دانیال حسن چغتائی، کہروڑپکا، لودھراں
وہ دوپہر آج بھی قدیر کے حافظے کے گوشوں میں تازہ زخم کی طرح محفوظ تھی۔ سورج سوا نیزے پر تھا اور آسمان سے آگ برس رہی تھی۔ بستی کی گلیاں ویران تھیں، مگر اس ویرانی میں بھی عجیب سی بے چینی رقصاں تھی۔ گلی کے عین وسط میں نیم کاوہ بوڑھا، گھنا درخت اِستادہ تھا، جس کی جڑیں زمین کی تہوں سے نکل کر باہر آگئی تھیں۔
اِس درخت کی چھاؤں تلےگردوغبار اُڑ رہا تھا اور اُسی کے نیچے آٹھ سالہ قدیر مٹی میں اٹا بیٹھا تھا۔ قدیر کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ نہایت مہارت سے مٹی گوندھ رہے تھے۔ پسینہ اس کی پیشانی سے ڈھلک کر گردن تک لکیریں بنا رہا تھا، مگر اُسے کوئی ہوش نہ تھا۔ اس کے لیے وہ مٹی ایسی کائنات تھی، جسے وہ اپنی مرضی سے تخلیق کر رہا تھا۔ اس نے تھوڑی سی مٹی لی، اُسے پانی کے چند قطروں سے نم کیا اور محل کھڑا کر دیا۔ اس کے پہلو میں مُنّی بیٹھی تھی۔
مُنّی، اپنی گڑیا کے چیتھڑے سی رہی تھی۔ اُس کی گڑیا کا ایک بازو ٹوٹ چُکا تھا اور سر کی روئی باہر جھانک رہی تھی، مگر مُنّی کے لیے وہ دنیا کی سب سے خُوب صُورت شہزادی تھی۔ نیم کی ٹہنیوں سے چھن کر آنے والی دھوپ کے ٹکڑے اُن کے چہروں پر پڑ رہے تھے۔ قدیر نے لمبی سانس لی اور اپنے بنائے ہوئے کچے گھروندے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’مُنّی! دیکھو، یہ میرا محل ہے۔ اس کے چار دروازے ہیں اور چھت پر ایک بڑا سا جھنڈا لگے گا۔‘‘
مُنّی نے گڑیا سےنظرہٹا کراپنے الجھے بالوں کو پیچھے ہٹایا اوراس ڈھیر کی طرف دیکھا۔ اُس کے معصوم ذہن میں ایک دَم ایک خیال کوندا، تو دھیمی آواز میں پوچھا۔ ’’قدیر بھائی! کیا اِس محل میں ابّا کے جوتے کی آواز نہیں آئے گی؟‘‘ قدیر کے ہاتھ دیوار کھڑی کر رہے تھے، اچانک رُک گئے۔ فضا میں سناٹا چھا گیا۔ نیم کے پتّوں کی سرسراہٹ بھی جیسے تھم گئی۔ مُنّی کا سوال اُس خوف کا اظہارتھا، جو اس کے لاشعور میں بسا تھا۔
قدیر اور مُنّی نے گھر میں ہمیشہ باپ کے غصّے ہی کو محسوس کیا تھا، جس کے پیچھے تلخی اور وحشت چُھپی ہوتی۔ اُن کے گھرکا چھوٹا سا صحن غربت اور تنگیِ داماں کا استعارہ تھا۔ ماں سارا دن چولھے کی تپش میں جلتی رہتی،تب ہی چہرے پر وقت سے پہلے ہی جُھریاں پڑ گئی تھیں اور باپ، باہر کی دنیا کی تلخیوں کا سارا بدلہ گھر کی دیواروں سے لیتا۔ وہ جب بھی گھر داخل ہوتا، گھر بھر میں خوف کی لہر دوڑ جاتی۔
قدیر کو یاد تھا کہ کیسے ایک بار اُس کی ماں سے سالن میں نمک تیز ہوگیا تھا اور اُس کے باپ نے تھالی اُٹھا کر صحن میں پھینک دی تھی۔ اُس ٹوٹتی ہوئی رکابی کی آواز قدیر کےکانوں میں آج بھی گونجتی تھی۔ اُس رات اس نے مٹّی کے ڈھیر پر سر رکھ کر بہت دیر آنسو بہائے تھے۔ اُسے لگتا تھا کہ بڑے ہونا شاید سزا ہے، ایسی سزا، جس میں انسان اپنی معصومیت کھو کر درندہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے، جب مُنّی نے ابّا کے جوتوں کی بات کی، تو قدیر کو لگا، جیسے اُس کا مٹّی کا محل گرنے والا ہے۔
