• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی نئی راہیں

امریکا اور ایران کے مابین گزشتہ دنوں سوئٹزر لینڈ میں براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا، جس کے لیے پاکستان اور قطر نے ثالثی کی۔ یوں جنگ کے104 روز بعد دنیا نے سُکھ کا سانس لیا۔ آبنائے ہرمز کُھل گئی اور امریکا کی جانب سے ایران کا محاصرہ بھی ختم کردیا گیا۔ فریقین نے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے60 روز کا وقت رکھا ہے۔

مذاکرات کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں تقریباً30 ڈالر تک نیچے آگئیں، جو پوری دنیا کے لیے ایک بڑا ریلیف تھا، خاص طور پر پاکستان جیسے کم زور معیشت کے حامل ممالک کے لیے ایک بڑی خُوش خبری تھی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ضمن میں جو اہم کردار ادا کیا، اُس کی پوری دنیا میں دھوم ہے۔

یہ بہت مشکل سفارت کاری تھی، خاص طور پر ایسے دو دشمنوں کے درمیان، جو ایک دوسرے کی تباہی کے خواہاں ہی نہیں، سرِعام ایک دوسرے کو مِٹانے کی دھمکیاں دیتے ہوں۔ امریکا کے صدر اور نائب صدر نے عاصم منیر کی اَن تھک کوششوں کی بار بار تعریف کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے، جنہوں نے امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کی، کہا کہ عاصم منیر کی زبردست سفارت کاری ہی کی وجہ سے یہ مذاکرات ممکن ہوئے۔

یقیناً اِس سے پاکستان کا عالمی امیج بہت بلند ہوا اور سفارتی دنیا میں بڑا نام بن کے ابھرا۔ سیز فائر تو پہلے ہی پاکستان کی کوششوں سے عمل میں آچکا تھا، لیکن مسلسل ہچکولے ہی کھا رہا تھا۔ آبنائے ہرمز کبھی کُھل جاتی، تو کبھی بند ہوجاتی، جس سے آئل مارکیٹ بے یقینی کا شکار رہی۔ تاہم، سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے آغاز سے اُمید بندھی کہ اب جنگ بندی پائے دار ہوگی۔

پہلے مرحلے میں امریکا اور ایران کے درمیان80 منٹ مذاکرات ہوئے، جس کے بعد ثالثوں یعنی پاکستان اور قطر نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں ایک روڈ میپ سمیت کمیٹیز کا اعلان کیا گیا۔ امریکا اور ایران کی طرف سے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا، البتہ مذاکرات کاروں نے میڈیا کو اپنے اپنے موقف سے ضرور آگاہ کیا۔ ایران کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سب سے مثبت پیش رفت سامنے آئی، وہ تیل کی برآمدات پر عاید پابندیاں تھیں، جو دو ماہ کے لیے اٹھالی گئیں۔

یعنی ایران21 اگست تک اپنا تیل فروخت کرسکتا ہے۔ ویسے صدر ٹرمپ کی طرف سے پہلی بار ایسا نہیں ہوا۔ اُنھوں نے دو ماہ کے لیے روسی تیل سے بھی پابندیاں اُٹھالی تھیں، جب کہ اُس کی یوکرین سے جنگ جاری تھی۔ اِسی طرح چین کو ایران سے تیل خریدنے کی اجازت دی گئی، حالاں کہ یہ دونوں شیڈو فلیٹس یعنی خفیہ بحرے بیڑے استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے یہ عارضی اقدامات اِس لیے کیے گئے تاکہ تیل کی قیمتیں اُس سطح تک نہ پہنچ پائیں، جو دنیا کے لیے ناقابلِ برداشت ہو۔

اِس پالیسی نے اپنا کام دِکھایا اور جنگ کے دوران تیل کی قیمتیں ایک سو ڈالرز کے اردگرد گھومتی رہیں۔ اب تیل کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں اور اگر یہ60 ڈالر سے نیچے آگئیں، تو یہ ایران سمیت تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ مذاکرات میں ایران کے طرف سے دو مطالبات سامنے آئے۔اوّل، لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی، دوم، منجمد اثاثوں میں سے کچھ کی واپسی۔

جب کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ پُھوٹی کوڑی بھی نہیں دیں گے، اِسی لیے اُنہوں تیل کی بندش دو ماہ کے لیے ختم کردی، یعنی کمائو اور کھائو۔ درحقیقت، ایران کی سب سے بڑی کم زوری اُس کی کم زور معیشت ہے، جس پر عوامی طور پر بہت کم بات ہوتی ہے، لیکن تمام اہم ممالک اِس سے اچھی طرح واقف ہیں۔ عالمی پابندیوں نے اُسے تباہ کر دیا، پھر جنگ میں میں بھی تباہ کُن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔؎

