• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبائی کوٹہ کی خلاف ورزی، سروش لودھی نے ڈاکٹر نیاز سے وضاحت مانگ لی

کراچی (سید محمد عسکری) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (SHEC) کے نمائندے اور چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر سروش حشمت لودھی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان میں اہم پالیسی ساز عہدوں پر تقرریوں کے لیے صوبائی کوٹہ سسٹم کی مبینہ خلاف ورزی پر ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ چیرمین ایچ ای سی کو لکھے گئے ایک سرکاری مراسلے میں، جو ایچ ای سی کمیشن کے 47ویں اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 5 کے تناظر میں ارسال کیا گیا، پروفیسر سروش لودھی نے یاد دلایا کہ کمیشن کے حالیہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ممبر اسٹریٹجک پلاننگ، ممبر کوالٹی ایشورنس، ممبر ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن سمیت اہم عہدوں پر تقرری کے لیے ابتدا میں اشتہار صوبائی کوٹے کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ایک کوریجنڈم کے ذریعے ان آسامیوں کو اوپن میرٹ قرار دے دیا گیا، جو ان کے مطابق صوبائی کوٹہ سسٹم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پروفیسر لودھی نے خط میں لکھا کہ وہ ایچ ای سی آرڈیننس 2002 کی دفعہ 6(1)(d) کے تحت کمیشن کے رکن کی حیثیت سے جاننا چاہتے ہیں کہ صوبائی کوٹے کو اوپن میرٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کس قانونی بنیاد پر کیا گیا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ کمیشن کے اجلاس کے دوران چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مشورے پر کیا گیا۔ اس لیے اگر واقعی ایسا ہے تو وزارت کی تحریری ہدایت یا مشاورتی دستاویز کمیشن کے ارکان کے ساتھ شیئر کی جائے۔ خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وفاقی ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم مکمل قانونی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 27 کے تحت تحفظ یافتہ ہے، وفاقی حکومت کے باضابطہ فیصلوں سے منظور شدہ ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ آفس میمورنڈمز کے ذریعے نافذ العمل ہے اور ایسٹاکوڈ (Estacode) کا حصہ بھی ہے، جو وفاقی ملازمتوں کے قواعد و ضوابط کا بنیادی مجموعہ تصور کیا جاتا ہے۔ پروفیسر سروش ھشمت لودھی نے خط میں مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر جلد از جلد تحریری جواب دیا جائے تاکہ ان کا مؤقف کمیشن کے اجلاس کے منٹس کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس مراسلے کی نقول وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی سیکریٹری تعلیم اور چیئرپرسن سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ یار رہے کہ ایچ ای سی) میں چار اہم عہدوں پر تقرریوں کے عمل میں کوٹے کی سنگین خلاف ورزی کی خبر روزنامہ جنگ اور دی نیوز نے 29 جون کو بریک کی تھی۔
اہم خبریں سے مزید