اُس نے مضبوطی سے مٹی کو دبایا اورجواب دیا۔ ’’نہیں مُنّی! اس محل میں فرش پر مخمل کے قالین ہوں گے۔ یہاں سب ننگے پاؤں چلیں گے۔ کوئی کسی کو ڈانٹے گا نہیں اور یہاں کبھی اندھیرا نہیں ہوگا۔‘‘ ابھی اُس کے الفاظ فضا میں تحلیل بھی نہ ہوئے تھے کہ گلی کے دوسرے سرے سے کڑک دار آواز آئی۔ ’’قدیر کے بچّے! کہاں مر گیا ہے؟ گھرآ، تیری ماں تیری راہ دیکھ رہی ہے۔‘‘
یہ اُس کےباپ کی آواز تھی۔ لہجےکی وہی کرختگی، جواُس کی رُوح فنا کر دینے کو کافی تھی۔ قدیر کا جسم لرز اُٹھا، اُس نےجلدی میں اٹھنے کی کوشش کی، تو اُس کا اپنا ہی پاؤں مٹّی کے اُس مینار پر پڑ گیا، جسے وہ ابھی خوابوں کا محل کہہ رہا تھا۔ پل بھر میں سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ وہ مٹّی، جو اس کے خوابوں کا سہارا تھی، اب اس کے جوتوں پر لگ کر انہیں گندا کر رہی تھی۔
وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا۔ کچّی عُمر کی وہ مٹّی خشک ہو کر اُڑگئی، مگر اس کی مہک قدیر کے وجود میں رچ بس گئی تھی۔ برسوں بعد، قدیر کام یاب انجینئر بن چُکا تھا۔ اُس نے شہر کے پوش علاقے میں ایسا گھر بنایا تھا، جو کسی محل سے کم نہیں تھا۔ اُس گھر کی دیواریں ہم وار تھیں، فرش پر قیمتی سنگِ مرمر چمک رہا تھا اور ہر کمرے میں ایئرکنڈیشنر کی ٹھنڈک تھی۔
مگر قدیر کے اندر کی وہ تپتی دوپہر ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ اب خُود باپ تھا۔ اُس کی زندگی ایسی مشین بن چُکی تھی، جس میں جذبات کی گنجائش کم ہی تھی۔ وہ دفتر سے تھکا ہارا آتا۔ خاموشی سے کھانا کھاتا اور اپنے کمرے میں بند ہو جاتا۔ اُسے شور سے نفرت تھی، اُسے قہقہوں سے ڈر لگتا تھا۔ اُسے لگتا تھا کہ اگر وہ ہنسا، تو شاید کوئی آفت نازل ہوجائے گی۔
ایک شام، جب آسمان پر شفق کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، قدیر اپنے ٹیرس پر کھڑا تھا۔ نیچے لان میں اس کا بیٹا زایان، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ زایان نے پلاسٹک کے بلاکس سے بہت بڑا قلعہ تعمیر کیا تھا۔ بچّوں کے شوروغل اور اُن کے بھاگنے کی آوازیں قدیر کے کانوں سے ٹکرائیں تو اُسے اچانک اپنا وہ مٹی کا گھروندا یاد آ گیا۔ اُسی لمحے زایان کا دوست بھاگتا ہوا آیا اور غلطی سے قلعے سے ٹکرا گیا۔ قلعہ دھڑام سے نیچے گرا۔
زایان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا۔ قدیر کو اپنے سینے میں عجیب سی گھٹن محسوس ہوئی۔ اُسے لگا، جیسے وہ دوبارہ اُسی نیم کے درخت تلے کھڑا ہے اور اُس کا باپ اسے پکار رہا ہے۔ وہ تیزی سے نیچے اُترا۔ اُس کے چہرے پرغصّے کے بادل تھے، وہ زایان کو ڈانٹنا چاہتا تھا کہ یہ کیا تماشا ہے؟ مرد روتے نہیں ہیں، یہ شور بند کرو۔ مگر جیسے ہی قدیر لان میں پہنچا تو زایان نے روتے ہوئے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ ’’پاپا! میرا قلعہ ٹوٹ گیا۔