انفرا اسٹرکچر، انڈسٹریل نظام، فوجی قوّت اور سب سے بڑھ کر اعلیٰ قیادت کا خاتمہ۔ ماہرین کے مطابق یہ نقصانات دنوں نہیں، برسوں میں پورے ہوں گے۔ انٹرنیٹ پر بندش اور شدید اندرونی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے اصل حالات سامنے نہیں آرہے۔ ایران کی شاہ کے زمانے سے خواہش رہی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے پولیس مین کا کردار ادا کرے، جس کی عرب ممالک شدید مخالفت کرتے ہیں۔

فلسطین پر چار عرب، اسرائیل جنگیں ہوئیں اور کسی میں بھی ایران کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اِسی طرح کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں، جس میں فلسطین کی آزادی کے سب سے بڑے لیڈر یاسر عرفات کی کوششوں سے فلسطینی اتھارٹی قائم ہوئی، ایران کہیں نظر نہیں آیا۔ ایران نے انقلاب کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے ایک جارحانہ خارجہ حکمتِ عملی اپنائی، جسے پاسدارانِ انقلاب کے چیف، جنرل سلیمانی، خامنہ ای کے براہِ راست احکامات کے تحت چلاتے رہے۔

اِسی حکمتِ عملی کے تحت ایران نے مختلف خطّوں میں اپنی مسلّح پراکسیز قائم کیں، جیسے حزب اللہ، حوثی باغی اور عراق کی ملیشیاز۔ حزب اللہ نے لبنان میں حکومت اور سرکاری فوج کو غیر مؤثر بنائے رکھا۔ لبنانی صدر اور وزیرِ اعظم، حسن نصر اللہ کے سامنے بے بس رہے۔

لبنان، اسرائیل سے جنگ نہیں چاہتا، لیکن حزب اللہ، ایران کی پراکسی کے طور پر اُس سے مسلسل قوّت آزمائی کرتی رہتی ہے، جس سے اسرائیل کو لبنان میں دخل اندازی کا موقع ملتا ہے۔ اب اسرائیل وہاں سے جانے کو تیار نہیں کہ حزب اللہ بہت کم زور ہوچُکی ہے۔

پھر شامی خانہ جنگی میں ایران، حزب اللہ اور دوسری ملیشیاز نے بشار الاسد کا ساتھ دیا۔ ایران، امریکی اڈّوں پر اعتراض کر کے عرب ممالک پر میزائل داغتا رہا، لیکن شام میں اس کے فوجی اڈّے موجود تھے اور اس نے بشار الاسد کو فتح دِلوانے کے لیے کُھل کر فوجی کارروائیاں کیں۔

شام میں پانچ لاکھ بے گناہ شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے۔ بشار الاسد کو، جو بدترین ڈکٹیٹر تھا، ایران اور روس نے مل کر مضبوط کیا، دو سال پہلے بازی پلٹ گئی اور شام میں نئی حکومت آگئی۔ ایران اور روس کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا، بشار اب روس میں پناہ گزیں ہے۔

ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی حکمتِ عملی کی بنیاد ایک طرف پراکسی ملیشیاز، تو دوسری طرف امریکا اور اسرائیل سے نفرت پر رکھی، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلم دنیا میں فلسطین کاز کی ایک خاص جذباتی اہمیت ہے، حالاں کہ ایران کا فلسطین سے دُور دُور کا واسطہ نہیں کہ یہ ایک عرب مسئلہ ہے۔ اب عرب ایک طرف ہوگئے ہیں، جب کہ ایران، فلسطین بلکہ غزہ کا علم بردار بنا ہوا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں جو بربریت دِکھائی، اُس نے مسلمانوں ہی نہیں، پوری دنیا کو اسرائیل کے خلاف کیا، تاہم اِسی دوران اسرائیل اور امریکا نے کچھ ایسے اہم فوجی اقدامات کیے، جنہوں نے ایران کو براہِ راست جنگ میں آنے پر مجبور کردیا۔ اس کی پراکسی ملیشیاز کی قیادت کا خاتمہ اور اُنہیں فوجی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا۔

اب یمن، غزہ، شام، لیبیا اور عراق سے پسپائی کے بعد ایران کے لیے لازم ہوگیا کہ وہ حزب اللہ کو ہر صُورت قائم رکھے، ورنہ اس کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں کوئی کردار ادا کرنا مشکل ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے فوراً بعد ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی بات چیت کا اصل امتحان ہے۔ حالاں کہ دیکھا جائے، تو ایران جنگ سے لبنان کا کیا لینا دینا۔

