• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

FPCCI عہدیداروں پر تجارتی وفد کے نام پر انسانی اسمگلنگ اور ویزے فروخت کا الزام

کراچی ( سہیل افضل ) ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں پر تجارتی وفد کے نام پر انسانی اسمگلنگ اور ویزے فروخت کرنے کا الزام، ایک اہم دوست ملک کی درخواست پر حکومت پاکستان نےایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی، ایف پی سی سی آئی کی قیادت کا اعلیٰ حکومتی شخصیت سے رابطہ ، معاملے کی خود تحقیقات اور کاروائی کی یقین دہانی ،ایف آئی اے کو کاروائی سے روکنے کی استدعا، تفصیلات کے مطابق ایف پی سی سی آئی میں خواتین کے ایک تجارتی وفد کو ایک دوست ملک میں بھیجنے کے نام پر 2 درجن کے قریب ویزے فروخت کرنے اسکینڈل سامنے آیا ہے ،ذرائع کے مطابق تجارتی وفد کے ہر رکن سے 30 لاکھ روپے وصول کر کے ان کے ویزے لگائے گئے ، تاہم 2 خواتین کے ویزے مسترد ہو گئے تو انھوں نے پیشگی ادا شدہ رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر انھیں نصف رقم ادا کی گئی اور بقیہ رقم دینے سے انکار کر دیا گیا ،رقم کی واپسی کا تنازعہ بڑھا تو دونوں متاثرہ خواتین نے متعلقہ سفارت خانے سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا ،سفارت خانے نے معاملے کی تحقیقات شروع کی تو یہ بات سامنے آئی کہ ایف پی سی سی آئی کے نام پرویزے فروخت کئے گئے جس پر تمام ویزے منسوخ کر کے حکومت پاکستان کو معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کے لئے خط لکھ دیا گیا، ایف پی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کو صورتحال کا علم ہوا تو وہ بدنامی کے خوف سے معاملے کو دبانے کے لئے ایک اعلیٰ اور طاقتور شخصیت کے پاس پہنچ گئے اور انھیں یقین دلایا کہ وہ خود اس کی تحقیقات کر کے آپ کو آگاہ کریں گے ،ذرائع کے مطابق ایف پی سی سی آئی کی قیادت ایک ویمن چیمبرز کو اس اسکینڈل کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے ،تاہم تاحال اسکینڈل کا ذمہ دار کون ہے اس کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔جب جنگ نے اس  سلسلے میں موقف کیلیے  ایف پی پی سی سی آئی  کے مختلف عہدیداروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔

اہم خبریں سے مزید