سیانے کہہ گئے ہیں کہ عُہدے، رُتبے اور جاہ و منصب شخصیت کا امتحان ہوتے ہیں۔ ہاں چند چیدہ چُنیدہ لوگ ایسے بھی ہیں کہ اُن کے اندرونے کی درویشی پر دُنیا کے ہمہمے، ولولے، طنطنے، چہچہے اور قہقہے کچھ اثر نہیں ڈالتے۔ دھوپ دہاڑے ہوں یا آندھی پانی، اُن کے دل کا دالان محبت سے مہکا ہی رہتا ہے۔ محمّد بلیغ الرحمان، سابقہ گورنر پنجاب بھی اِنہی میں سے ایک ہیں۔
مَیں اُن سے پہلی بار تب ملا، جب وہ گورنر پنجاب تھے۔ یہ ملاقات بھی ایسی تھی کہ سمجھ لیجے تو ملاقات اور نہ سمجھیے تو وہ بھی ٹھیک بات۔ ہُوا کچھ یُوں کہ سینئر مینجمینٹ کورس کی اختتامی تقریب میں وہ مہمانِ خصوصی تھے اور ہم سند پانے والے افسران میں سے ایک۔ باری آئی تو دیکھا کہ درویش صفت گورنر پنجاب کے چہرے پرایک ایسی سکون آور مسکراہٹ سجی ہے، جو محض دِل کے سچّوں کو نصیب ہوتی ہے۔ قامت وہ کہ جس پر ناز کیا جاسکے۔
گھنی بھنویں اور گردوپیش سے باخبر آنکھیں، سلیقے قرینے سے بنائے بال، باریش چہرہ۔ داڑھی اُن کے چہرے پر خُوب جچتی ہے۔ اُس دن بھی قومی لباس ہی میں ملبوس تھے۔ لباس خصوصاً واسکٹ کی سلائی سے ثابت تھا کہ اچھا پہننے کا ذوق ان کے ہاں پُشتوں سے ہے۔ ہم باری آنے پر اسٹیج پر پہنچے۔ مُصافحہ کیا تو بے پناہ گرم جوشی کا احساس ہوا، جیسے کوئی بہت اپنا مِلا ہو۔ ہم نے بصد شکریہ اپنی سند موصول کی۔ بلیغ صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ سے مبارک دی، تصویر کے لیے دونوں نے کیمرا مین کی طرف دیکھا۔ تصویر بنتے ہی ہم نے اُن کےفنِ تقریر کو سراہا، جس پروہ بارِدگر ہولے سے مُسکرائے اور ہم آگے چل دیے۔
یہ ملاقات تھی تومحض چند ثانیوں کی، لیکن بلیغ صاحب کا برتاؤ اس بات کا اعلان کررہا تھا کہ اُن کی شخصیت عُہدے پر حاوی ہے، نہ کہ عُہدہ شخصیت پر۔ اِس مختصر ملاقات نے تحیّر بھی بڑھایا، تجّسس بھی۔ یاخدا! کیا نمودونمائش کے اِس دَور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں، جنہیں عُہدے سے زیادہ عہد کی پاس داری عزیز ہے، جوتاج کوتج دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور تخت کو تختے سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ کھوجنا توچاہیے، جاننا تو بنتا ہے۔
اِسی تجسّس نے اگلی ملاقات کو مہمیز کیا، جب ہمیں نیوتا ملا کہ گورنر ہاؤس میں ڈاکٹر اسلم بُھٹہ کی کتاب ’’زبانِ یارِ من تُرکی‘‘ کی پذیرائی ہے۔ صدارت محمّد بلیغ الرحمان، گورنر پنجاب کی ہے اور نظامت ناچیز یعنی رحمان فارس کی۔ تاریخِ اسلام کے طالبِ علم کے طور پر اس کتاب سے تو دل چسپی تھی ہی کہ ایک مسلمان پڑھے لکھے مسافر کی تُرکی یاترا کی داستان میں تُرکوں کےعروج وزوال کی کہانی گُندھی تھی۔ لیکن مجھے کہنے دیجے کہ اُس تقریب میں شرکت کی سب سے بڑی وجہ بلیغ صاحب کی شخصیت سے متعلق ہمارا تجسّس تھا۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ اولین امپریشن ہی آخری ہوتا ہے۔
