مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
دنیا کے ہر والد کی طرح میرے والد مولانا عبدالحمید خان بھی خاندان بھر کے لیے ایک گھناسایہ دار درخت،ایثا رو قربانی، بے لوث محبّت کا استعارہ تھے۔اولاد کی مادّی ضروریات تو ہمیشہ پوری کیں، اُن کے بہترین رہنما، مددگار اور دوست کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ وہ 1923ء کو بھارت کے شہر، بھرت پور میں پیدا ہوئے۔1943ء میں مالا کھیڑا(الوراسٹیٹ) کی ممتاز شخصیت، گل محمد کی صاحب زادی، مقبول بیگم کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور 1947ء میں اپنے خاندان کے ساتھ، تقسیمِ ہند کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی مملکت پاکستان ہجرت کی اور کراچی آکر آباد ہوگئے۔
ابتدا میں کچھ عرصہ گارڈن کے علاقے میں رہے، بعدازاں گل بہار (سابقہ گولی مار) کی معروف پیتل گلی منتقل ہوگئے۔وہاں انھوں نے اپنے والد اور چار بھائیوں کے ساتھ ایک حویلی نما مکان کی بنیاد رکھی، جو منفرد طرزِ تعمیرکے باعث ’’پانچ کمروں کی حویلی‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا اور اُسے اُس وقت مزید شہرت ملی، جب پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، لیاقت علی خان کے بڑے صاحب زادے ولایت علی خان نے اس حویلی کا افتتاح کیا۔
نقش ونگار سے آراستہ اس حویلی کی ایک اور وجۂ شہرت یہ تھی کہ پہلی منزل پر عمارت کے درمیان قومی پرچم لہرانے کی مستقل جگہ بنائی گئی۔ جہاں14 اگست اور یگرقومی و ملّی تقریبات کے موقعے پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جاتا۔ صدر دروازے کے دونوں جانب بڑے بڑے تخت بچھائے گئے، جن پر اہلِ محلہ براجمان ہو کر روزنامہ جنگ کا مطالعہ اور حالات پر بحث مباحثہ کرتے۔
پانچوں بھائیوں میں سے صرف میرے والد صاحب ہی نے مڈل کلاس تک تعلیم حاصل کی تھی، لہٰذا وہی سب کواخبار کی خاص خاص خبریں پڑھ کر سنایا کرتے۔ میرے تایا،عبدالعزیز انتہائی سادہ لوح انسان اور میرے والد کی طرح فنِ باغ بانی کے ماہر تھے۔ میرے بڑے چچا عبدالحکیم اسٹیٹ بینک میں ملازم ، جب کہ ان سے چھوٹے عبدالحفیظ سرکاری ٹھیکے دار تھے اور سب سے چھوٹے چچا عبدالکریم پرچون کے کاروبار سے وابستہ تھے۔
میرے والد صوم وصلوٰۃ کی سختی سے پابندی کرتے، اُن کی ایمان داری ودیانت داری کی لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔ بلاشبہ، یہ اُن ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ مَیں نے چھے برس کی عُمر ہی سے باقاعدہ باجماعت نماز کی ادائی شروع کردی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں جب مَیں والد صاحب کے ساتھ بالخصوص عشاء کی نماز پڑھنے مسجد جاتا ،تو اکثر نماز کے درمیان سوجاتا تھا اور نماز کے بعد وہ مجھے اپنے کاندھے پر سوار کرکےگھر لاتے، میری چپلیں اُن کے ہاتھ میں ہوتی تھیں۔1960ء کی دہائی میں گولی مار کے بڑے بازار میں والد صاحب کی پرچون کی دُکان ہوا کرتی تھی۔
مَیں بھی کبھی کبھی دُکان پر چلاجاتا تھا اور اُنہیں بغور دیکھا کرتا کہ وہ کس طرح گاہکوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ ہماری دُکان کے دائیں جانب عبدالغفور صاحب اور بائیں جانب ایک سخت مزاج بزرگ کی لہسن، پیازکی دکان تھی۔ وہ اہلِ خانہ پر اپنے رعب دبدبے کی باتیں مرچ مسالا لگاکر سُناتے تھے کہ مجھے مغرب کے فوراً بعد کھانا مل جانا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔
چاچا عبدالغفور، والد صاحب کے بڑے گہرے دوست تھے، اسی بازار میں کچھ فاصلے پر میرے چچا عبدالکریم کی بھی پرچون کی دُکان تھی، جس کے بائیں جانب عبدالشکور کی بڑی سی دُکان تھی، جس کے سامنے ستّر، اسّی سال کی ایک بزرگ خاتون چنوں، پکوڑوں، آلو کے قتلوں کی چھوٹی سی ریڑھی لگاتی تھیں، اُن کا ایک زبردست اور منہگا آئٹم انتہائی پتلا اور بیسن سے بنا ’’ چلوا‘‘ ہوتا تھا، جو ہوتا تو ایک چھوٹی پلیٹ جتنا، مگربچّے اسے تہہ کرکے ایک ہی لقمے میں کھاجایا کرتے تھے۔ ضعیف خاتون اپنے ہاتھوں میں موٹے موٹے کڑے پہنے رہتی تھیں اورکام کے دوران کڑوں کے آپس میں ٹکرانے سے آنے والی چھن چھن کی آواز کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔
میرے والد سادگی و شرافت کا پیکرتھے۔وہ ایک ویلفیئرٹرسٹ کے سرپرست بھی تھے۔ مادرِ ملّت ،محترمہ فاطمہ جناح سے عقیدت کی بِنا پر1960ءکی دہائی میں ان کے دماغ میں سیاست میں حصّہ لینے کا سودا سمایا، تومادرِملّت کی حمایت میں بی ڈی ممبر کے انتخابات میں حصّہ لینے کا فیصلہ کیا۔
اس وقت ہمارے حلقے کی ایک سیٹ پر والد صاحب سمیت17امیدوار میدان میں تھے ، مگر چوں کہ حلقے میں ہمارے رشتے داروں کےچار پانچ سو گھر موجود تھے،تو لگتا تھا کہ والد صاحب کی جیت یقینی ہے۔ لیکن انتخابات کے دن ایک دودھ فروش امیدوار کے حامیوں نے صبح سویرے کالج کے طلبہ کی قطاریں لگواکر بوگس ووٹ ڈلوادیئے اورجب ہمارے حمایتی ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن پہنچے، تو معلوم ہوا کہ اُن کے نام کے ووٹ تو صبح سویرے ہی ڈالے جا چکے ہیں۔
والد صاحب کی اس شکست پر اُن سے زیادہ اہلِ محلہ کو افسوس ہوا۔ والد صاحب نے الیکشن پر اپنی ساری جمع پونجی لگادی تھی، پرچون کی دُکان بھی خالی ہوچکی تھی۔ لہٰذا انتخابات کے بعد بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا اور کچھ ہی عرصے بعد مسقط پہنچ گئے، جہاں وہ مسقط کے بادشاہ، سلطان قابوس کے شاہ جی محل میں باغات کی دیکھ بھال پر مامور ہوئے۔ والد صاحب پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے، لیکن وہاں کوئی مسجد نہ ہونے کی وجہ سے ہر شخص انفرادی طور پرنماز ادا کرتا، تو لہٰذا انھوں نے محل کے قریب ہی ایک چھوٹی سی جگہ پر مسجد بنا کر امامت شروع کردی۔
اُن کے اس اقدام کی جب بادشاہ سلطان قابوس کو خبر ہوئی، تو انہوں نے والد صاحب کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اورباغ کے قریب ہی ایک شان دار مسجد تعمیر کرکے والد صاحب کو وہاں کا امام مقرر کردیا اور باغوں کی نگرانی پر ایک اور شخص کو مامور کردیا۔ والد صاحب زندگی بھر اپنی اس شاہی ملازمت (امامت) کو یاد کرتے کہتے رہے کہ وہ میری زندگی کے یادگار دن تھے، جہاں مجھے زیادہ سے زیادہ عبادت کا موقع ملا۔
مسقط میں قیام کے دوران باقاعدگی سے مجھے خط تحریر کرتے، جس کا آغاز ’’راحتِ جاں‘‘ گلِ صنوبر خان، طویل عمر ہو‘‘ کے الفاظ سے ہوتا۔ مسقط سے ریٹائرمنٹ کے بعد واپس وطن لوٹے تو سرطان کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔ ہم نے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، مگر موت برحق ہے، اپنے وقت پر آتی ہی ہے۔ 19؍جولائی 2007ء کوانھوں نے اسپتال کے کمرے میں میرے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔
شام کو اپنے قدموں پر چل کے آپریشن تھیٹر تک گئے، مگر چند گھنٹے بعدہی اس دار فانی سے کُوچ کرگئے۔ وہ اپنے پوتوں اور پوتی سے حددرجہ محبت کرتے تھے، سب کی سال گرہ کا دن ضرور یاد رکھتے اور ہربچّے کی سال گرہ کے موقعے پر ایک ہار، ایک لفافہ اور ایک مٹھائی کا ڈبّا لاکر میری اہلیہ سے کہتے۔ ’’پروین! بچّوں کو تیار کردیا ہوتو لے آئو۔ ’’رسم‘‘ پوری کرلیتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے دُعاہے کہ وہ میرے والد کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے،ان کے درجات بلند فرمائے۔
(صنوبر خان ثانی، کراچی)