میری محنت ضائع ہو گئی۔‘‘ قدیر کے لب کُھلنے ہی والے تھے کہ اُسے مُنّی کا وہ پرانا سوال یاد آ گیا۔ ’’قدیربھائی! کیا اِس محل میں ابّا کے جوتے کی آواز نہیں آئے گی؟‘‘ وہ ساکت ہوگیا۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ اپنے باپ کا عکس بننے جا رہا ہے۔ وہ وہی چاپ پیدا کررہا ہے، جس سےوہ خُود بچپن میں ڈرا کرتا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ زایان کی آنکھوں میں وہی خوف ہے، جو کبھی اُس کی اپنی آنکھوں میں ہوا کرتا تھا۔ یہ ایک بہت نازک مرحلہ تھا، جہاں کوئی بھی غلط جملہ اُس کے بچے کی اعتماد کی دیوار ہمیشہ کے لیے گرا سکتا تھا۔
قدیر نے ایک لمبی سانس لی۔ اُس نے اپنے غصّے کو پی لیا۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ بچپن میں مٹی کے پاس بیٹھتا تھا اور زایان کو گلے سے لگا کے بہت نرمی سے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں بیٹا! جو چیز ٹوٹ جاتی ہے، اُسے دوبارہ بنایا جا سکتا ہے اور اِس بار ہم اسے پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں گے۔‘‘ زایان نے حیرت سے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔
اُسے توقع تھی کہ اسے ڈانٹ پڑے گی، مگر یہاں تو محبّت کا سمندر امڈ آیا تھا۔ قدیر نے خُود بلاکس اُٹھائے اور اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر دوبارہ قلعہ بنانا شروع کردیا۔ اُس وقت قدیر کو محسوس ہوا کہ وہ زایان کا قلعہ نہیں بلکہ اپنےاندرکی اس کچّی عُمر کی مرمت کررہا ہے، جو برسوں سے ٹوٹی پڑی تھی۔
رات کی تاریکی پھیل رہی تھی، مگر قدیر کے دل میں آج عجیب سا سکون جاگزیں تھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ پختہ عُمر کا مطلب پیسا کمانا یا بڑے گھر بنانا نہیں ہوتا، بلکہ اس کامطلب اپنے ماضی کے زخموں کو بھرنا اور اپنے بچّوں کو وہ بچپن دینا ہوتا ہے، جس سے ہم خُود محروم رہے ہوتے ہیں۔ مشاہدات اور تجربات نے اُسے سکھایا تھا کہ کچی عمر میں پڑنے والی خراشیں اگرچہ دکھائی نہیں دیتیں، مگر اُن کا درد تاحیات رہتا ہے۔
انسان اگر چاہے تو اپنے تلخ تجربات کوڈھال بنا کر آنے والی نسل کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ قدیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آج اُسے نیم کے اس بوڑھے درخت سے خوف نہیں آ رہا تھا۔ اُسے محسوس ہوا کہ وہ بوڑھا درخت آج مسکرا رہا ہے۔ زندگی کا سفر کچی مٹی سے شروع ہو کر پختہ عمارتوں تک جاتا ہے، مگر انسانیت کا حُسن اسی میں ہے کہ دل کی مٹی ہمیشہ کچی اور نرم رہے، تاکہ اس میں محبت کے بیج بوئے جا سکیں۔ آج قدیر کا محل مکمل ہوگیا تھا۔ اس میں صرف مخمل کے قالین ہی نہیں، وہ سکون بھی تھا، جس کا خواب اُس نے کبھی تپتی دوپہر میں دھول اُڑاتے دیکھا تھا۔