تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) واشنگٹن نے جمعرات کی شب بندرعباس ‘ بوشہر ‘ اہوازسمیت ایران کے مختلف مقامات کوپھر نشانہ بنایاہے‘فارس نیوز ایجنسی نے بندرخمیرمیں ایک پل پر مبینہ امریکی حملے کی اطلاع دی ہے‘تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق جنگی طیاروں نے ایران شہر ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کیا ہےجبکہ بندر عباس میںمواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب تہران نے خلیجی خطے کے ہمسایہ ممالک اردن‘ کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تازہ حملے شروع کر دیے ہیں ‘سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ہواز میں ایک ایسےاسپتال کے قریب حملہ ہوا جہاں بچوں کے کینسر کا مرکز قائم ہے ‘ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ قرار دیا ہے،ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ایران نے امریکی قیدی رہا کردئے ہیں،۔ وزیر خارجہ عباس کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں میں امریکا جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے‘ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیانے خبردارکیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایرانی سویلین ڈھانچے پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو ہماری مسلح افواج خطے میں موجود تمام انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گی ‘آبنائے ہرمز ہماری ریڈ لائن ہے اور واشنگٹن کواس میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے‘ جارحیت جاری رہی توجنگ کادائرہ دیگر میدانوں تک پھیلایاجائےگا۔ ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ ایران پہلے ہی حوثیوں کو پیغام دے چکاہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ باب المندب کو بند کر دیں۔ادھرحوثیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے ہمارے ملک کے خلاف مکمل جارحیت میں خود کو ملوث کیا اور کشیدگی کی طرف قدم بڑھایا تو سعودی عرب کی تمام تیل ودیگراہم تنصیبات ہمارے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ ہوں گی‘اب ہوائی اڈے کے بدلے ہوائی اڈہ‘ بندرگاہ کے بدلے بندرگاہ اور ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی ہوگی ۔وائٹ ہاؤس نے کہاہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے اب بھی تیار ہیں‘ لڑائی کے دوبارہ آغاز کے باوجود واشنگٹن اب بھی تہران سے بات چیت کر رہا ہےجبکہ صدر ٹرمپ نے پاسدارانِ انقلاب کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ تہران بہت شدت سے سمجھوتا کرنا چاہتا ہے‘ہم انہیں جلدشکست دے دیں گے۔