کراچی (سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام “عالمی سطح پر تحقیقی اثر و رسوخ کے جشن اور قومی جدت طرازی کے لیے مؤثر راستوں کے استحکام” کے موضوع پر تقریب منعقد ہوئی، گورنر سندھ نہال ہاشمی، صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد، سابق چیرمین ڈاکٹر عطاالرحمنٰ، جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو، ایچ ای سی کے کمیشن رکن حبیب علی بخاری اور مشیر برائے تحقیق ڈاکٹر محمد ناصر نے خطاب کیا، گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب مسلمان علم و تحقیق سے وابستہ تھے تو دنیا میں قیادت ان کے ہاتھ میں تھی، لیکن تحقیق سے دوری نے قوموں کو زوال سے دوچار کیا، اسماعیل راہو نے کہا کہ سائنس دانوں اور محققین کا بنیادی کام نئی ایجادات اور دریافتیں کرنا ہے، جب مسلم معاشرہ علم اور تحقیق سے دور ہوا تو ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ گیا، ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ تحقیق کا اصل مقصد صرف تحقیقی مقالات شائع کرنا نہیں بلکہ اس کے اثرات معاشرے میں نمایاں ہونا چا ہئیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کی غیر معمولی رفتار نے تعلیم، تدریس اور تحقیق کے روایتی طریقۂ کار کو تبدیل کر دیا ہے،اساتذہ اور محققین کو بھی اپنے طریقۂ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، انہوں نے بتایا کہ صوبے کی جامعات میں تقریباً 62 ہزار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 40 فیصد پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہیں، ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہا کہ گزشتہ 8 برس ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے جامعات کی کارکردگی خراب ہو گئی اور یہ جامعات اب کالجز بن چکی ہیں اور کچھ عرصہ مزید ان پر توجہ نہ دی گئی تو یہ اسکولز بن جائیں گی۔