تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) امریکا نے ایران پر حملوں کا دائرہ مزید وسیع کردیا جبکہ تہران کا دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائیوں میں کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے‘ایرانی وزارت صحت کے مطابق ایران پر حالیہ حملوں دوران اب تک 53 افراد شہیدہو چکے ہیں۔بلغاریہ نے امریکی فوج کو اپنا اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جب بھی تہران آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنائے گا امریکا ایران کے ایک پل یا پاور پلانٹ کو تباہ کرے گا‘ان میں وہ تنصیبات بھی شامل ہوں گی جو تہران کے قریب یا تہران شہر کے اندر واقع ہیں‘جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں‘ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا‘ واشنگٹن اب بھی مذاکرات پر آمادہ ہے لیکن تہران سنجیدہ نہیں‘ بعض معاملات میں چین نے ایران کے حوالے سے تعاون کیا ہے۔دوسری جانب ایران کے فوجی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی پلوں یا پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو تہران خطے میں امریکا سے منسلک انفراسٹرکچر جیسے پلوں اور توانائی کے مراکز کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا ہے کہ ہماری دفاعی حکمتِ عملی بالکل واضح ہے‘اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا‘ ہمارے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا انتہائی طاقتور اور فیصلہ کن ردعمل کا سبب بنے گا۔ دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی دھمکیوں کا جنگ میں پھیلاؤ کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ پاسداران کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ماجد موسوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے پلوں یا پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو تہران خطے میں موجود امریکی اتحادی ممالک کی بجلی کی فراہمی منقطع کردے گا جبکہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ جنگ یا تومکمل طورپر ختم ہوگی یا پھر پوراخطہ لپیٹ میں آئے گا‘جس خطے میں ہم اپنا تیل نہیں بیچ سکیں گے وہاں کوئی بھی ملک تیل نہیں بیچ سکے گا۔ اگر ہماری سلامتی اور سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جاتی تو کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔ادھرحوثیوں نے بحری محاصرے کے حوالے سےبدھ کو جہازوں کو ریڈیو پر انتباہی پیغامات بھیجے ہیںجس کے بعدبحیرہ احمر میں مزید چار آئل ٹینکروں نے اپنا راستہ بدل لیاجبکہ یورپی یونین کی بحری فورس نے اسرائیل‘ امریکا اور سعودیہ سے منسلک تجارتی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے راستے سفر سے گریز کریں‘ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق امریکی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔علاوہ ازیں ایران نے بدھ کے روز کلنگ پہاڑ پر کسی بھی خفیہ ایٹمی کمپلیکس کی موجودگی کی ایک بار پھر تردید کی ہے۔ تفصیلات کےمطابق حوثی جنگجوؤں کی دھمکی کے اثرات ٹینکرز کی نقل و حرکت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ متعدد ٹینکرز، جنہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے تیل لوڈ کیا تھا، جنوب میں باب المندب کی بجائے نہر سویز کی طرف مڑ گئے ہیں جبکہ دیگر مزید ہدایات کے انتظار میں اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں۔