُس نے ہمیشہ کی طرح میری بات نہیں مانی۔ مَیں سچ کہہ رہا ہوں، ہمارا گزارہ نہیں۔ سوچ رہا ہوں دوسری شادی کرہی لوں۔‘‘ ’’چل بڈھے! مَیں تیری یہ حسرت بھی پوری کرہی دوں۔
ابھی جاکر قبرستان میں تنبو لگواتا اور مولوی کو لےکر آتا ہوں۔‘‘ شہاب کے جواب پر پیچھے سے سُنائی دیتی زرینہ کی پوپلی ہنسی سے سارا کمرا مُسکرانے لگا۔ ’’تجھے میری قسم ہے،اب تُو دوسری شادی کرہی لے۔‘‘زرینہ کوشہاب کےجواب نے خوش کردیا تھا۔ چند لمحوں بعد زینب آپا، سعیدہ، جمشید، زرینہ، زبیر پراچہ، لقمانی بوا اور جمال آصف سبھی قریبی پارک میں صُبح کی سیر کے لیےموجود تھے۔ اُن کو دیکھ کر لگ رہا تھا، جیسے پرانا وقت پھر سے سانس لینے لگا ہے۔ پارک والوں کے لیے یہ منظر نیا نہیں تھا۔
شروع شروع میں تو لوگ اُن کو دیکھ کر تالیاں بجاتے، اُن کے ساتھ سیلفیز لیتے، اُنہیں پھول پیش کرتے تھے۔ منظر پرانا سہی، مگر ہر بار دیکھنے والوں کی آنکھوں میں عقیدتوں کے نئے چراغ جل اُٹھتے ہیں۔ ’’تیز تیز قدم اٹھاؤ۔ زندگی سے لڑنے کے لیے فوجی بن جاؤ۔‘‘ جمشید کی آواز گاہے بہ گاہےگونجتی ہے۔ ’’لیفٹ رائٹ، لیفٹ لیفٹ، رائٹ لیفٹ…‘‘ بوڑھوں میں جوش پیدا ہوگیا ہے۔
جمال آصف جُھک کرسوکھے، چرمرائے پتّوں کو عقیدت سے اُٹھاتا جاتا ہے۔ ’’ان پر پیر نہ رکھنا، یہ ہم ہیں۔ یہ ہمارے بعد آنے والے ہیں۔‘‘ یہ جملہ وہ اکثر ہی بولا کرتا ہے۔ ’’اوئے لکھاری! تُو کوئی اچھی بات بھی منہ سے نکالا کر، جو سب کو جوان کردے۔ قلم میں تو بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔‘‘ شہاب لقمہ دیتا ہے۔ صُبح کا سپیدہ کھنکتی دھوپ میں ڈھلنے لگتا ہے، تو اُن سب کی واپسی ہوجاتی ہے۔
اب سب لوگ ناشتے کی میز پر بیٹھے ہیں۔ اُن کے چہروں پر تازگی دمک رہی ہے۔ ’’مَیں سردیوں میں سب کےلیے باجرے کی کھچڑی بنایا کروں گی۔‘‘ زرینہ بولی۔ ’’مَیں اس کو مکھن کا بگھار لگایا کروں گی اور مسالے اپنی پسند کے ڈالوں گی کہ مریضوں والا کھانا مجھے بالکل نہیں پسند۔‘‘ لقمانی بوا حسبِ عادت ناک چڑھاتے ہوئے بولیں۔ ’’کھچڑی زرینہ ہی بنا دیا کرے گی۔ تم اُس پر بس پھونک ماردیا کرنا۔ ایسی مرچیں لگیں گی سب کو کہ میّا یاد آجائے گی۔ ‘‘
زبیر پراچہ اپنی ہلتی گردن کے ساتھ شرارت آمیز لہجے میں بولے۔ ’’چُپ کر بڈھے! نہیں تو تجھے فرائی پین میں ڈال کر تیرا بگھارلگادوں گی۔‘‘ لقمانی بوا تلملا ہی تو گئیں۔ ’’ارے کچھ تو شرم کرو۔ اِس عُمر میں بچّوں کی طرح لڑتے ہو؟‘‘ شہاب نے ہونٹوں پر دھیمی نرم مسکراہٹ لیے دونوں کو گھورا۔ ’’میرے پردادا دوسری جنگِ عظیم میں شامل تھے۔ انہیں شہادت کی بڑی تمنا تھی۔
