• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آٹا کی مبینہ غیر قانونی ترسیل، عدالت نے 5 ملزمان کو بری کردیا

اسلام آباد (رپورٹ: حنیف خالد) پشاور کی عدالت نے آٹا کی مبینہ غیر قانونی بین الصوبائی ترسیل کے مقدمے میں گرفتار 5 ملزمان عطاء الرحمٰن، سعدت حسین، اختر علی، نعمت اللّٰہ خان اور اعظم خان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔پابندی کا نوٹیفکیشن پیش نہ ہونے پر عدالت نے آٹا اور گاڑیاں بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے 10جولائی 2026ء کو جاری اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ایف آئی آر میں درج الزامات کے باوجود نہ تو بین الصوبائی آٹا کی نقل و حمل پر پابندی کا کوئی نوٹیفکیشن، سرکاری حکم نامہ یا مجاز اتھارٹی کا کوئی تحریری حکم ریکارڈ پر موجود ہے اور نہ ہی دورانِ تفتیش تفتیشی افسر ایسا کوئی دستاویز پیش کر سکا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں ملزمان کے خلاف کوئی قابلِ تعزیر جرم نہیں بنتا، لہٰذا ان کا جوڈیشل ریمانڈ مسترد کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ اگر ملزمان کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں تو انہیں فوری رہا کیا جائے، جبکہ قبضے میں لی گئی گاڑیاں اور ان پر لدا ہوا آٹا بھی آخری قانونی قابضین کے حوالے کر دیا جائے۔

ملک بھر سے سے مزید