• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افسر و شاعرِ لطف پرور: ڈاکٹر حامد عتیق سرور

صاحبو! بات کچھ یُوں ہے کہ آسانیاں مشکل مقام پر بھی مل سکتی ہیں۔ جیسے ہمیں ڈاکٹر حامد عتیق سرور انکم ٹیکس کی تربیت گاہ میں مِل گئے۔ اُنیس بیس برس قبل کی بات ہے۔ ہم تھے طالبِ علمِ محصولات اور صاحب ذہین و فطین ترین اُستادِ خوش صفات۔ ہم نے پہلے ہی درس میں انہیں مدرّس و مُربّی بھی مان لیا اور درس گاہ بھی۔

تب سے اب تک اُن کے ہاں آتے ہیں تو چوکھٹ ہی پر پاپوش اُتار کر کاسۂ سوال اُٹھا لیتے ہیں کہ ’’مُرشد! دھیان گیان عطا ہو۔‘‘ موصوف سے شاعرانہ لائسینس لینے کے باوجود ادب ہمیشہ ہمارے ملحوظِ خاطر رہا ہے اور رہے گا۔ پہلی بار اِن سے ملے تو سمجھ نہیں آئی کہ کوئی اس قدر کامل سنجیدگی سے ایسی پُر مزاح، شائستہ، شُستہ اور شگفتہ گفتگو کیسے کرسکتا ہے۔

چہرہ مُہرہ ویسا ہی جیسا اُستاد یوسفی نے اپنا بیان کیا تھا۔ حتیٰ کہ اُستاد کے تتبع و احترام میں ہیئر اسٹائل بھی تقریباً ویسا ہی بنا رکھا تھا۔ ہم تب لڑکے بالے تھے اور آتش جواں بھی تھا، شعلہ فشاں بھی۔ ڈاکٹر صاحب ہمارے معلّم بھی تھے اور ہماری حرکات و سکنات کے گواہ بھی۔ یہ الگ بات کہ اُن کی شفقت و محبّت نے ہمیشہ ہمارے حق ہی میں گواہی دی۔

صاحبو! اُن کے شاگرد ہونے کے علاوہ ہماری ڈاکٹر صاحب سے ازلی و ابدی نیاز مندی کی تین وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ تو بلاشک و شُبہ یوسفی ہیں، دوسری اُردو و فارسی شاعری، تیسری وجہ ہم بوجوہ نہیں بتائیں گے۔ متجسّس قارئین صبر و شُکر کر کے بقیہ مضمون پڑھنے پر دھیان دیویں۔ آغا فرماتے ہیں کہ حضرتِ یوسفی کو بہلا پُھسلا کر بارِدگر پاکستان سول سروس میں شمولیت پر آمادہ کرلیا جائے تو ہوبہو ڈاکٹر صاحب جیسے ہی ہوں گے۔

شاید دو ہزار چھے ہی کا قصّہ ہے۔ زیرِتربیت لڑکے، لڑکیوں پر مشتمل سول سروس افسران کا ایک گروہِ پُرماجرا ڈاکٹر صاحب کی سرکردگی و قیادت میں کوہِ مری کے داستاں انگیز مضافات میں خیمہ زن تھا۔ ہم بھی شاملِ ہاؤ ہُو تھے۔ شنگریلا نام کی جنّت نظیر اقامت گاہ قیامت تھی۔ ایک سُہانی شام کہ شاید شامِ رُخصت تھی، خوش گپیوں کا سلسلہ دراز ہوا۔ شنگریلا کے دل آویز دالان کےعُقب میں شیشےکی دیواروں والا ہال تھا۔

اُدھر کچھ ہم جولیاں اوراُن کی بولیاں ٹھولیاں، اِدھرہم لڑکےبالےضلع جگت اور پھبتیوں میں مگن۔ آوازے توازےکسےجارہے تھے۔ ایک کونے میں دھری چنگیروں میں چنبیلی کے پھول اور موتیا کے گجرے کنٹھے۔ ہم نےدیسی پان کی گلوریوں میں سےایک اُچک لی۔ وہ بھی چوگھڑا الائچیوں والی۔ ارے بھئی، سبحان اللہ! ذائقہ ابھی تک تالو سے چپکا ہے۔

تم کھا پاؤ تو مہک لہک جاؤ۔ حُقّے کے جدید ورژن شیشےکی صُورت میں مختلف ذائقوں بھرے موجود تھے۔ خمیرے کے لپٹے ہوا میں رقصاں۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت مرکزِ نگاہ تھی۔ اُنہوں نے کسی ظالم کی ایک عجب پُراسرارغزل کی پڑھنت شروع کردی کہ جس میں زیر زبر پیش کے ہیر پھیر سے بات بنائی گئی تھی اور خُوب بنائی گئی تھی۔ ؎

