لاہور (رپورٹ: عیشہ آصف) ماہرین نے کہا ہے کہ خواتین کو کاروبار، مالی وسائل، محفوظ سفر اور کام کی جگہ پر تحفظ جیسے مسائل کا سامنا ہے، بجٹ میں کیے گئے وعدوں کے مطابق عملی نتائج ابھی تک حاصل نہیں ہو سکے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ خواتین کی تعلیم میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن روزگار کے مواقع اس رفتار سے نہیں بڑھ رہے، مثبت پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے 2025میں پہلی قومی خواتین کاروباری پالیسی متعارف کرائی، جس کا مقصد خواتین کاروباریوں کی تعداد، برآمدات اور مالی معاونت میں اضافہ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار میر خلیل الرحمان میموریل سوسائٹی (جنگ گروپ آف نیوز پیپرز) اور خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے زیر اہتمام لارلز ایوارڈ کی تقریب میں مقررین نے کیا۔ مہمان خصوصی شائستہ پرویز ملک تھیں۔ حرف آغاز صدر فلاحت عمران نے کیا ۔مہمانان گرامی میں سینئر نائب صدر فائزہ نبیل، نائب صدر ڈاکٹر راحیلہ اختر،قیصرہ شیخ، پروفیسر میرا فیلبس شامل تھے۔جبکہ میزبانی کے فرائض واصف ناگی چئیرمین میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی نے سر انجام دیے۔ شائستہ پرویز ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2025-26 کے عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں 291 ارب روپے (6.9 فیصد) کو صنفی منصوبوں کے لیے مختص کیا، تاہم بجٹ میں کیے گئے وعدوں کے مطابق عملی نتائج ابھی تک حاصل نہیں ہو سکے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق خواتین کی لیبر فورس میں شرکت صرف 16.3 فیصد ہے، جبکہ مردوں کی 49.2فیصد۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ خواتین کی تعلیم میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن روزگار کے مواقع اس رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