• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

GSP پلس مراعات، پاکستان کی کئی شعبوں میں بہتری کے بجائے صورتحال خراب، مثبت تبدیلیاں انتہائی محدود، یورپی یونین کی رپورٹ

اسلام آباد(مہتاب حیدر/ تنویر ہاشمی)یورپی یونین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایس پی پلس مراعات پر پاکستان کی کئی شعبوں میں کارکردگی  بہتری کے بجائے تنزلی کا شکار رہی، صورتحال خراب  رہی۔ 27کنونشنز کا معائنہ، مثبت پیش رفت محدود رہی، 2024 میں پاکستان کو 732 ملین یورو ٹیرف چھوٹ ملی ۔ اقلیتی کمیشن ، سزائے موت دائرۂ کار ، انسدادِ تشدد قانون نفاذ، مزدور حقوق، بچوں سے مشقت شعبوں میں پیشرفت ، انسانی حقوق، اظہارِ رائے اور قانون کی حکمرانی پر تشویش، جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات کی سفارش کی گئی۔ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا معائنہ کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی جی ایس پی پلس ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں مسائل کا سامنا ہے۔ کئی شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی میں تنزلی دیکھی گئی، جبکہ مثبت پیش رفت محدود رہی۔جمعرات کو یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سے متعلق مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق پاکستان 2014 سے یورپی یونین کی پائیدار ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے خصوصی مراعاتی تجارتی اسکیم (GSP+) سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور وہ اس اسکیم کا سب سے بڑا مستفید ہونے والا ملک برقرار ہے۔ 2024 میں پاکستان کی جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کو برآمدات، جو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل تھیں، 7.5 ارب یورو رہیں۔

اہم خبریں سے مزید