کئی گزرے سَن تِرا کم تھا سِن، لیے ہم نے سُن ترے گھنگھرو

گیا سینہ چَھن، گیادل بھی چِھن، جوں ہی بولےچُھن ترے گھنگھرو

ہمیں آج کل کی طرح تب بھی نِت نئی سُوجھتی تھی۔ قانونِ محصولات یعنی انکم ٹیکس لاء سے متعلق تو اِن کی رسائی کا اندازہ ہو ہی چُکا تھا، اب یُوں لگا کہ ڈاکٹر صاحب نے شہرِ ذہانت کے چاروں کھونٹ داب رکھے ہیں۔ ارے بھئی، رحمت ہو خدا کی، بےتکان، بِنا روک ٹوک شعر پر شعر پڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کا پُورا پُورا دیوان یاد ہے۔ تُم جہاں سے چاہو، فرمائش کریو، سُنیو اور سر دُھنیو۔ میر تقی سے بھی خوب نیاز مندی ہے، مرزا نوشہ سے بھی ڈھیر ساری یاد اللہ۔ اور ایسا نہیں کہ محض کلاسیک ہی سے شغف ہے۔

اِدھر دل میں خانہ بہ خانہ کہیں پروین براجمان ہیں، کہیں فراز، کہیں ناصر جھلکی دکھاتے ہیں، کہیں فیض۔ اُس ملاقات میں ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب کو صنفِ نازک کی مُسلسل توجّہ حاصل ہے۔ تب سے اُن پر خدا کی اس عطا میں دن دُگنی رات چوگنی بڑھوتری ہوئی ہے۔ سچ ہے کہ خدا جسے چاہے نوازے۔ میدانِ شعروسخن ہو کہ سول سروس، کوئی جامعہ ہو کہ مشاعرہ، کام یابیوں میں سرِفہرست آنا اور طلائی تمغے لینا موصوف کی عادت ہے۔ حکومتِ پاکستان کے گریڈ بائیس کے ایک کہنہ مشق اور بلند پایہ افسر تو ہیں ہی مگر جدھر بھی گئے، کام رانیوں کی ایک داستانِ طویل چھوڑ آئے۔

موصوف ایک ایسے’’محصلِ محصولات‘‘ ہیں، جنہوں نے 1992ء میں سی ایس ایس کےامتحان میں امتیازی کام یابی حاصل کی۔ سول سروسز اکیڈمی اور ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ اینڈ ریسرچ (انکم ٹیکس)، لاہور میں تربیتِ ابتدائی مکمل کرنےکےبعد 1994ء میں ان کی تقرّری لاہورمیں ہوئی۔ بعد کے بتیس تینتیس برس اُن کی ملک و قوم کے لیے محنت و دیانت سے معمور خدمات کے گواہ ہیں۔

اس دوران بتدریج انکم ٹیکس آفیسر، ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس، ایڈیشنل ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ، کمشنر (ان لینڈ ریونیو)، چیف کمشنر اورپھرممبر (ان لینڈ ریونیو) جیسے مُلک گیرمناصب پر مناسب وموزوں بلکہ شان دار خدمات سرانجام دیں۔ بڑی کمپنیز اور کارپوریشنز کے پیچیدہ معاملات کو فہم و فراست اور حُسنِ تدبیر سےسنبھالتے اور وزارتِ صنعت و پیداوار میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر مُلکی معاملات دیکھتے ہوئے آج کل ڈاکٹر صاحب وہ خزینۂ فہم و فراست ہیں کہ شاید ہی کوئی مُلکی پالیسی اِن سے مشاورت کے بغیرتشکیل پاتی ہو۔

ان کے درخشاں اور یادگار کیریئر میں اعزازات کی ایک طویل قطار جگمگاتی نظر آتی ہے۔ 1994ء میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کے زیرِ اہتمام فائنل پاسنگ آؤٹ امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر صدرِ پاکستان کا گولڈ میڈل ان کے حصّے میں آیا۔2001 ء میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈائریکٹ ٹیکس ٹریننگ نے انہیں بہترین استاد کے اعزاز سے نوازا۔ 2005 ء میں LUMS ہی کی جانب سے میرٹ اسکالرشپ سے نوازے گئے۔ مزید برآں 2010 ء میں LUMS سے ایگزیکیٹو ایم بی اے کے دوران NMF گولڈ میڈل حاصل ہوا۔