ہم اِس کی تصدیق چاہتے تھے۔ اُدھر آسٹریلیا سے ہمارے کام یاب و کام ران ڈاکٹر حسن خلیل بھی شریکِ محفل تھے۔ لاہور ہی سےاپنے رنگ وخوشبو میں اکلوتے توفیق بٹ بھی تتّیا مرچ جیسے تیکھے اور شہد جیسے شیریں جُملوں کے ساتھ موجود تھے اور سونے پر سہاگا یہ کہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی جیسے موقر اور تاریخی ادارے کے وائس چانسلر اور آکسفورڈ یونی ورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر اصغر زیدی بھی تشریف فرما تھے۔ ناچیز نے وہاں بھی محسوس کیا کہ جاہ وحشم کے ہوتے ہوئے عجزوانکسار پر کاربند رہنے کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے اور وہ حوصلہ بلیغ صاحب میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔
اُنہوں نے ہر مقرر کو نہایت غور سے سُنا اور وقت آنے پر خُود بہت مدلّل، مدُھر، موثر اور محبتی گفتگو کی۔ تقریب کے بعد اشیائے خورونوش سے انصاف کا موقع آیا۔ ہم ایک کونے کُھدرے میں لگ کرسموسوں سے منصفی کررہے تھے۔ ایک طرف چٹنی کی لگدی اور ایک طرف پیاز کے لچھے۔ اتنے میں ایک دل چسپ صحافی (نام جن کا ہم پوچھے سے بھی نہیں بتائیں گے) چائے سُڑکتے ہوئے سرک کر قریب آگئے۔ اُن کے ایک ہاتھ میں تین بسکٹ تھے۔
اِدھر اُدھر دیکھ کرہمارے کان میں بولے۔ ’’فارس بھائی! ایسا عوامی گورنر تو آج تک نہیں دیکھا کہ ہر کسی سے مصافحہ بھی کرے، حال چال بھی پوچھے، گلے بھی ملے۔‘‘ ہم نے عرض کیا۔ ’’یہ تو اچھی بات ہے۔‘‘ کہنے لگے۔ ’’اچھی بھی، انوکھی بھی۔‘‘اب اُن صاحب کوکون بتاتا کہ عُہدہ اگر ایسے شخص کے پاس ہو کہ جو علم، وقار اور خدمتِ عامہ کی ایک دل آویز داستان ہے تو زمانہ ایسی روشن عبارت کو اپنے حافظے میں سنبھال کر رکھتا ہے۔ محمّد بلیغ الرحمٰن بھی انہی اصحابِ کردار میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نےعلم کی متاع کو سیاست کی دیانت سے ہم آغوش کیا اور انتظامِ مملکت کے ایوانوں میں وقار، متانت اور خدمت کے ایسے نقوش ثبت کیے، جو اہلِ نظر کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہ سکتے۔
تھوڑا سا کھوجنے سے پتا چلا کہ موصوف تو شہرِ ہزار داستان یعنی بہاول پور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر کے بھی اپنے ہی نرالے قصّے ہیں۔ ایک طرف ایسے بھی حُجرہ نشین یہاں بستے ہیں کہ مرضی کے خلاف ہوا بھی چلے تُو اُسے بھی جھٹ سے طمنچہ داغ دیں اور دوسری طرف ایسے بھی حال مست کہ دن بھر گلیوں گلیوں خوان آراستہ کیے پھریں اور پنج آیت پڑھ کر ہر راہ گیر کو شیرینی اور دُعا تقسیم کریں۔ محمّد بلیغ الرحمان کے خاندان کا شُمار ہمیشہ خدمتِ خلق کرنے والوں میں رہا۔ 1970 ء وہ سال تھا، جب انہوں نے ریاستِ بہاول پور کی اس مردم خیز سرزمین پر آنکھ کھولی۔
روہی کی رُوح یہاں ہر ذی رُوح میں سانس لیتی ہے، کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ بلیغ اُس گلستان کے پھول اور اُس خاندان کے سپُوت بن کر کھِلے، جہاں اُنہیں آنکھ کھولتے ہی پالنے میں مروّت و احساس کی تربیت گُھٹی میں مِلی۔ بزرگوں کی روایت میں خلقِ خدا کی خدمت اور قومی ذمّے داری کا چرچا پُشت در پُشت چلا آتا تھا۔ ایسا تھوڑی کہ یہ سلسلہ کوئی نیا تھا۔ محبّت کی اسی گٹھڑی مٹھڑی میں سے موصوف کا بچپن برآمد ہوا، جو لڑکپن تک آتے آتے مزید لہک مہک اُٹھا۔