ایران کا ہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا، لیکن دنیا کو اس پر بھروسا نہیں ہے۔ اِس معاملے میں امریکا ہی نہیں، چین، روس، یورپ، برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں، یعنی دنیا کی طاقت وَر حکومتوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر اعتراض ہے۔ اِسی لیے ایران کے ایٹمی پروگرام پر یورپ اور امریکا کے ساتھ، سلامتی کاؤنسل نے بھی اقتصادی پابندیاں عاید کر دیں۔

یہ بیس سال پہلے کی بات ہے اور اُس وقت سے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ہے، نہ مال بیچنے اور عالمی معاہدے کرنے کی۔ دوسرے الفاظ میں، وہ دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ اس کا زیادہ تر تیل اور مال اسمگلنگ کے ذریعے اِدھر اُدھر جاتا ہے۔ظاہر ہے، ایران کی ترقّی کو اِس سے شدید نقصان پہنچا۔ دنیا سے ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی ممکن نہیں رہی۔ اقتصادی پابندیوں نے معیشت کی کمر توڑ دی۔

حسن روحانی کے دَور میں ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ پہلی نیوکلیئر ڈیل کی، جس کا مقصد ایران کو دنیا میں واپس لانے کی کوشش تھی۔ اِس مقصد کے لیے ایران نے امریکا، چین، روس برطانیہ، فرانس اور یورپ سے مذاکرات کیے۔ اِس معاہدے پر تہران میں رات بَھر جشن منایا گیا۔ چالیس ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے ایران کو واپس ملے اور دنیا سے رابطے کے امکانات پیدا ہوئے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دَور میں امریکا کو اِس نیوکلیئر ڈیل سے نکال لیا، یوں یہ معاہدہ عملاً ختم ہوگیا۔ اُنہوں نے اسے انتہائی ناقص ڈیل قرار دیا۔

عالمی ایٹمی ایجینسی کے انسپکٹرز کے مطابق، ایران نے یورینیم افزودگی بڑھادی اور اُن کے مطابق، شاید وہ بہت جلد بم گریڈ تک پہنچ جاتا کہ امریکا اور اسرائیل نے اُس سے جنگ شروع کردی۔ امریکا، یورپ اور باقی دنیا کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام ختم کردے۔ حالیہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے تو اِس پر کوئی باقاعدہ ردّ ِعمل نہیں آیا، البتہ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایٹمی انسپکٹرز ایران میں فوری کاررروائی شروع کریں گے، جسے ایران نے مسترد کردیا۔

امریکا اور یورپ، ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں، اِس ضمن میں اُنھوں نے اس کی تمام پراکسیز اور پاسدارانِ انقلاب پر بھی پابندیاں عاید کی ہیں۔ ویسے جنگ میں اعلیٰ ایرانی قیادت کے خاتمے کے بعد پاسدارانِ انقلاب ایران میں طاقت کا منبع بن چُکی ہے اور اس کی حیثیت ریاست میں ریاست کی سی ہے۔ اِس تنظیم کا ایرانی معیشت میں بھی غیر معمولی حصّہ ہے۔

دوسری جانب، اس کی ذیلی بسیج فورس اندرونِ مُلک انقلاب کے خلاف کسی بھی اقدام پر سخت کاروائی کرتی ہے۔ اِس نے چھے ماہ قبل منہگائی کے خلاف ہونے والا احتجاج سختی سے کچل دیا، جس میں سیکڑوں افراد مارے گئے۔ جنگ کے دوران ایرانی صدر نے کچھ معتدل بیانات کے ذریعے عرب پڑوسیوں کو نرم رکھنے کی کوشش تھی، جنہیں پاسداران نے مسترد کردیا۔

ایران نے امریکی اڈّوں کی موجودگی کے نام پر عرب ممالک پر جو میزائل اور ڈرون حملے کیے، اُس میں بھی پاسداران کا بڑا ہاتھ تھا، جب کہ اُسی نے آبنائے ہرمز کو اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے جیسا انتہائی قدم اُٹھایا۔ عرب ممالک کو داد دینی چاہیے کہ اُنھوں نے ایران کے میزائل حملوں کا پتھر سے بھی جواب نہیں دیا۔ ایران کا یہ کہنا کہ امریکی اڈّوں کی موجودگی کے سبب حملے کیے، کوئی ٹھوس معنی نہیں رکھتا۔ بین الاقوامی قانون، علاقائی دوستی اور مسلم اُمّہ کا فلسفہ اِس اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ سوال اہم ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے مذاکرات میں پاسداران کا کیا کردار ہوگا، کیوں کہ جنگ بعد اُن کی طاقت فیصلہ کُن نظر آتی ہے۔ وہی آبنائے ہرمز بند کرتے، کھولتے ہیں اور وہی عرب ممالک پر میزائل پھینکتے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا، اِس تنظیم کی باگ ڈور انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہوگی یا معتدل سیاست دانوں کے ہاتھ میں، جو معیشت کو اوّلیت دیتے ہیں۔ دنیا بَھر کی طرح ایران کا مسئلہ فوجی نہیں، معاشی ہے۔ نو کروڑ افراد کے مُلک میں، جو زیادہ تر پہاڑوں پر مشتمل ہے، عوام کو کس طرح خوش حال بنانا اور اُنہیں ساتھ لے کر چلنا ہے، قیادت کا اصل امتحان یہی ہے۔

