تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈلز: علیشاہ جعفری، موسیٰ خان
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، Dulha's & beges
آرائش: رضوان نور
عکّاسی و اہتمام : عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
انسان کبھی تنہا نہیں رہ سکتا کہ فطرتاً ذہنی و جسمانی، جذباتی و نفسیاتی اور فکری و روحانی ساتھ پرمبنی ایک جوڑے کا رشتہ، جسے سمجھنا اور نبھانا بھی ایک ہُنرہے، ہرذی نفس کے لیےلازم و ملزوم ٹھہرا،مگر ایک دوسرے کی خاموشی کو بھی پڑھ لینے والے اس انوکھے رشتے کی آب یاری سخت آزمائش مانگتی ہے، گویا دل بھی خونِ جگر کی قیمت پردان ہوتا ہے۔ یہ ایسا سفر ہے، جس میں ہرموڑ پر ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے، اور ہر کہانی میں ایک دوسرے کو نئے زاویے سے پہچاننے کا عمل جاری رہتا ہے۔
ہم سب ہی ماضی کی یادوں، بچپن کے تجربات اورخاندانی اقدارکا مجموعہ ہیں۔ دو رُوحوں کا ملاپ بھی دو الگ اجسام کے بیچ ہوتا ہے، تو واضح اختلافات کا سامنا اس رشتے کا ایک ناگزیر حصّہ ہے۔ اگر ایک ساتھی فطری طور پر جذباتی، جب کہ دوسرا منطقی ہو، تو تصادم سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کے’’مزاج‘‘ کو اپنی ذات پرحملے کی بجائے مختلف زاویۂ نگاہ مانا جائے۔ اِسی طرح کوئی اگراپنے الفاظ سے محبّت کا اظہار کرتا ہے، تو کوئی خدمات کو اظہار کا ذریعہ مانتا ہے۔ اصل ہنر ساتھی کی ’’محبّت کی زبان‘‘ کی پہچان ہے۔
مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں۔ اُس کو محسوس کرنا، اُس کی حفاظت و محبّت وعزت کرنا ہے۔ اوریہ رویہ، حُسنِ سلوک عورت کو کڑے سے کڑے حالات میں بھی جینے کا حوصلہ دے دیتا ہے۔ جب کہ عورت کا کام مرد کوسمجھنے کے ساتھ ساتھ اُس کی محنت و جدوجہد سراہنا، تھکن محسوس کرنا، اُس کی ہمّت بڑھانا ہے اور اگر مرد کوعورت کی طرف سے یہ تقویت حاصل ہو جائے تو وہ سخت سے سخت رستے، دشوار گزار ترین مسافتیں بھی ہنس کھیل کے طے کر جاتا ہے۔
یاد رہے، ’’باہمی احترام‘‘، محبّت کا پہلا زینہ ہے۔ اور جب دو لوگ اِس پہلے زینے پر، ایک دوسرے کواسپیس دینے کے جذبے اور عہد کے ساتھ قدم دھرتے ہیں، تو پھر دھیرے دھیرے گزرتا وقت، بِنا قدموں کی چاپ پیدا کیے، دونوں نفوس کے دل محبّت و احساس کی ریشمی ڈوریوں سے یوںکس کےباندھ دیتا ہے کہ کبھی جو پلٹ کر دیکھیں، تو حیراں رہ جائیں کہ یہ ہم کہاں سے کہاں آگئے۔
بلاشبہ، گر ایسی ہم سفری ہو، تو بخوبی سمجھ آتا ہے کہ کبھی کبھی راستے، منزل سے بہتر کیوں لگنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ زندگی کے اس مختصر سفر میں کبھی فاصلے مقدر بن جائیں یا کسی موڑ پر بچھڑنے کا امکاں بھی ہو جائے تو اِسے اختتام کی بجائے محض ایک وقفہ مان کر وقت اور کائنات کی حدود سے ماورا عہدو پیمان میں بندھ جاتے ہیں۔
