• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم پی اے اے کا 20 ارب کا ای گیٹ ٹھیکہ روک دیں، ٹرانسپیرنسی

انصار عباسی
اسلام آباد :…ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے 20؍ ارب روپے مالیت کے ای گیٹ منصوبے کو فوری طور پر معطل کریں اور اس معاہدے کی مجوزہ منظوری میں سرکاری خریداری کے قوانین کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائیں۔ 16؍ جولائی کو وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے ایک خط میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ اسے ایک شکایت موصول ہوئی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004ء کے رول 42(f) کا غلط استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی اوپن مسابقتی ٹینڈرنگ کا عمل ترک کرکے منصوبہ ایک ہی نجی کمپنی کو دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ خط کے مطابق 2020ء میں اس وقت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ای گیٹس، بائیومیٹرک تصدیق اور پاسپورٹ کی تصدیق کے نظام کیلئے بین الاقوامی مسابقتی ٹینڈرز طلب کیے تھے، تاہم کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں 2024ء میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے دوبارہ اظہارِ دلچسپی طلب کیا، جس کے بعد تین کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، لیکن بعد میں اس مسابقتی عمل کو ترک کر کے رول 42(f) کے تحت ایک ہی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹی آئی پی نے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ رول 42(f) صرف غیر معمولی حالات، ہنگامی صورتحال، عوامی مفاد یا حکومت سے حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان خریداری کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاملے میں ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں ہوتی کیونکہ مجوزہ معاہدہ 24؍ ماہ کیلئے ہے اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بارڈر سیکورٹی جیسے پیچیدہ، حساس اور تکنیکی منصوبے کو مسابقتی عمل کے بغیر ایک نجی کمپنی کو کیوں دیا جا رہا ہے۔ خط میں متعلقہ کمپنی کی اہلیت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ ٹی آئی پی کے مطابق ابتدائی جانچ سے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کمپنی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہے، سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن رکھتی ہے یا پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ ہے، جبکہ ایسے منصوبوں کیلئے یہ تمام تقاضے لازمی ہیں۔ خط کے مطابق، جنوری 2026ء میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے مقرر کیے گئے کنسلٹنٹس نے بھی سفارش کی کہ رول 42(f) استعمال کرتے ہوئے صرف اسی کمپنی کو ٹینڈر جاری کیا جائے، جسے ٹی آئی پی نے آزادانہ جانچ کا متقاضی قرار دیا ہے۔ ادارے نے ایک غیر ملکی کمپنی کی جانب سے مسافروں کی معلومات اور پیسنجر نیم ریکارڈ سسٹم سے متعلق پیش کردہ غیر مطلوبہ تجویز کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ تجویز قبول کی گئی تو مسافروں پر سیکیورٹی سرچارج کی مد میں سالانہ 50؍ ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی پی آر اے کے قواعد سے ہٹ کر ایسی غیر مطلوبہ تجاویز پر غور کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے۔ ٹی آئی پی کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں شکایت میں عائد کردہ الزامات میں وزن معلوم ہوتا ہے، لہٰذا تحقیقات مکمل ہونے تک خریداری کے اس پورے عمل کو فوری طور پر معطل کرنا چاہئے۔ ادارے نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات میں بے ضابطگیوں کی تصدیق ہونے پر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو پی پی آر اے قواعد کے مطابق شفاف اور کھلے بین الاقوامی مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے منصوبہ آگے بڑھانے کا پابند بنایا جائے اور خلاف ورزی میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی کی جائے۔
اہم خبریں سے مزید