اُن کا دماغ اور لائبریری دونوں نوادراتِ ادب کامجموعہ ہیں۔ ایک بارہمیں کسی چینل کےلیےڈاکٹر صاحب کا انٹرویو کرنا تھا۔ کاشانۂ حامد پہنچے توڈاکٹر صاحب کی زوجہ یعنی میڈم آمنہ حسن نے انٹرویو ریکارڈنگ کا اہتمام اس جمالیاتی جزئیات نگاری کے ساتھ کیا کہ ہماری کیمرا ٹیم اور ڈائریکٹر تک حیران رہ گئے۔ محترمہ خُود بھی سول سروس کی افسرِ اعلیٰ اور بہترین انگریزی مُصنفہ ہیں۔ ان کی گفتگو ہمیشہ بہت پُرمغز اور انگریزی ادب کے بہترین حوالوں سے رچی ہوتی ہے۔

جہاں تعینات ہوں، بہترین کارکردگی اور حسِ جمالیات کے رنگا رنگ پُھول کھلاتی ہیں۔ انٹرویو کےبعد ڈاکٹر حامد نے ہمیں اپنے کُتب خانے لےجاکر دیوانِ حافظ کا وہ تاریخی نسخہ دکھایا، جو سال ہا سال کے بعد بھی سمرقند و بخارا اور شیرازواصفہان کی خوشبو سے چھلک رہا ہے۔ ایک بار کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج والوں کو مشاعرہ برپا کرنے کی سُوجھی، جو کہ اکثر سُوجھتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہیں سے فارغ التحصیل اور سند یافتہ ہیں۔

ہماری ذمّے داری یہ تھی کہ اُنہیں کاشانۂ حامد سے مشاعرے کے لیے ہم راہ لیا جائے۔ مشاعرہ گاہ پہنچے تو کیا وائس چانسلر، کیا ڈین، کیا پروفیسرز اور کیا طالبِ علم و طالباتِ طب، سبھی ڈاکٹر صاحب کےدیوانے اور اس بات پر نازاں نکلے کہ حامد عتیق سروراُنہی کی درس گاہ سے پڑھے ہیں۔

کچھ برس قبل موصوف ممبر ٹیکس پالیسی تھے، تو ہم نے دیکھا کہ کوئی بھی ٹیکس چور بھلے کڑھ مغزا ہو، بوجھ بجھکڑ یا لاکھ چالاک وچلتر، موصوف چُپ چپاتے اُس کی نقل سے گریز کرتے ہوئے شُدہ شُدہ اصل تک پہنچ جاتے ہیں۔ ٹیکس ریونیو کی شاہ جہانی دیگ میں سےکُھرچن تک کُرید لانا اِنہی کا خاصّہ ہے۔ کوئی ناہنجارنادہندہ ٹھمک چال چلنے کی کوشش کرے تو لپک کر جائزحکومتی ریونیو پہلی فرصت میں قومی خزانے میں دھروا لیتے ہیں اور مضروب سے کہتے ہیں کہ ابے! مرحوم ہونے سے چمپت ہوجا۔ وہ بے چارہ پل بھر میں اِسی خوف سے تیتری ہوجاتا ہے کہ دوبارہ نہ دبوچ لیں۔

جہلم بک کارنرمیں ان کی کتاب ’’مِرے جن نکل گئے‘‘ کی تقریبِ رُونمائی کے دوران ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ آپ طِب میں کیرئیر جاری رکھتے تو لازماً ماہرِ امراضِ دل ہوتے۔ پہلے حسیناؤں کودردِ دل عطا فرماتے، بعدازاں خُود ہی چارہ گری براہِ دلبری کرتے۔ جس ضدی محترمہ کو دوا دارُو یا دم درود سے افاقہ نہ ہوتا، اُسے شربتِ غزل پلا اور معجونِ محبّت چٹا کر ڈھیر کر ڈالتے۔

البتہ گُل انداموں کو دفتری اوقات کے دوران یُوں اوقات میں رکھتے کہ فون پرجوابی پیام ندارد۔ ناریاں بے چاریاں ماریاں ماریاں پھرتیں کہ طبیب ہاتھ آئے تو اللہ مارے درد کا درماں ہو۔ پچھلےسال فیض امن میلے کےدوران ان کی کتاب ’’خاکِ پریشاں‘‘ کی تقریبِ رُونمائی کی ہم نظامت کررہے تھے۔ سامعین میں سے ایک محترمہ ہم سےکہنے لگیں کہ آپ کے اُستاد دُور سے تو اتنے سنجیدہ و خاموش لگتے ہیں، جیسے کوئی لائبریری۔ یہ الگ بات ہے کہ پاس آکر بھی اُتنے ہی سنجیدہ وخاموش لگتے ہیں۔ ہاں جب سُخن کریں تو اُس لائبریری میں موجود گوشۂ یوسفی بھی گوش برآواز ہوکر کِھلکھلا اُٹھے۔

