• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

4 ہزار ارب کی خطیر رقم کے بعد بھی سندھ میں 78 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر

سیتا روڈ (نامہ نگار:صداقت کاظمی) سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ 16سالوں کے دوران تعلیم کے شعبے پر 4,000ارب روپے کی خطیر رقم پانی کی طرح بہانے کے باوجود صوبے میں تعلیمی ترقی کا گراف شدید زوال کا شکار ہے۔ حکومتی دعووں کے برعکس سندھ کی شرحِ خواندگی (Literacy Rate) بڑھنے کے بجائے الٹی گنگا بہتے ہوئے مزید 0.5 فیصد کم ہو گئی ہے، جس نے تعلیمی ایمرجنسی کے کھوکھلے پن کو سرِعام بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25ء کے جاری کردہ آفیشل اعداد و شمار کے مطابق، سندھ کی موجودہ شرحِ خواندگی گر کر صرف 57.54 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ سال 2008ء میں 58 فیصد پر کھڑی تھی۔ اس کے برعکس، صوبہ پنجاب نے اسی عرصے کے دوران حیرت انگیز ترقی کرتے ہوئے اپنی شرحِ خواندگی کو 60 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، اس وقت سندھ میں 7.8 ملین (78 لاکھ) بچے اور بچیاں سرے سے تعلیم سے ہی محروم ہیں، جو کہ پاکستان کے مجموعی طور پر اسکولوں سے باہر موجود 20.3 ملین بچوں کا قریباً 38فیصد بنتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان محروم بچوں میں 56 فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے، جبکہ دادو، سانگھڑ، لاڑکانہ اور خیرپور جیسے بڑے اضلاع میں اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح صرف 33 فیصد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ صوبے میں تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کی ایک بڑی وجہ 2010ء اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب بھی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید