• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

FPSC نے CSS میں نوجوانوں کی دلچسپی کم ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

اسلام آباد (اے پی پی، جنگ نیوز) فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس (CSS) میں نوجوانوں کی دلچسپی کم ہونے کی خبروں کو مسترد کر دیا،جبکہ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ کمیشن اپنے ہی عوامی سطح پر دستیاب سرکاری اعداد و شمار کی نفی کررہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے واضح کیا ہے کہ سی ایس ایس میں نوجوانوں کی دلچسپی برقرار ہے اور اسکریننگ ٹیسٹ (ایم پی ٹی) 2025 کیئے رجسٹریشن گزشتہ پانچ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ایف پی ایس سی کے ترجمان نے سول سروسز میں نوجوانوں کی عدم دلچسپی سے متعلق شائع ہونے والی حالیہ میڈیا رپورٹ کو بلاجواز اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی ایس ایس اسکریننگ ٹیسٹ 2025 کیلئے 64 ہزار 81 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی ہے، جو کہ 2022 کے مقابلے میں تقریبا 3.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سول سروس میں دلچسپی جانچنے کا سب سے معتبر اور حتمی پیمانہ اسکریننگ ٹیسٹ (ایم پی ٹی) ہی ہے، کیونکہ ہر امیدوار کیلئے تحریری امتحان میں بیٹھنے سے قبل اس مرحلے سے گزرنا لازمی ہوتا ہے۔ دوسری جانب انصار عباسی کا کہنا ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی جانب سے جاری کردہ وضاحت اس کے اپنے سرکاری ویب سائٹ پر اب بھی دستیاب سرکاری اعداد و شمار سے متصادم ہے۔ میری خبر میں شامل کیے گئے اعداد و شمار کسی غیر سرکاری ذریعے یا ذاتی اندازے پر مبنی نہیں تھے، بلکہ براہِ راست ایف پی ایس سی کی اپنی ویب سائٹ سے حاصل کیے گئے تھے، جہاں سی ایس ایس ریکروٹمنٹ اینالیٹکس 2022 تا 2025 کے تحت یہ اعداد و شمار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایف پی ایس سی کی ویب سائٹ کے مطابق رجسٹرڈ امیدواروں کی تعداد کچھ اس طرح ہے: 2022 میں 32059، 2023میں 28024، 2024 میں 23100 اور 2025 میں 18139۔ اسی طرح امتحانات میں شرکت کرنے والے امیدواروں کی تعداد یہ درج ہے:2022 میں 20262، 2023 میں 13008، 2024میں 15602 اور 2025میں 12792۔ یہی اعداد و شمار میری خبر میں پیش کیے گئے تھے اور یہ اب بھی ایف پی ایس سی کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ لہٰذا، میری خبر کمیشن کی جانب سے شائع کردہ سرکاری معلومات کی درست عکاسی کرتی ہے۔ اگر ایف پی ایس سی اب یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ یہ اعداد و شمار غلط یا نامکمل ہیں تو اسے چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر موجود معلومات کو اپ ڈیٹ یا درست کرے، اس کے بعد ہی ایسی خبر پر اعتراض کرے جس میں کمیشن کی اپنی شائع کردہ معلومات کو من و عن نقل کیا گیا ہے۔ لہٰذا، ایف پی ایس سی کی یہ وضاحت اس کے سرکاری عوامی ریکارڈ اور بعد میں اختیار کیے گئے مؤقف کے درمیان ایک واضح عدم مطابقت کو ظاہر کرتی ہے۔
اہم خبریں سے مزید