اُن کے والد جناب محمّد عقیل الرحمان1997 ء سے1999 ء تک قومی مقنّنہ کے معزز رکن رہے، جب کہ انہی کےچچا زاد بھائی قاضی عدنان فرید بھی عملی سیاست میں اپنا مستقل مقام رکھتے ہیں۔ سچ ہے کہ خاندان کی خوشبو نسلوں تک جاتی ہے۔ یہ الگ بات کہ آدمی کو اپنے دست و بازو ہی سہارا دیتے ہیں، تاہم نیک روایت کی پرچھائیں بھی قدم قدم پر رہنمائی کرتی ہے۔
اب آگے سُنیے۔ اسکول بھی اُن کا وہ رہا کہ جس کے چرچے مشرق ومغرب میں آج بھی ہیں یعنی صادق پبلک اسکول، بہاول پور۔ نوعُمری ہی میں ہونہار لڑکے کی ذہانت اور محنت نے اپنا رنگ دکھایا اور او لیول کے امتحان میں تمغۂ طلائی سینے پر سجا۔ ایف۔ایس۔سی مکمل ہوتےہی علم کی تشنگی اُنہیں دیارِ مغرب لے گئی۔ وہاں بھی بڑے بزرگوں کا نام روشن کیا اور امریکا کی نام وَردرس گاہ، یونی ورسٹی آف پنسلوانیا سے1994ءمیں الیکٹریکل انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔
یوں جدید سائنس کی دقیق راہوں سے گزر کر وہ اس سرمایۂ علم کے ساتھ وطن واپس آئے، جسے بعد کے برسوں میں قومی خدمت کا وسیلہ بننا تھا۔ بہاول پور کے طول وعرض میں کسی بھی راہ گیر سے بات کر لیجے۔ وہ آپ کو محمّد بلیغ الرحمان کے خاندان کی خدمات کے بارے میں بتائے گا، کیوں کہ اس گھرانے نے اپنی آمدن میں سے ہمیشہ اللہ نام کا حصّہ پہلے نکالا اور خُود پر خرچ بعد میں کیا۔ اِدھر خبر ہوئی کہ کوئی اللہ کا بندہ قرض دام تلے دبا ہائے ہائے کرتاہے، اُدھر بلیغ گھرانے کا کوئی فرد پہنچا اور بےچارے کراہتے شخص کو اس بوجھ تلے سے کھینچ تان کر نکالا اور سُکھ کا سانس دِلوایا۔
گزرے رمضان کا قصّہ سُن لیجے۔ بہاول پور میں ’’اخوت‘‘ کے زیرِ اہتمام افطار کی ایک محفل تھی۔ ہمارے ذمّے سدا کی طرح نظامت آئی۔ صدارت بلیغ صاحب کی تھی۔ مُرشدی ڈاکٹر امجد ثاقب اُن کے ساتھ محوِ کلام تھے۔ (وہی اپنے فرشتہ صفت ڈاکٹر امجد ثاقب کہ جن کے دَم قدم سے لاکھوں گھرانے غُربت سے نکل کر عزت کی دال، روٹی کھاتے ہیں)۔ ہم نے بلیغ صاحب کو اسٹیج پر دعوت دی تو یونہی رواروی میں اُن سے سند حاصل کرنے والی تقریب کا تذکرہ کردیا۔
تحیّرآمیز خوشی اس بات پر ہوئی کہ اُنہیں نہ صرف ہم یاد تھے بلکہ ہمارا ایک آدھ شعر بھی۔ اُنہی کے حُکم پر اشعار بھی پیش کیے، ورنہ من آنم کہ من دانم۔ تقریب کے بعد ہم اپنے برادرِعزیز تنصیر بھائی کے ساتھ خوش گپیوں میں محو تھے۔ بہاول پور ہی کے ہیں۔ یاروں کے یار ہیں اور اس شہر کے اندرون، بیرون اور لمبان، چوڑان کی کہانیوں سے واقف۔ ہم نے بلیغ صاحب کی بابت پوچھا تو کِھل اُٹھے۔ خُوب تعریف کی۔ اُنہی نےہمیں محمّد انور قذافی سے متعارف کروایا، جو گورنر موصوف کے دیرینہ احباب میں سے ایک ہیں۔
قذافی صاحب کی زبانی یہ قصّہ سُنیے۔ ’’بلیغ بھائی سے تعلق بہت پُرانا بھی ہے، کئی جہت کا بھی۔ ذاتی تعلق بھی ہے اور کاروبار بھی ساتھ کرتے ہیں۔ اسلام آبادمیں ایک روز ملاقات ہوئی۔ وہیں رہائش پذیر تھے۔ مزے کا واقعہ یہ ہے کہ کاروباری حوالے سےایک سلسلہ بنا تو بلیغ بھائی بولے کہ ذاتی تعلق اپنی جگہ، مگر اس کی لکھت پڑھت ضرور کرلیجیے۔ اور یقین کیجے اس کے بعد وہ مکمل دیانت داری اور اصول پسندی کے ساتھ لکھے ہوئے پر قائم رہے۔
یہ بات اُن کی وضع داری کا پتا دیتی ہے۔ معاہدے میں لکھا گیا کہ اگر کوئی فریق الگ ہونا چاہے تو دو ماہ پہلے مطلع کرے گا، وہ بھی تحریری طورپر۔ اور برسوں بعد جب خوش اسلوبی سے الگ ہونا چاہا تو بلیغ بھائی نے یہی کیا۔ حالاں کہ مَیں نے گزارش بھی کی کہ ذاتی تعلق ہے، گھر کی بات ہے لیکن اُنہوں نے بکمالِ متانت فرمایا کہ جب لکھا ہے، تو لکھے ہوئے پر چلتے ہیں۔‘‘ میاں شاہد اقبال ہمارے آج کے موضوعِ سخن یعنی محمّد بلیغ الرحمان کے گہرے دوست بھی ہیں اور پرسنل اسٹاف آفیسر بھی رہے۔
اب اُن کی زبانی کچھ قصّے سُنیے۔ ’’کاروبار اور ذاتی حوالے سے ہمارا تعلق بہت پرانا ہے۔ میرے والد زراعت سے منسلک تھے، جب کہ بلیغ بھائی کے والد کے مختلف کاروباروں میں ایک کاٹن فیکٹری بھی تھی، سو اکثر معاملات پر مشاورت چلتی رہتی تھی۔ ایک بار اُن کےوالد ہمارے گھر تشریف لائے۔ میرے والد سے بھی ملے اور مجھ سے بھی۔ مجھے دیکھ کر میرے والد سے پوچھا کہ صاحب زادے کیا کرتے ہیں؟ تو اُنہیں بتایا گیا کہ فی الحال پڑھائی مکمل کرکے کسی کام کی تلاش ہے۔ وہ بولے کہ صاحب زادے سے کہیے کہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔
والد صاحب نے اُنہیں بتایا کہ مل کر کام کرنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن آپ کے اور ہمارے معاشی اسٹیٹس میں بہت فرق ہے، جو آڑے آسکتا ہے۔ کئی باراس تفاوت کی وجہ سے تعلق نہیں چل پاتا۔ وہ بولے کہ آپ ایک بار کرکے دیکھیں۔ کوئی مسئلہ آیا تو حل نکال لیں گے۔ پھر وہ کاروبار کئی سال چلا اور خوبی یہ رہی کہ سرمایہ کاری میں فرق کے باوجود بلیغ بھائی کے والد اور خود بلیغ بھائی نے کبھی عہد کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ جتنے بھی انتظامی امور تھے، وہ ہمیشہ میرے ہی ہاتھ میں رہے۔
میری بات کو ہمیشہ بہت قدرافزائی اور اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔‘‘ محبت کا یہ سلسلہ اس قدر مضبوط ہوا کہ جب محمّد بلیغ الرحمان گورنر پنجاب بنے تو میاں شاہد اقبال چیف آف اسٹاف کے طور پر اُن کے ساتھ تھے۔ اُس دوران بلیغ صاحب منسٹربھی بن گئے۔ کسی کاروباری معاملےمیں میاں شاہد اقبال نےاُن سےگزارش کی کہ فلاں منسٹر کو پلیز فون کردیجیے، کاروبار کا فلاں مسئلہ حل ہوجائے گا۔
اس بات پر بلیغ صاحب نے سختی سے منع کردیا اور کہا کہ ایسی بات آئندہ اُن سے نہ کی جائے، کیوں کہ وہ کاروبار اورسرکاری پوزیشن کو بالکل الگ رکھنے کے قائل ہیں۔ بعد میں وہی کام درست طریقے سے اپنے میرٹ اور مقررہ وقت پر ہُوا۔ شاہد کہتے ہیں کہ ’’سچی بات ہے کہ تب بُرا بھی لگا، دوستوں نے طعنے بھی دیے۔ لیکن حق کی بات یہ بھی ہے کہ ہم بلیغ صاحب کی ایمان داری اور دیانت کے مزید قائل ہوگئے۔‘‘
عملی سیاست میں محمد بلیغ الرحمان کا باقاعدہ ورود سن 2008ء کے عام انتخابات کے موقعے پر ہوا۔ اُن کی پہلی انتخابی کام یابی محض کام یابی نہ تھی بلکہ عوامی اعتماد کا وہ چراغ تھا، جس کی لَو وقت گزرنے کےساتھ مزید فروزاں ہوتی گئی۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے دوبارہ منتخب ہونا اسی عوامی اعتماد کی تجدید تھی۔ جون 2013 ء میں اُنہیں وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت میں وزیرِمملکت مقرر کیا گیا۔ یہ ذمّے داری ان کے مزاج اور علمی پس منظر سے ایسی مناسبت رکھتی تھی کہ گویا درست ہاتھ میں درست امانت پہنچ گئی ہو۔ابھی چند ہی ماہ گزرے تھےکہ نومبر 2013 ء میں وزارتِ داخلہ اور انسدادِ منشیات کا اضافی قلم دان بھی اُن کے سپرد کر دیا گیا۔
یوں ایک ہی وقت میں تعلیم اور داخلی نظم ونسق جیسے اہم شعبوں کی ذمّے داریاں ان کے پُراعتماد اور مضبوط کندھوں پر آئیں اور اُنہوں نے خاموش طبعی اور سنجیدہ مزاج کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے۔ خود ستائی کا کوئی دعویٰ ہم نے تو اُن کی زبان سے آج تک نہیں سُنا۔ یہ جُدا بات کہ زمانہ اُن کی متانت کا بھی قائل ہے، دیانت کا بھی۔ قدرت نے بھی انہیں اکثر ایسے مناصب عطا کیے، جن میں شور سے زیادہ شعور اور آواز سے زیادہ وقار درکار ہوتا ہے۔
پھر وہ دن بھی آیا، جب تیس مئی 2022 ء کو صدرِ پاکستان، ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرِاعظم میاں شہباز شریف کے مشورے پر انہیں صوبۂ پنجاب کا گورنر مقرر فرمایا۔ اُسی روز انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ یوں سیاست کا ایک اور باب بند ہوا اور آئینی ذمّے داریوں کا ایک نیا دفتر کُھل گیا۔
اہلِ نظر جانتے ہیں کہ گورنری محض ایک منصب نہیں بلکہ دستور اور ریاستی وقار کی ایک علامت ہے۔ اسی منصب کے ساتھ ایک اور عظیم ذمّےداری بھی خود بخود اُن کے حصّے میں آئی، اور وہ تھی پنجاب کی تمام سرکاری جامعات کی چانسلری۔ گویا درس گاہوں کی علمی شمعیں بھی اب اُسی دستِ نگرانی کے سپرد ہوئیں، جس نے اپنی عملی زندگی کا ایک معتبر حصّہ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ میں صرف کیا تھا۔ یہ محض اتفاق نہ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے زمانے نے امانت اُسی امین کے ہاتھ میں رکھی ہو، جس کا سابقہ سفرعلم کی راہوں سے ہو کر گزرا تھا۔
سیاست میں محبّت، مروت، دیانت اور متانت کے جس چلن کو محمّد بلیغ الرحمان نے فروغ دیا ہے، وہ سدا چمکتا دمکتا رہے گا۔ شب و روز کا اُتار چڑھاؤ، سحَر و شام کی گردش اور لمحات کی اُٹھک بیٹھک اپنی جگہ، لیکن گورنر ہاؤس پنجاب کے مالی اور تمام گُل پُھول ہمیشہ اس بات کو یاد رکھیں گے کہ ایک گورنر صاحب ایسے بھی آئے تھے، جو ہرروز اُن کے ساتھ گُھل مِل جاتے تھے، اُن لوگوں کے مسائل بھی حل کرتے تھے کہ جن کے مسائل سُن کر ایک آنکھ ساون اور ایک بھادوں بن جاتی ہے۔ اور اُس شخصیت کا نام تھا، محمّد بلیغ الرحمان۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)