جنگ میں اُن کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئی تھیں۔ آخر عُمر میں بستر پر لیٹے لیٹے نازیوں کو گالیاں دیتے رہتے تھے۔‘‘ جمال آصف نے ماحول بدلنے کے لیے ماضی کی کتاب کی ورق گردانی شروع کر دی۔ ناشتے کے بعد سعیدہ نےسب کو اخبار پڑھ کر سُنایا۔ سیاست اورحالات حاضرہ پہ تبصرے ہوئے۔ گولڈ ہوم اپنے انوکھے روزوشب کی وجہ سے مشہور ہوتا جارہا ہے۔
مختلف تنظیموں اور این جی اوز کے سربراہان کے علاوہ نئی نسل بھی وہاں آنے جانے لگی تھی۔ اخباری نمائندوں نے گولڈ ہوم کا دورہ کیا، تو کہا۔ ’’یہ سب بہت خوش آئند ہے۔‘‘ادارے کے سربراہ شہاب اور دوسرے افراد کے انٹرویوز میڈیا پرپیش کیے گئے۔ انٹرویو میں لقمانی بوانے اعتراف کیا کہ اُن کی زبان کی تلخی کی وجہ سے بیٹا اُنہیں یہاں داخل کروا گیا ہے۔ زبیر پراچہ بھی شرمندہ تھے کہ اپنی ضد اور انا کی وجہ سے بےجان دیواروں کو اولاد پر ترجیح دی۔
مُلک کے مشہورو معروف اخبارمیں شائع ہونے والے شہاب کے انٹرویو نے تو جیسے ہلچل ہی مچا دی۔’’ زیورات بنانے میں صرف ہُنر کام نہیں آتا کہ سُنار جو کچھ بناتا ہے۔ وہ دراصل کائنات کے حُسنِ ازلی ہی کا پرتو ہے۔ ان برہنہ پہاڑوں، آب شاروں، سمندروں، دریاؤں، درختوں، پھول دارپودوں، ننّھی مُنی مُسکراتی کلیوں، جڑی بوٹیوں کو قدرت کے سُنار ہی نے تو اس دھرتی پر ٹانکا ہے۔ یہ آسمان کے نیلے قالین پرسورج، چاند، ستاروں کے جھومر، نُورکی جھالریں، کہکشاؤں کی راہ گزر کسی انسان کے سان وگمان سے بھی پرےکی باتیں ہیں، مگر قدرت کی صنّاعی سے تحریک پانے والے ہمارے بزرگ کوئلوں، پتھروں کو تراشنے والے جوہری ہیں۔
مَیں اپنے بچّوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنےان جوہری والدین کوگھروں سے نہ نکالو۔ یہ انسانوں کی نہیں بلکہ ابنِ آدم کی تخلیق کرنے والے کی توہین ہے۔‘‘ اور پھر… اگلے چند دنوں میں ’’گولڈ ہوم‘‘ پر لوگوں کا رش لگ گیا۔ لقمانی بوا کا بیٹا ماں کو لینے آگیا۔ زبیر پراچہ فارن ایمبیسی کے چکر کاٹ رہےتھے۔
زینب آپا اور سعیدہ کے بھانجوں نے ان کے پیرچُھو کر معافی مانگ لی۔ جمال آصف تو بقول شہاب، اُن کے دستِ راست ہیں، سو وہ وہیں رہے۔ سب لوگوں کے جانے کے بعد گولڈ ہوم کا دروازہ بند ہوگیا، مگر اُس کے اوپر لگی تختی پر ’’گولڈ ہوم‘‘ کے الفاظ بدستورچمک رہےہیں، شاید کسی نئی دستک کے منتظر ہیں۔