کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، بھارتی دھمکیاں حقائق کو نہیں بدل سکتیں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتےہوئے ایکس پر پوسٹ کئے گئے بیان میں کہا کہ زبردستی پر مبنی اور دھمکی آمیز بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی بھارتی کی مسلسل کوششیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست اور عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے،سلامتی کے دفاع کا عزم حتمی اور غیر متزلزل ہے، بھارت اسے آزمانے کی غلطی کبھی نہ کرے، بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات مسترد کرتے ہیں۔انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ آزاد کشمیر کے علاوہ اور کسی موضوع پر بات نہیں ہو گی،اسلام آباد نے ہماری خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی تو ہماری افواج منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان پر کہا کہ پاکستان، بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ اس طرح کے بیانات سیاسی بیان بازی اور زبردستی کے رویے کے ذریعے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک مسلسل کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ نہ تو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی علاقائی امن، استحکام یا معنی خیز مذاکرات میں کوئی تعاون پیش کرتے ہیں۔جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع قائم ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کی گئی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی بار بار کی جانے والی کوششیں، ریاست کی سرپرستی میں جاری اس کی اپنی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے ٹھوس ریکارڈ کی روشنی میں مکمل طور پر ناقابلِ اعتبار ہیں۔ درحقیقت، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست اور عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے، جس نے اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے پورے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اسی طرح بھارت کی یہ غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی انتہائی تشویشناک ہے، جو خطے میں بین الریاستی تنازعات کے خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا اس کا عزم حتمی اور غیر متزلزل ہے، جسے آزمانے کی غلطی کبھی نہیں کی جانی چاہیے۔بھارتی وزیرِ دفاع کی یہ زبردستی کی بیان بازی دراصل بھارت کی اندرونی کشیدگی، بڑھتی ہوئی بے چینی اور مودی کی آمرانہ و تفرقہ انگیز طرزِ حکومت کے خلاف عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔قبل ازیں کارگل وار میموریل پر اپنے خطاب میں، بھارتی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ "آپریشن سندور" نے واضح طور پر یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کو دہشت گردی سے ڈرانے کی کوشش کرنے والوں کا کیا انجام ہوگا، اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک پاکستان کی کسی بھی غلط مہم جوئی کا ایسا جواب دے سکتا ہے جس کی شدت "ان کے وہم و گمان سے بھی پرے" ہوگی۔اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے ارادے واضح ہیں۔ "پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔"وزیر دفاع نے کہا، "اگر بات چیت ہوگی تو وہ صرف پاک آزاد کشمیر پر ہوگی، جو بھارت کا وہ حصہ ہے جس پر اس نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔"سنگھ نے مزید کہا کہ کارگل جنگ کو 27 سال بیت چکے ہیں، اور بھارت اور پاکستان کی اختیار کردہ راستے اب بالکل مختلف ہو چکے ہیں۔سنگھ نے کہا، "جہاں بھارت جدت طرازی کے نئے راستے تلاش کر رہا ہے، وہاں پاکستان گھس بیٹھ کے نئے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اپنے عزائم سے ہماری خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، تو ہماری افواج منہ توڑ جواب دینے کے لئےتیار کھڑی ہیں۔