کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر ) آج سے سات روزہ خصوصی بوسٹر ڈوز فریکشنل اِن ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے، مہم کے دوران صوبے کے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں پانچ سال سے کم عمر کے 7 لاکھ 30 ہزار 670 بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے بتایا کہ خصوصی مہم کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن اور برشور کے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں چلائی جائے گی، جہاں ماحولیات میں پولیو وائرس کی موجودگی بدستور تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 2 ہزار 700 تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر ہر پانچ سال تک کے بچوں کو ویکسین فراہم کریں گی۔ اس خصوصی مہم کا مقصد بچوں میں پولیو کے خلاف قوت مدافعت کو مزید مضبوط بنانا اور ان علاقوں میں وائرس کی منتقلی کے سلسلے کو روکنا ہے جہاں پولیو وائرس کی موجودگی رپورٹ ہو چکی ہے۔انعام الحق نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلسل اور مؤثر ویکسینیشن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ بچہ جو ویکسین سے محروم رہ جاتا ہے، وائرس کی گردش کو برقرار رکھنے کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا مہم بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے اور معمول کی پولیو ویکسین سے حاصل ہونے والی قوت مدافعت کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ اس خصوصی مہم کے دوران ویکسین سے محروم نہ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ والدین کا تعاون ہی اس مہم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہر بچے کو حفاظتی ٹیکہ لگا کر نہ صرف پولیو وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔صوبائی محکمہ صحت اور ای او سی بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ ویکسین محفوظ، مؤثر اور بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ ای او سی نے علماء کرام، قبائلی عمائدین، سماجی رہنماؤں، میڈیا و صحافیوں اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ آگاہی پھیلانے اور مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ بلوچستان کو پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