ہم نے عرض کیا کہ بات تو سچ ہے۔ عدیل ہاشمی نواسۂ فیض ڈاکٹرصاحب کی محبّت میں ہمارے ہم راہی ہیں۔ ہم نے ایک بار اُن سے عرض کیا کہ موصوف کمرے میں گمبھیر ٹیکس آڈٹ کی طرح داخل ہوتے اور مجسّم گُلِ مزاح کے مانند نکلتے ہیں۔ ان کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کرلگتا ہے، ہنسی پر ٹیکس لگادیں گے۔ لیکن قہقہے بانٹنے پر آئیں تو مُفت بانٹتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے سنجیدگی سے مزاح بانٹنے کے اس عمل کو ناچیز نے ’’ڈاکٹرز ڈاکٹرائن‘‘ کا نام دیا ہے۔ عدیل بھائی کا قہقہہ دیدنی و شُنیدنی تھا۔

موصوف کی ٹیکس قوانین پرگرفت اُتنی ہی محکم گیرہے، جتنی اللہ بخشے جھارا پہلوان کی فنِ پہلوانی پر تھی۔ ٹیکس نا دہندگان کو ایسے چرندگان و پرندگان گردانتے ہیں کہ جو چرتے چُگتے ہوئے چُپکے چُپکے قانون کی چراگاہ سے باہر نکل لیے۔ سو، موصوف ایک ہاتھ میں دانہ و چارہ اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی تھامےمصروفِ عمل دخل رہتے ہیں۔

رضامند و نیم رضامند کو ہتھیلی پر دانہ دُنکا پھیلا،’’آ …آ‘‘ کی پھسلواں صدا سےقانون و دین کے پھیلتے سُکڑتے دائرے میں واپس لےآتے ہیں، جب کہ ضدی اور اڑیل گڑبڑی کے ہاں کڑی اور بڑی چھڑی استعمال فرماتے ہیں۔ عربی کہاوت ہے کہ ’’اونٹ کو بلبلاتے ہوئے ہی لادنا چاہیے۔‘‘ لیکن، عربوں نے شاید ہمارے اونٹ نہیں دیکھے، جن کی نہ کوئی کل سیدھی ہے، نہ آج۔

ڈاکٹرصاحب تعلیماتِ ٹیکس میں ازل سےکھوئے کُھبے ہیں۔ شُنید ہے کہ شیرخواری ہی میں انکم ٹیکس آرڈنینس ازبر کروا دیا گیا تھا۔ کچھ شناسا تویہاں تک کہتے بھی سُنے گئے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے خطبۂ عقدِ اول (جو کہ تاحال منتظرِ ثانی ہے) میں وہ آیات تلاوت فرمائی گئی تھیں کہ جن میں ایمان والوں کو ٹیکس نہ دینے پر جہنم کی وعید سُنائی گئی ہے۔ موصوف ٹیکس نادہندہ کا یُوں تعاقب کرتے ہیں، جیسے رومیو، جولیٹ کا کیا کرتا تھا یعنی نہیں نکڑ کی گنجائش نہیں بچتی۔

اِن کو دُور سے آتا دیکھ کر ٹیکس نادہندگان تھرتھرکانپتے ہوئے اپنے وکیل کے پیچھے چُھپ جاتے ہیں، البتہ وکیل غریب ’’بوندل‘‘ جاتا ہے کہ آخر وہ کس کے پیچھے چُھپے۔ اِن کے شاگردانِ مونث ومذکراتنے کثیر التعداد ہیں کہ آپ پاکستان کی کسی بھی کونے کھدرے میں کھڑے ہو کر کسی بھی سمت ایک پتھر پھینکیے، اُن کا کوئی نہ کوئی شاگرد ضرور بالضرورمضروب ہوگا۔ یہ الگ بات کہ صنفِ نازک کو پتھر پھول بن کرلگے گا۔ باقی رہے، ہم جیسے لگڑبگڑ تو عرض ہےکہ موصوف کو مذکرسے مذاکرات میں تامل رہتا ہے اور ویسے بھی ہم جیسوں کا تو کام ہی سدا بلبلانا ہے۔ ؎

