کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ نے صوبے بھر کی پرائمری ہیلتھ کیئر ڈسپنسریوں، ان میں موجود ادویات، طبی آلات، فرنیچر، طبی و غیر طبی سامان اور دیگر سرکاری انوینٹری یکم جولائی سے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے تمام ضلعی ہیلتھ افسران (ڈی ایچ او) کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ڈسپنسریوں کا مکمل اسٹاک تیار کرکے مشترکہ ہینڈنگ اور ٹیکنگ اوور رپورٹ کے ذریعے پی پی ایچ آئی کے حوالے کیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد محکمہ صحت سندھ کے افسران و عملے میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ افسرانکا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں تعینات سیکڑوں سرکاری ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر عملے کی انتظامی حیثیت، ذمہ داریوں اور مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق اب سرکاری ڈاکٹرز کو ضلعی ہیلتھ افسران کے بجائے پی پی ایچ آئی کے انتظامی افسران کو رپورٹ کرنا پڑے گا، جس پر ڈاکٹر برادری میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت سندھ ہر سال ادویات کی خریداری کے لیے باقاعدہ ٹینڈر جاری کرتا ہے، کم ترین نرخوں پر منتخب ادویات کی فہرست مرتب کی جاتی ہے اور تمام سرکاری اسپتالوں اور صحت مراکز کو اسی منظور شدہ فہرست سے ادویات خریدنے کا پابند بنایا جاتا ہے تاکہ شفافیت، معیار اور سرکاری وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جبکہ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی ایچ آئی اپنی الگ ٹینڈرنگ اور خریداری پالیسی پر عمل کرتی ہے، جس کے باعث ادویات کی خریداری، قیمتوں اور مالی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ حکومت سندھ نے کچھ عرصہ قبل ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر تشکیل دیا تھا۔