نیز، ایران اور عرب ممالک کے تعلقات میں جو دراڑ آئی ہے، اُسے کیسے بھرا جائے گا، یہ بھی اہم ہے۔ واضح رہے، کچھ عرصہ قبل ہی چینی صدر نے ایران اور سعودی عرب میں سفارتی تعلقات قائم کروائے تھے۔ پھر یہ بھی کہ اگر امریکا خطّے سے چلا جاتا ہے، تو یہاں ملٹری پاور کون ہوگا۔ یہیں اسرائیل موجود ہے، جس کی پُشت پر امریکا، یورپ، روس اور چین بھی ہیں۔ اِن میں سے کئی ممالک آزاد فلسطینی ریاست کے تو حامی ہیں، لیکن اسرائیل کے خاتمے پر کوئی بھی راضی نہیں۔

ٹرمپ اور وینس کی جانب سے پاکستان اور عربوں کی تعریفیں اپنی جگہ، لیکن ان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ یہ سب مسلم ممالک’’معاہدۂ براہیمی‘‘ میں شامل ہوجائیں۔ اب مسلم رہنما اِس معاملے کا کیا حل نکالتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ عرب دنیا میں پاکستان کے65 لاکھ سے زیادہ شہری روزگار کے لیے مقیم ہیں، جن کے بھیجے گئے زرِ مبادلہ سے لاکھوں چولھوں کے ساتھ مُلک بھی چلتا ہے کہ وہ سالانہ تقریباً چالیس بلین ڈالرز بھیجتے ہیں۔

بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، جنگ کے دوران 150000 افراد سعودی عرب اور50000 دبئی ملازمت کے لیے گئے۔ ایک فرد بھی ایران یا مشرقِ وسطیٰ کے کسی دوسرے مُلک نہیں گیا۔ اِسی طرح تیل پیدا نہ کرنے والے عرب ممالک بھی اِن خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔ بھارت کے بھی 80لاکھ سے زاید شہری عرب ممالک میں ہیں۔ سوال یہ ہے، اِس پس منظر میں امریکا، ایران یا کوئی اور مُلک کوئی ایسی پالیسی نافذ کرسکتا ہے، جس میں ان تمام ممالک کے مفادات کو شدید ضرب لگے؟

امریکا سُپر پاور ہے، جب کہ ٹرمپ خُود کو’’مین آف دی پیس‘‘ بھی کہلوانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کام یاب ثالثی کر رہا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی ایسی پالیسی کام یاب نہیں ہوسکتی، جس میں ایک طاقت اپنی فوجی برتری پر وہاں کے ممالک کو ڈکٹیشن دے۔ اگر ایسا کرنے کے کوشش کی گئی، تو اس کا مسلم دنیا کو بہت نقصان ہوگا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کا استعمال سراسر غلط ہے، تاہم ایران کو بھی لچک دِکھانی چاہیے اور اپنی سابقہ جارحانہ خارجہ پالیسی پر،جو وہ ملیشیاز کے ذریعے چلاتا رہا، نظرِ ثانی کرنی ہوگی، وگرنہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسی صف بندیاں سامنے آئیں گی، جو شاید مسلم دنیا کے لیے بہت تکلیف دہ ہوں۔

ویسے بھی ایران جنگ نے فلسطین اور غزہ کا معاملہ ایک بار پھر پیچھے دھکیل دیا۔ روڈ میپ تو شام میں بھی پانچ لاکھ شہریوں کی ہلاکت کے بعد بنا تھا، جس میں جمہوریت، الیکشن سب کچھ تھا اور اقوامِ متحدہ اس کی ضامن تھی، لیکن بشار الاسد نے ایران اور روس کی فوجی طاقت کے بل بُوتے پر اُسے مسترد کرکے عارضی فتح حاصل کر لی۔ اصل بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے دل ایک ہوں، ہم آہنگی ہو اور طاقت کی بجائے ایک دوسرے کے احترام پر مبنی تعلقات ہوں۔

سنڈے میگزین سے مزید