بقول تہذیب حافی ؎ ’’ہم ملیں گے کہیں…ملیں گے شاہ سلیمان کےعرس میں…حوض کی سیڑھیوں پر…وضو کرنے والوں کے شفّاف چہروں کےآگے…سنگِ مرمر سے آراستہ فرش پر پیر رکھتےہوئے…آہ بھرتے ہوئے اور…درختوں کومنّت کے دھاگوں سے آزاد کرتے ہوئے…ہم ملیں گے، زمیں سے نمودا ہوتے ہوئے…آٹھویں برِاعظم میں اُڑتے ہوئےقالین پر…ہم ملیں گے کہیں…باغ میں، گاؤں میں، دھوپ میں، چھاؤں میں…ریت میں، دشت میں، شہر میں…مسجدوں میں، کلیسوں میں، مندرمیں… محراب میں، چرچ میں…موسلادھاربارش میں،بازارمیں… خواب میں، آگ میں…گہرے پانی میں، گلیوں میں، جنگل میں …اور آسمانوں میں…کون ومکاں سے پرے… غیر آباد سیارۂ آرزو میں… صدیوں سے خالی پڑی بینچ پر…جہاں موت بھی ہم سے دست و گریبان ہوگی… تو بس ایک دو دن کی مہمان ہوگی۔‘‘
آج ہماری محفل ایک جوڑے کےانتہائی حسین و رنگین ’’جوڑوں‘‘ سے سجی ہے کہ ساون بھادوں، برکھا رُت کی ست رنگی قوسِ قزح سے میل کھاتے یہ رنگارنگ پہناوے کسی کی بھی دل کی کلی کِھلا کر اُسے لال سُرخ چہکتا مہکتا گلاب کرسکتے ہیں ۔ ذرا دیکھیے تو، فی میل ماڈل کے آنکھوں کو خیرہ کردینے والے گہرے نارنجی رنگ پہناوے کی قمیص پر سفید رنگ کڑھت کیا غضب ڈھا رہی ہے۔ ایک طرف، دل کش مشین ایمبرائڈری ،کاری گری کا منہ بولتا ثبوت ہے، تو آستینوں پر موجود سفید لیس اور کڑھت کا امتزاج بھی کمال ہے، جب کہ ساتھ میل ماڈل کا گہرے نیلےرنگ کی قمیص شلوار کا انتخاب بھی بہترین ہے، جو شخصیت ہی نہیں، موقع محل سے بھی خوب لگّا کھا رہا ہے۔
سافٹ پنک رنگ کا لباس انتہائی دل کش اور بہت ہی فیمینن ہے کہ لباس کی کٹنگ اور ڈیزائن میں جو نفاست ہے، وہ اُسے ’’آئی کیچنگ‘‘ اور ہر محفل میں نمایاں ہونے والا لباس بنارہی ہے، جب کہ میل ماڈل کا گہرا زرد رنگ کُرتا، پاجاما بھی دُور ہی سے اپنی طرف توجّہ مبذول کروارہا ہے، خصوصاً اُس پر پہنی گئی سنہری کڑھت سے مزیّن سفید واسکٹ کے تو کیا ہی کہنے۔ فی میل ماڈل کا آف وائٹ رنگ لباس بھی انتہائی نفیس ودل کش ہے کہ اُس کی قمیص پر موجود کڑھت اِس قدر باریک و دیدہ زیب ہے کہ اُس نے پورے لباس کا حُسن دو آتشہ کر دیا ہے، جب کہ میل ماڈل کے کُرتے کا گہرا سُرخ رنگ بھی کافی منفرد انتخاب ہے، جس کو سفید پاجامے اور سیاہ اور آف وائٹ پرنٹڈ واسکٹ سے متوازن کیا گیا ہے۔
’’جوڑے‘‘ کا اگر ایک دوسرے سے اِس حد تک اتحاد واتفاق ہوکہ ڈریسنگ تک ہم آہنگ ہوجائے تو پھر تو سمجھیں، امجد صاحب کا یہ کلام مجسّم ہی ہوگیا۔ ؎ ’’رازوں کی طرح اُترو، مِرے دل میں کسی شب…دستک پہ مرے ہاتھ کی کُھل جاؤ کسی دن…پیڑوں کی طرح حُسن کی بارش میں نہا لوں…بادل کی طرح جھوم کے گِھر آؤ کسی دن… خوشبو کی طرح گزرو، مِرے دل کی گلی سے… پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن‘‘۔