اِک طرزِ تغافُل ہے سو وہ اُن کو مبارک

اِک عرضِ تمنّا ہے، سو ہم کرتے رہیں گے

موصوف ایک چلتی پِھرتی اکیڈمی آف ٹیکس، ایک مجسّم ٹیکس کوڈ اور ایک سرتاپا ٹیکس گوگل سرچ انجن ہیں۔ شُنید ہے کہ اُن کی خواتین شاگردوں میں مِس A-I یعنی محترمہ مصنوعی ذہانت بھی شامل ہیں۔ سو،اے آئی سےاگر ٹیکس بابت کوئی مشکل سوال کیا جائے تو وہ پہلے دست بستہ اُن کے دربار میں حاضر ہوتی ہیں اور پھر یہیں سے مُفصّل وتسلی بخش جواب اسمگل کر کے متجسس سوالی کےگوش گزارکرتی ہیں۔

اِس ضمن میں آغا فرماتے ہیں کہ موصوف کی صنفِ نازک میں مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ حد درجہ ذہین وعقل مند ہیں۔ دقیق SROs بھی شیکسپئر کی سانیٹ کی طرح سمجھا ڈالتے ہیں۔ جب کہ موصوف شاعرانہ پیروڈی کے توبے تاج بادشاہ ہیں اور بے تاج بادشاہوں ہی کی طرح شاعروں کی نظم بزور تیغِ ترجمہ فتح کرلیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ وہ نظم اگراِن کی نہیں بن پاتی، تو رہتی بےچارے شاعر کی بھی نہیں۔

لاہور ہی کے ایک مشاعرے کے دوران جب سامعین اُن کا کلام سُن کر ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہورہے تھے، ہمارے ساتھ بیٹھے ایک صاحب پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے کہنے لگے۔ ’’فارس میاں! ڈاکٹر صاحب شدید ترین مزاحیہ اشعار یُوں سنجیدگی سے سُناتے ہیں، جیسے وفاقی بجٹ سُنا رہے ہوں، وہ بھی مورس کوڈ میں۔‘‘ یہ الگ بات کہ موصوف وہ پہلے مزاحیہ شاعر ہیں کہ جو سنجیدہ مشاعرہ بھی لُوٹ پیٹ کر نکل لیتے ہیں اورسنجیدہ شعراء بغلوں میں غزلیں داب بغلیں جھانکتے رہ جاتے ہیں۔

ہم جب بھی ان کے دولت کدے پرحاضر ہوئے، انہیں فارسی شاعری میں’’نکو نک‘‘ ڈوبا پایا۔ موصوف فارسی کلاسیک میں حافظ کےحافظ، رُومی کے روم روم سے واقف، سعدی کے سخنِ سعد سے آشنا، بےدل کی دل نوازی سے واقف اورغالب کے غلبے کے اسیر ہیں۔ حال ہی میں ستارۂ امتیاز کو اِن کے نام کے ساتھ جُڑنے کا امتیاز ملا۔ ’’اٹھارویں کا چاند‘‘ اور ’’مِرے جن نکل گئے‘‘ ان کی فکاہیہ یعنی مزاحیہ یعنی غیرسنجیدہ شاعری کے مجموعے ہیں، جو بےحد مقبول ہوئے، جب کہ حال ہی میں ’’خاکِ پریشاں‘‘ کے عُنوان سے سنجیدہ شاعری کا شاہ کار منظرِ عام اور سخن کے بام پر نمودار ہوا ہے۔

صاحبو! ہما شُما کا علم محض فلم ہوتا ہے یعنی اُتھلا سطحی دکھاوا۔ مگر ڈاکٹر صاحب کا علم حِلم ہے، عمیق، خاموش اور مفصّل۔ اُنہیں بتانا جتانا نہیں پڑتا کہ صاحبِ علم ہیں۔ علم اُن کے عِطر میں مہکتا اور آواز میں کھنکتا ہے۔ خُدا ان کو سلامت رکھے کہ ایسے چُنیدہ و چیدہ دماغ مُلکِ خداداد کا ناقابلِ بدل اثاثہ بھی ہیں اور ہم شاگردوں کا فخر بھی۔ سول سروس کی تاریخ کے ساتھ ساتھ فکاہیہ شاعری کے عالی دماغوں کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، تو دونوں فہرستوں کے چُنیدہ ناموں میں ایک نام ’’ڈاکٹر حامد عتیق سرور‘‘ ضرورشامل ہوگا۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید